Vinkmag ad

آٹو لوگس سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ

Hematologist preparing patient for autologous stem cell transplant in hospital setting

آٹو لوگس سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ (Autologous stem cell transplant) ایک ایسا میڈیکل پروسیجر ہے جس میں مریض کے اپنے جسم سے حاصل کردہ خون کے صحت مند سٹیم سیلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ پروسیجر کا مقصد خراب یا غیر فعال بون میرو کو دوبارہ بحال کرنا ہوتا ہے۔ اسے آٹو لوگس بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی کہا جاتا ہے۔

اس طریقے میں چونکہ مریض کے اپنے خلیے استعمال ہوتے ہیں، لہٰذا ڈونر کے ساتھ عدم مطابقت یا ری ایکشن کا خطرہ نہیں ہوتا۔ یہ اسے نسبتاً محفوظ آپشن بناتا ہے۔ یہ طریقہ تب استعمال کیا جاتا ہے جب جسم میں کافی صحت مند سٹیم سیلز  موجود ہوں، جنہیں پہلے جمع، محفوظ اور بعد میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔

کیوں کیا جاتا ہے

یہ ٹرانسپلانٹ عام طور پر ان مریضوں میں کیا جاتا ہے جنہیں کینسر یا دیگر سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے زیادہ مقدار میں کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان امراض کا علاج بون میرو کو شدید نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ آٹو لوگس سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ اس نقصان کی تلافی کرتے ہوئے خون بنانے والے نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

آٹو لوگس سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ زیادہ تر درج ذیل بیماریوں کے علاج میں استعمال ہوتا ہے:

٭ ہاجکنز لیمفوما

٭ مائیلوما

٭ نان ہاجکنز لیمفوما

٭ پلازما سیل کی خرابیاں

طریقہ کار

اس پروسیجر میں مریض کو کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ اس کا مقصد سٹیم سیلز کو جمع کرنا، علاج کے لیے جسم کو تیار کرنا اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں منتقل کرنا ہوتا ہے۔

٭ سب سے پہلے ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو جسم میں سٹیم سیلز کی پیداوار بڑھاتی ہیں۔ یہ انہیں بون میرو سے خون میں منتقل کرتی ہیں تاکہ انہیں (سٹیم سیلز کو) آسانی سے جمع کیا جا سکے

٭ اس کے بعد خون سے سٹیم سیلز نکالنے کے لیے بازو کی رگ میں سوئی لگائی جاتی ہے۔ ایک مشین ان خلیوں کو الگ کرتی ہے جبکہ باقی خون دوبارہ جسم میں واپس کر دیا جاتا ہے۔ حاصل شدہ سٹیم سیلز کو محفوظ کرنے کے لیے فریز کر لیا جاتا ہے

٭ اس کے بعد مریض کو زیادہ مقدار میں کیموتھراپی یا کبھی ریڈی ایشن دی جاتی ہے تاکہ کینسر کے خلیات کو ختم کیا جا سکے۔ اس مرحلے میں سائیڈ ایفیکٹس کا خطرہ موجود ہوتا ہے

٭ آخر میں محفوظ کیے گئے سٹیم سیلز  دوبارہ جسم میں داخل کیے جاتے ہیں جو بون میرو تک پہنچ کر خون کے نئے خلیے بنانا شروع کر دیتے ہیں

ٹرانسپلانٹ کے بعد سائیڈ ایفیکٹس پر نظر رکھنے کے لیے مریض کو طبی نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ اس دوران جسم کے ردعمل کا مسلسل جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=hematologist

Vinkmag ad

Read Previous

ٹخنے کی سرجری: شدید آرتھرائٹس کا مؤثر علاج

Read Next

جاگتے ہوئے دماغ کی سرجری

Leave a Reply

Most Popular