ٹخنے کی سرجری (Ankle surgery) آرتھرائٹس کے اس مرحلے میں کی جاتی ہے جب درد اور حرکت میں کمی کا مسئلہ عام نان سرجیکل علاج سے بہتر نہ ہو۔ ان طریقوں میں فزیوتھراپی، ادویات اور سپورٹیو شوز یا بریس شامل ہوتے ہیں۔
سرجری کی نوعیت آرتھرائٹس کی قسم، جوڑ کی حالت اور روزمرہ زندگی پر اثرات کے مطابق طے کی جاتی ہے۔ عام طور پر دو بنیادی طریقے، ٹخنے کی ہڈیوں کو مستقل طور پر جوڑ دینا یا مصنوعی جوڑ کی تنصیب استعمال ہوتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
ٹخنے کی سرجری اس وقت کی جاتی ہے جب دیگر علاج درد میں کمی اور حرکت میں بہتری پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔
ٹخنے کا جوڑ تین ہڈیوں کے ملنے سے بنتا ہے:
٭ پنڈلی کی ہڈی، جسے ٹبیا کہا جاتا ہے
٭ نچلی ٹانگ کی چھوٹی بیرونی ہڈی، جسے فائبولا کہا جاتا ہے
٭ پاؤں کے اوپر موجود ہڈی، جسے ٹالس (talus) کہا جاتا ہے، جو ٹانگ کی ہڈیوں سے جڑتی ہے
ان ہڈیوں کے سروں پر کارٹیلیج موجود ہوتا ہے جو ہموار حرکت کو ممکن بناتا ہے۔ جوڑ کے گرد سائنووئم نامی جھلی ہوتی ہے جو رگڑ کم کرنے والا مائع پیدا کرتی ہے۔
ٹخنے میں آرتھرائٹس کی عام اقسام درج ذیل ہیں:
٭ پوسٹ ٹرامیٹک آرتھرائٹس، جو چوٹ یا فریکچر کے بعد کارٹیلیج کے ٹوٹنے سے پیدا ہوتا ہے
٭ روماٹائڈ آرتھرائٹس، جس میں مدافعتی نظام جوڑ کی جھلی پر حملہ کرتا ہے۔ اس سے وقت کے ساتھ ہڈیوں کی ساخت متاثر ہو سکتی ہے
علاج کے بنیادی مقاصد
ٹخنے کا فیوژن (آرتھر وڈیسس)
یہ درد کو ختم کرنے کے لیے جوڑ کی حرکت کو مستقل طور پر روک دیتا ہے۔ اس عمل میں ہڈیاں ایک ساتھ جڑ کر مضبوط ہڈی بن جاتی ہیں۔ ٹالس کو ٹانگ کی ایک یا دونوں ہڈیوں سے جوڑا جا سکتا ہے۔
ٹخنے کی تبدیلی (آرتھرو پلاسٹی)
اس کا مقصد درد میں کمی کے ساتھ مصنوعی جوڑ کے ذریعے حرکت کو بہتر کرنا ہوتا ہے۔
ممکنہ خطرات اور پیچیدگیاں
ٹخنے کی سرجری میں عمومی یہ پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں:
٭ لیگامینٹس میں تبدیلی، جس سے ٹخنا سخت یا غیر مستحکم ہو سکتا ہے
٭ اعصابی نقصان جس سے سن ہونا، کمزوری یا درد پیدا ہو سکتا ہے
٭ زخم یا جوڑ میں انفیکشن
٭ خون کے کلاٹ جو خون کی روانی متاثر کر سکتے ہیں
فیوژن سے متعلق اضافی خطرات
٭ ہڈیوں کا مکمل طور پر نہ جڑنا
٭ غلط سیدھ، جس سے چلنے اور حرکت میں مشکل ہو سکتی ہے
٭ پاؤں میں آرتھرائٹس کا بڑھنا
٭ ہڈیوں میں لگے پیچ کا ٹوٹ جانا
تبدیلی سے متعلق خطرات
٭ زخم کا دیر سے بھرنا یا انفیکشن
٭ مصنوعی جوڑ کا ہڈی سے ڈھیلا ہونا
٭ مسلسل درد کا برقرار رہنا
نتائج بہتر نہ ہونا
کچھ حالات میں سرجری کا نتیجہ بہتر نہیں ہوتا، جن میں شامل ہیں:
٭ کمزور لیگامینٹس
٭ شدید طور پر ٹیڑھی ہڈیاں
٭ ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کا کنٹرول میں نہ ہونا
٭ ذیابیطس یا دیگر بیماریوں سے اعصابی نقصان
٭ آسٹیوپوروسس کے باعث کمزور ہڈیاں
٭ موٹاپا
٭ تمباکو نوشی
سرجری کی تیاری
ڈاکٹر کچھ ادویات اور سپلیمنٹس سرجری سے پہلے روکنے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ مریض کو ہدایت دی جاتی ہے کہ سرجری سے ایک دن پہلے آدھی رات کے بعد کچھ نہ کھائے۔
بحالی کی تیاری وقت سے پہلے ضروری ہوتی ہے کیونکہ سرجری کے بعد کئی ہفتے بیساکھی یا واکر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ گھر واپسی اور روزمرہ مدد کا انتظام بھی ضروری ہوتا ہے۔
گھر کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات
٭ نچلی منزل پر رہائش کا انتظام تاکہ سیڑھیاں استعمال نہ کرنی پڑیں
٭ مضبوط کرسی اور آرام دہ نشست کا انتظام
٭ ٹانگ بلند رکھنے کے لیے سٹول اور تکیے رکھنا
٭ ٹوائلٹ سیٹ رائزر کا استعمال
٭ باتھ روم میں حفاظتی سہارے یا ہینڈریل لگانا
٭ شاور کے لیے مضبوط بینچ یا کرسی رکھنا
٭ فرش سے قالین اور تاریں ہٹانا
سرجری کا طریقہ کار
سرجری سے پہلے مریض کو ہسپتال کا مخصوص لباس پہنایا جاتا ہے۔ اسے جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے تاکہ وہ نیند جیسی حالت میں چلا جائے۔
ٹخنے کے فیوژن میں سرجن کارٹیلیج اور سائنووئم ہٹا کر ہڈیوں کی سطح کو کھردرا کرتا ہے۔ وہ انہیں پیچ، پلیٹس یا پن کی مدد سے جوڑ دیتا ہے تاکہ وہ وقت کے ساتھ ایک ہڈی بن جائیں۔
ٹخنے کی تبدیلی میں خراب ٹشو ہٹانے کے بعد ہڈی کا کچھ حصہ نکالا جاتا ہے۔ اس کی جگہ مصنوعی جوڑ نصب کیا جاتا ہے جو ہڈیوں سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
سرجری کے بعد بحالی
ہسپتال میں بحالی کے دوران توجہ درج ذیل امور پر ہوتی ہے:
٭ ادویات اور برف کی ٹکور کی مدد سے درد کا مؤثر انتظام
٭ فزیوتھراپی کے ذریعے بیساکھی یا واکر کے ساتھ چلنا سکھانا
٭ روزمرہ سرگرمیوں کے لیے آکوپیشنل تھراپی
٭ ٹخنے کو اونچا رکھ کر سوجن کم کرنا
٭ خون کی گردش بہتر بنانے کے لیے حرکت اور سپورٹ سٹاکنگ
٭ سانس کی مشقیں تاکہ پھیپھڑوں کی صفائی برقرار رہے
گھر واپسی کے بعد مریض کاسٹ، بریس یا بوٹ استعمال کرتا ہے۔ فالو اپ میں ڈاکٹر وزن ڈالنے اور معمول کی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہیں۔ مکمل بحالی میں 4 سے 12 ماہ لگ سکتے ہیں۔
نتائج اور توقعات
ٹخنے کی فیوژن اور ٹخنے کی تبدیلی، دونوں درد میں نمایاں کمی اور روزمرہ حرکت میں بہتری کا سبب بنتی ہیں۔ فیوژن کے بعد حرکت محدود رہتی ہے جبکہ تبدیلی میں نسبتاً زیادہ حرکت ممکن ہوتی ہے۔
مریض بحالی کے بعد ہلکی سرگرمیوں جیسے پیدل چلنا، سائیکلنگ، تیراکی اور ہلکی ورزش کر سکتے ہیں۔ تاہم دوڑنے یا چھلانگ لگانے جیسے ہائی امپیکٹ کھیلوں سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔
تحقیقات کے مطابق دونوں طریقوں کے نتائج اور پیچیدگیوں کی شرح میں کوئی واضح فرق ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے علاج کا انتخاب مریض کی انفرادی طبی حالت اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic