Vinkmag ad

ٹمی ٹک: ایبڈومینوپلاسٹی کیا ہے؟

Tummy tuck procedure, also called abdominoplasty in progress in a hospital setting

ٹمی ٹک (Tummy tuck) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جو پیٹ کی ساخت اور ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا طبی نام ایبڈومینوپلاسٹی (abdominoplasty) ہے۔ اس عمل میں سرجن پیٹ سے اضافی جلد اور چربی ہٹاتا ہے۔ اس کے علاوہ اندر موجود کنیکٹو ٹشو کو ٹانکوں کے ذریعے مضبوط کیا جاتا ہے تاکہ جسمانی ساخت متوازن ہو سکے۔ اگر پیٹ کے پٹھے الگ ہو چکے ہوں تو انہیں دوبارہ قریب لایا جاتا ہے۔ اس کے بعد باقی جلد کو ہموار اور متناسب انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے اکثر لائپوسکشن بھی شامل کی جاتی ہے۔

یہ سرجری ان افراد کے لیے کی جاتی ہے جن کے پیٹ میں اضافی چربی یا ڈھیلی جلد ہو۔ یہ ان افراد میں بھی کی جاتی ہے جن میں پیٹ ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہو۔ اس کیفیت کو ریکٹس ڈایاسٹیسس (rectus diastasis)  کہا جاتا ہے، جو بعض اوقات کمر کے نچلے حصے میں درد کا باعث بنتی ہے۔ مرکزی پٹھوں کی مضبوطی سے نہ صرف درد میں کمی آتی ہے بلکہ جسمانی توازن اور اعتماد میں بھی بہتری آتی ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

پیٹ کی ساخت میں بگاڑ مختلف وجوہات کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے، جن میں وزن میں بڑی تبدیلی، حمل، سی سیکشن، بڑھتی عمر اور جسمانی ساخت شامل ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں جلد ڈھیلی پڑ سکتی ہے اور پیٹ کی شکل متاثر ہو سکتی ہے۔

بعض صورتوں میں سٹریچ مارکس اور پرانے نشانات بھی کم یا ختم کیے جا سکتے ہیں۔ اگر سی سیکشن کا نشان موجود ہو تو اسے بھی اسی عمل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرجری اکثر باڈی کونٹورنگ پروسیجر کے ساتھ بھی کی جاتی ہے تاکہ جسم کے مجموعی تناسب کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ سرجری ہر فرد کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ان افراد میں احتیاط کی جاتی ہے جو وزن کم کرنے کے مرحلے میں ہوں۔ مستقبل میں حمل کا ارادہ رکھنے والے یا دل، ذیابیطس اور دیگر سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض بھی اس میں شامل ہیں ۔ اسی طرح خون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال، موٹاپا اور سگریٹ نوشی بھی نتائج کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ممکنہ خطرات

ٹمی ٹک ایک بڑی سرجری ہے، اس لیے اس سے کچھ طبی خطرات وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ان میں سب سے عام سیروما ہے، یعنی جلد کے نیچے سیال جمع ہونا۔ اس کے لیے بعض اوقات ڈرین ٹیوب استعمال کی جاتی ہے، جبکہ کچھ صورتوں میں جدید تکنیک کے ذریعے بغیر ٹیوب کے بھی انتظام کیا جاتا ہے۔

زخم بھرنے میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے اور بعض اوقات کَٹ متاثر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹک دی جاتی ہے۔ ٹمی ٹک کا نشان مستقل ہوتا ہے، تاہم اسے عام طور پر اسے ایسی جگہ رکھا جاتا ہے جہاں لباس سے نشان چھپ جائے۔

سگریٹ نوشی ٹشو کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے اور پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ بعض صورتوں میں اضافی سرجری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔ جلد کی محسوس کرنے کی صلاحیت میں کمی یا تبدیلی بھی ممکن ہے، جو عموماً وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتی ہے۔

عام خطرات میں خون بہنا، درد، انفیکشن اور اینستھیزیا کا ردعمل شامل ہیں۔

پروسیجر کی تیاری

سرجری سے پہلے مریض کی مکمل میڈیکل ہسٹری لی جاتی ہے تاکہ مجموعی صحت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ اس میں بیماریوں، استعمال شدہ ادویات اور سابقہ آپریشنز کی تفصیلات شامل ہوتی ہیں۔

اس کے بعد جسمانی معائنہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات پیٹ کی تصاویر بھی لی جاتی ہیں۔ مریض سے اس کے مقاصد اور توقعات پر تفصیلی گفتگو کی جاتی ہے تاکہ نتائج حقیقت پسندانہ ہوں۔

سرجری سے پہلے سگریٹ نوشی ترک کرنے اور کچھ ادویات بند کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ وزن کو مستحکم رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ غیر متوازن وزن نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔ گھر میں ابتدائی دنوں کے لیے مدد کا انتظام بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

سرجری کے دوران

یہ عمل جنرل اینستھیزیا میں کیا جاتا ہے تاکہ مریض مکمل طور پر بے ہوش رہے۔ سرجن اضافی جلد اور چربی ہٹاتا ہے اور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے تاکہ پیٹ کی ساخت بہتر ہو سکے۔

چیرا عام طور پر نچلے پیٹ میں لگایا جاتا ہے تاکہ بعد میں نشان کم نمایاں ہو۔ ناف کی پوزیشن بھی درست کی جاتی ہے اور اسے قدرتی جگہ پر فکس کیا جاتا ہے۔ یہ عمل عموماً چند گھنٹوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹک بھی دی جا سکتی ہے۔

سرجری کے بعد

سرجری کے بعد زخم پر ڈریسنگ لگائی جاتی ہے اور بعض اوقات ڈرین ٹیوب بھی رکھی جاتی ہے تاکہ اضافی سیال خارج ہو سکے۔ مریض کو ابتدائی دن ہی چلنے پھرنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ خون جمنے اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہو۔

درد اور سوجن عام علامات ہیں جنہیں ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ڈرین چند دن تک موجود رہ سکتی ہے اور مریض کو اس کی مناسب دیکھ بھال سکھائی جاتی ہے۔ بالعموم:

٭ 6 سے 8 ہفتوں تک ایبڈومینل بائنڈر پہننا ضروری ہو سکتا ہے

٭ اس دوران بھاری کام اور سخت جسمانی سرگرمی سے پرہیز کیا جاتا ہے

٭ جھکنے، زور لگانے اور اچانک حرکت سے بچنا ضروری ہوتا ہے

٭ زیادہ تر افراد 2 سے 4 ہفتوں میں روزمرہ معمولات شروع کر دیتے ہیں

نتائج

ٹمی ٹک سے پیٹ کی ساخت زیادہ ہموار، متناسب اور بہتر ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ سرجیکل نشان مدھم ہو جاتا ہے، تاہم مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اگر وزن مستحکم رکھا جائے تو اس سرجری کے نتائج عموماً طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=plastic-&-reconstructive+surgery=

Vinkmag ad

Read Previous

کندھے کا درد

Leave a Reply

Most Popular