ویریکوس وینز (Varicose veins) ابھری ہوئی اور پھیلی ہوئی رگیں ہوتی ہیں۔ جلد کے قریب موجود رگیں اس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ مسئلہ زیادہ تر ٹانگوں میں ہوتا ہے کیونکہ کھڑے رہنے اور چلنے سے جسم کے نچلے حصے کی رگوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں میں یہ رگیں صرف دیکھنے میں اچھی نہیں لگتیں، تاہم بعض اوقات یہ درد کا باعث بھی بنتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں یہ زیادہ سنگین طبی مسائل بھی پیدا کر سکتی ہیں۔
علامات
ویریکوس وینز کی عام علامات درج ذیل ہیں:
٭ رگوں کا رنگ گہرا جامنی، نیلا یا جلد کے رنگ جیسا ہو سکتا ہے
٭ رگیں مڑی ہوئی، ابھری ہوئی اور ٹانگوں پر رسی جیسی دکھائی دیتی ہیں
اگر درد ہو تو علامات میں یہ بھی شامل ہو سکتے ہیں:
٭ ٹانگوں میں بھاری پن یا درد کا احساس
٭ ٹانگوں میں جلن، دھڑکن جیسا درد، پٹھوں میں کھچاؤ اور سوجن
٭ زیادہ دیر بیٹھنے یا کھڑے رہنے کے بعد درد میں اضافہ
٭ ایک یا زیادہ رگوں کے اردگرد خارش
٭ متاثرہ رگ کے قریب جلد کے رنگ میں تبدیلی
سپائیڈر وینز اس کی ہلکی قسم ہیں، جو جلد کے قریب اور جال جیسی نظر آتی ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ ٹانگوں پر ہوتی ہیں، مگر چہرے پر بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے رجوع کب کریں
اگر رگوں کی شکل یا احساس پریشان کرے اور گھریلو تدابیر فائدہ نہ دیں، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اسباب
ویریکوس وینز عموماً کمزور یا خراب والوز کے باعث بنتی ہیں۔ شریانیں خون کو دل سے جسم تک لے جاتی ہیں، جبکہ رگیں خون کو واپس دل تک پہنچاتی ہیں۔ ٹانگوں کی رگوں کو کششِ ثقل کے خلاف کام کرنا پڑتا ہے۔
ٹانگوں کے پٹھے پمپ کی طرح خون کو اوپر کی طرف دھکیلتے ہیں۔ رگوں کے اندر موجود باریک والوز خون کو دل کی طرف جانے دیتے ہیں اور واپس بہنے سے روکتے ہیں۔ جب یہ والوز کمزور ہو جائیں تو خون رگوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے وہ پھیل اور مڑ جاتی ہیں۔
خطرے کے عوامل
درج ذیل عوامل ویریکوس وینز کا سبب بن سکتے ہیں:
٭ فیملی ہسٹری، یعنی اگر گھر میں کسی کو یہ مسئلہ ہو
٭ موٹاپا، جو رگوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے
٭ عمر میں اضافہ، جس سے رگوں کے والوز کمزور ہوتے جاتے ہیں
٭ خاتون ہونا، کیونکہ مخصوص ہارمونز رگوں کی دیواروں کو متاثر کرتے ہیں
٭ حمل، جس میں خون کی مقدار بڑھنے سے رگیں پھیل سکتی ہیں
٭ زیادہ دیر تک بیٹھنا یا کھڑے رہنا، جس سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے
پیچیدگیاں
ویریکوس وینز کی پیچیدگیاں کم ہوتی ہیں، مگر ہو سکتی ہیں:
٭ جلد پر زخم، خاص طور پر ٹخنوں کے قریب
٭ خون کے کلاٹ، جو درد اور سوجن کا سبب بنتے ہیں
٭ رگوں کا پھٹنا اور معمولی خون بہنا
٭ طویل عرصے میں ٹانگوں کی سوجن
احتیاطی تدابیر
خون کی روانی بہتر اور مضبوط پٹھے اس مسئلے سے بچاؤ میں مدد دیتے ہیں:
٭ اونچی ایڑی کے جوتے اور تنگ جرابوں سے پرہیز کریں
٭ بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی پوزیشن بدلتے رہیں
٭ فائبر سے بھرپور اور کم نمک والی غذا استعمال کریں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں
٭ ٹانگوں کو آرام کے وقت اونچا رکھیں
٭ وزن کنٹرول کریں
تشخیص
ڈاکٹر جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور کھڑے ہو کر ٹانگوں کی سوجن کا جائزہ لیتے ہیں۔ مریض سے درد اور تکلیف کی نوعیت بھی پوچھی جاتی ہے۔
ٹیسٹ
تشخیص کے لیے وینس ڈوپلر الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا ٹیسٹ ہے جس میں درد نہیں ہوتا۔ یہ ٹیسٹ خون کے بہاؤ اور ممکنہ کلاٹس کی نشاندہی کرتا ہے۔
علاج
علاج میں سیلف کیئر، کمپریشن جرابیں اور مختلف میڈیکل پروسیجرز شامل ہیں۔ زیادہ تر علاج آؤٹ پیشنٹ بنیاد پر کیے جاتے ہیں، یعنی مریض اسی دن گھر جا سکتا ہے۔
سیلف کیئر
گھریلو تدابیر درد کم کرنے اور بیماری کو بڑھنے سے روکنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے لیے ان ہدایات پر عمل کریں:
٭ باقاعدہ ورزش کریں
٭ بیٹھتے یا لیٹتے وقت ٹانگیں اونچی رکھیں
٭ کمپریشن جرابیں استعمال کریں
کمپریشن جرابیں
یہ جرابیں ٹانگوں پر دباؤ ڈال کر خون کی روانی بہتر بناتی ہیں۔ دباؤ کی شدت مختلف اقسام میں مختلف ہوتی ہے۔ یہ عام میڈیکل سٹورز سے مل جاتی ہیں۔ نسخے والی جرابیں بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔
سرجری اور دیگر پروسیجرز
اگر دیگر طریقے مؤثر نہ ہوں تو درج ذیل علاج کیے جاتے ہیں:
٭ سکلروتھیراپی، جس میں دوا یا جھاگ کے ذریعے رگ بند کی جاتی ہے
٭ لیزر علاج، جس میں روشنی کے ذریعے رگ ختم کی جاتی ہے
٭ کیتھیٹر کی بنیاد پر پروسیجر، جس میں حرارت سے رگ کو بند کیا جاتا ہے
٭ ہائی لیگیشن اور وین سٹرپنگ، جس میں متاثرہ رگ کو باندھ کر نکالا جاتا ہے
٭ ایمبولیٹری فلیبیکٹومی، جس میں چھوٹے سوراخوں سے رگ نکالی جاتی ہے
طرزِ زندگی اور گھریلو علاج
روزمرہ عادات میں تبدیلی سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے:
٭ باقاعدہ چہل قدمی کریں تاکہ خون کی روانی بہتر رہے
٭ وزن کم رکھیں تاکہ رگوں پر دباؤ کم ہو
٭ نمک کا استعمال کم کریں تاکہ سوجن نہ ہو
٭ چھوٹی ہیل والے جوتے پہنیں
٭ تنگ کپڑوں سے پرہیز کریں
٭ دن میں چند بار ٹانگیں دل کی سطح سے اوپر رکھیں
٭ زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں نہ رہیں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon