Vinkmag ad

الرجی کے لیے سکن ٹیسٹ

A patient undergoing an allergy skin test on the arm while a healthcare professional applies allergen samples for diagnosis of allergic reactions.

الرجی کے لیے سکن ٹیسٹ (Allergy skin test) میں جلد کے قریب ایسے مشتبہ مادے لائے جاتے ہیں جو الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ انہیں الرجنز کہا جاتا ہے۔ جلد پر ان کے ری ایکشن کی علامات دیکھی جاتی ہیں۔ یہ ٹیسٹ اس بات کی تصدیق میں مدد دیتا ہے کہ سانس کے ذریعے، چھونے یا کھانے سے وہ چیز علامات کا سبب تو نہیں بن رہی۔

کیوں کیا جاتا ہے

ان ٹیسٹوں کے نتائج کی بنیاد پر ڈاکٹر علاج کا منصوبہ تیار کرتا ہے۔ اس میں الرجنز سے بچاؤ، ادویات یا الرجی کے انجیکشن شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ الرجی کا سبب بننے والے ان امراض کی تشخیص میں استعمال ہوتے ہیں:

٭ نزلہ زکام یا الرجک رائنائٹس

٭ الرجک دمہ

٭ جلد کی سوزش یا ایگزیما

٭ خوراک سے متعلق الرجی

٭ پینسلین کی الرجی

٭ شہد کی مکھی کے زہر کی الرجی

ٹیسٹ کو زیادہ تر افراد کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم کچھ صورتوں میں اس سے گریز بھی کیا جاتا ہے۔ اگر مریض کو شدید الرجک ری ایکشن کی ہسٹری ہو تو الرجن کی معمولی مقدار بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کچھ ادویات جیسے اینٹی ہسٹامینز اور مخصوص اینٹی ڈپریسنٹس نتائج کو متاثر کر سکتی ہیں۔ بعض جلدی بیماریاں جیسے شدید ایگزیما یا سورائسز اور جلد کی غیر معمولی حساسیت بھی ٹیسٹ کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔

ایسے مریضوں کے لیے خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جنہیں اِن وٹرو امیونوگلوبلین ای اینٹی باڈی ٹیسٹ کہا جاتا ہے، تاہم یہ پینسلین الرجی کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔ عام طور پر جلدی ٹیسٹ ہوا میں موجود الرجنز جیسے پولن، دھول اور جانوروں کے بالوں کی الرجی کی تشخیص میں زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔ فوڈ الرجی کے لیے بعض اوقات اضافی ٹیسٹ درکار ہوتے ہیں۔

ممکنہ خطرات

سکن ٹیسٹ کا سب سے عام اثر جلد پر خارش والے سرخ اور ہلکے سوجے ہوئے دانے ہوتے ہیں۔ بعض افراد میں یہ علامات چند گھنٹوں بعد ظاہر ہو کر کچھ دن تک برقرار رہ سکتی ہیں۔ بہت کم صورتوں میں فوری اور شدید الرجک ردعمل بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہ ٹیسٹ ایسی جگہ کیے جاتے ہیں جہاں ایمرجنسی سہولیات موجود ہوں۔

ٹیسٹ کی تیاری

ٹیسٹ سے پہلے ڈاکٹر مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری، علامات اور علاج کے طریقے کے بارے میں تفصیلی معلومات لیتا ہے۔ اس کے ساتھ جسمانی معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ اضافی شواہد حاصل ہوں۔

ادویات ٹیسٹ کے نتائج کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اس لیے مریض سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی تمام ادویات کی فہرست فراہم کرے۔ بعض ادویات کو ٹیسٹ سے کئی دن پہلے بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ یا تو الرجک ری ایکشن کو دبا دیتی ہیں یا شدید ردعمل کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

٭ نسخے والی اینٹی ہسٹامینز

٭ عام دستیاب اینٹی ہسٹامینز

٭ ٹرائی سائیکلک اینٹی ڈپریسنٹس

٭ معدے کی تیزابیت کی کچھ ادویات

٭ دمے کی دوا

ٹیسٹ کا طریقہ کار

یہ ٹیسٹ عام طور پر کلینک میں کیا جاتا ہے، اور اس کا دورانیہ تقریباً 20 سے 40 منٹ ہوتا ہے۔ کچھ ٹیسٹ فوری طور پر الرجی ظاہر کرتے ہیں جو چند منٹ میں سامنے آ جاتی ہے۔ کچھ میں ردعمل کئی دن بعد ظاہر ہوتا ہے۔

سکن پرِک ٹیسٹ

اس ٹیسٹ میں تقریباً 50 مختلف مادوں کی بیک وقت جانچ کی جاتی ہے تاکہ پولن، دھول، جانوروں کے بالوں اور خوراک سے ہونے والی الرجی کی نشاندہی کی جا سکے۔ بالغ افراد میں یہ ٹیسٹ بازو پر اور بچوں میں عموماً کمر کے اوپری حصے پر کیا جاتا ہے۔

یہ طریقہ تکلیف دہ نہیں ہوتا کیونکہ سوئیاں صرف جلد کی سطح کو ہلکا سا متاثر کرتی ہیں اور خون نہیں نکلتا۔ جلد کو الکحل سے صاف کر کے نشانات لگائے جاتے ہیں۔ پھر ہر الرجن کا عرق جلد پر رکھا جاتا ہے۔ ایک بار استعمال ہونے والا لانسیٹ ہر مادے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لانسیٹ ایک چھوٹا سا طبی آلہ ہوتا ہے جو جلد کی اوپری سطح کو ہلکا سا چبھونے یا چھوٹا سا سوراخ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کی درستگی جانچنے کے لیے دو اضافی مادے بھی استعمال کیے جاتے ہیں:

٭ ہسٹامین جو زیادہ تر افراد میں واضح ردعمل پیدا کرتا ہے

٭ گلیسرین یا سیلائن جو عام طور پر کوئی ردعمل نہیں دیتے

اگر ہسٹامین پر ردعمل ظاہر نہ ہو تو ٹیسٹ کی درستگی مشکوک ہو سکتی ہے۔ اگر گلیسرین پر ردعمل آ جائے تو جلد کی حساسیت کا امکان ہوتا ہے۔ تقریباً 15 منٹ بعد جلد کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر الرجی موجود ہو تو سرخ، خارش والا ابھرا ہوا دانہ بن جاتا ہے۔

سکن انجیکشن ٹیسٹ

اس ٹیسٹ میں الرجن کی معمولی مقدار جلد کے اندر انجیکٹ کی جاتی ہے، اور تقریباً 15 منٹ بعد ردعمل دیکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر کیڑے کے زہر یا پینسلین الرجی کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

پیچ ٹیسٹ

یہ ٹیسٹ دیر سے ظاہر ہونے والی جلدی الرجی یعنی کانٹیکٹ ڈرماٹائٹس کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں سوئیاں استعمال نہیں ہوتیں۔ مختلف الرجنز پیچ پر لگا کر جلد پر چسپاں کیے جاتے ہیں جو تقریباً دو دن تک لگے رہتے ہیں۔ اس دوران نہانے اور زیادہ پسینہ آنے والی سرگرمیوں سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔ بعد میں پیچ ہٹا کر جلد کا معائنہ کیا جاتا ہے، اور کسی بھی جلن یا سوزش کو الرجی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

نتائج

سکن پرِک اور انجیکشن ٹیسٹ کے نتائج عام طور پر فوری طور پر مل جاتے ہیں، جبکہ پیچ ٹیسٹ کے نتائج میں چند دن لگ سکتے ہیں۔ مثبت نتیجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مریض کسی خاص مادے سے حساس ہو سکتا ہے۔ بڑا دانہ بننا زیادہ حساسیت کی علامت ہوتا ہے۔

منفی نتیجہ عام طور پر الرجی کی عدم موجودگی ظاہر کرتا ہے۔ تاہم یہ ٹیسٹ مکمل طور پر حتمی نہیں ہوتے کیونکہ بعض اوقات غلط مثبت یا غلط منفی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے ڈاکٹر نتائج کو مریض کی علامات اور میڈیکل ہسٹری کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہے

علاج میں ادویات، الرجن سے بچاؤ، ماحول میں تبدیلی یا امیونو تھراپی شامل ہو سکتی ہے۔ صحیح تشخیص کے ذریعے الرجی کی علامات کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pathologist

Vinkmag ad

Read Previous

ٹمی ٹک: ایبڈومینوپلاسٹی کیا ہے؟

Read Next

ٹخنے کی سرجری: شدید آرتھرائٹس کا مؤثر علاج

Leave a Reply

Most Popular