ریڈی ایشن تھیراپی (Radiation therapy)، جسے ریڈیو تھیراپی بھی کہا جاتا ہے، کینسر کے علاج کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں توانائی کی انتہائی طاقتور شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں جو کینسر کے خلیوں کو تباہ کرتی ہیں۔ عام طور پر اس میں ایکس ریز استعمال ہوتی ہیں، تاہم پروٹون ریڈی ایشن سمیت دیگر اقسام بھی موجود ہیں۔ جدید ریڈی ایشن طریقے نہایت درستگی سے شعاعوں کو براہِ راست کینسر پر مرکوز کرتے ہیں اور صحت مند ٹشوز کو کم سے کم نقصان پہنچاتے ہیں۔
ریڈیو تھیراپی جسم کے اندر یا باہر دی جا سکتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ ایکسٹرنل بیم ریڈی ایشن تھیراپی ہے جس میں لینیئر ایکسلریٹر نامی مشین استعمال ہوتی ہے۔ جسم کے اندر دی جانے والی ریڈی ایشن کو براکی تھیراپی (brachytherapy) کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں ایک چھوٹا ٹھوس امپلانٹ کینسر کے اندر یا اس کے قریب رکھا جاتا ہے تاکہ علاج براہ راست متاثرہ حصے پر ہو سکے۔
ریڈی ایشن تھیراپی خلیوں کے جینیاتی مواد کو نقصان پہنچا کر انہیں تباہ کرتی ہے۔ یہی مواد خلیوں کی نشوونما اور تقسیم کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگرچہ اس عمل میں صحت مند خلئے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن وہ خود کو کینسر خلیوں کے مقابلے میں بہتر طور پر بحال کر لیتے ہیں۔ اس علاج کا بنیادی مقصد کینسر کو ختم کرنا اور صحت مند خلیوں کو زیادہ سے زیادہ محفوظ رکھنا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
ریڈی ایشن تھیراپی تقریباً تمام اقسام کے کینسر کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ بعض غیر سرطانی بیماریوں اور رسولیوں کے علاج میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔
کینسر کے علاج میں استعمال
ریڈی ایشن تھیراپی مختلف مراحل اور مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ مثلاً:
٭ کینسر کے بنیادی علاج کے طور پر
٭ سرجری سے پہلے ٹیومر کو سکیڑنے کے لیے، جسے نیو ایڈجوینٹ تھیراپی کہتے ہیں
٭ سرجری کے بعد باقی کینسر خلیات کو ختم کرنے کے لیے، جسے ایڈجوینٹ تھیراپی کہا جاتا ہے
٭ کیموتھیراپی، مثلاً دیگر علاج کے ساتھ مل کر کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کے لیے
٭ ایڈوانس کینسر کی علامات کم کرنے کے لیے
خطرات اور سائیڈ ایفیکٹس
ریڈی ایشن تھیراپی کے سائیڈ ایفیکٹس ہر مریض میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ جسم کا کون سا حصہ متاثر ہو رہا ہے اور یہ کتنی مقدار میں استعمال ہو رہی ہے۔ زیادہ تر سائیڈ ایفیکٹس علاج کے دوران کنٹرول کیے جا سکتے ہیں، اور بعد میں ختم ہو جاتے ہیں۔
متاثرہ حصے اور عام سائیڈ ایفیکٹس
٭ کسی بھی حصے میں بالوں کا جھڑنا، جلد پر خارش، تھکن
٭ سر اور گردن میں خشک منہ، گاڑھا لعاب، نگلنے میں مشکل، گلے میں درد، ذائقے میں تبدیلی، متلی، منہ کے زخم، دانتوں کی خرابی
٭ سینے میں نگلنے میں مشکل، کھانسی، سانس کی دشواری
٭ پیٹ میں متلی، قے، اسہال
٭ پیلوِس میں اسہال، مثانے میں جلن، بار بار پیشاب، جنسی کمزوری
بعض سائیڈ ایفیکٹس علاج کے بعد دیر سے ظاہر ہو سکتے ہیں۔ انتہائی کم صورتوں میں سالوں بعد نیا کینسر بھی پیدا ہو سکتا ہے جسے سیکنڈ پرائمری کینسر کہا جاتا ہے۔ مریض کو ممکنہ طویل اور مختصر مدتی اثرات کے بارے میں ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔
تیاری کا عمل
ایکسٹرنل بیم ریڈی ایشن شروع کرنے سے پہلے مریض کی ملاقات ریڈی ایشن اونکالوجسٹ سے ہوتی ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ یہ علاج مناسب ہے یا نہیں۔ اگر علاج کا فیصلہ ہو جائے تو اس کی مکمل منصوبہ بندی کی جاتی ہے تاکہ شعاعیں درست جگہ پر جائیں۔ اس عمل میں درج ذیل مراحل شامل ہوتے ہیں:
ریڈی ایشن سیمولیشن
٭ مریض کو آرام دہ پوزیشن میں لیٹنے میں مدد دی جاتی ہے تاکہ وہ علاج کے دوران ساکت رہ سکے
٭ اسی قسم کی میز پر پریکٹس کرائی جاتی ہے جو اصل علاج میں استعمال ہوگی
٭ جسم کو ساکت رکھنے کے لیے کشن اور سہارے استعمال کیے جاتے ہیں
٭ بعض صورتوں میں باڈی مولڈ یا فیس ماسک بنایا جاتا ہے تاکہ جسم اپنی جگہ برقرار رکھ سکے
٭ جسم پر اس مقام کی نشاندہی کی جاتی ہے جہاں ریڈی ایشن دی جانی ہے۔ مارکر یا چھوٹے مستقل ٹیٹو استعمال ہو سکتے ہیں
پلاننگ سکینز
٭ سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کے ذریعے علاج کا درست نقشہ بنایا جاتا ہے
٭ مریض اسی پوزیشن میں سکین کرواتا ہے جس میں علاج ہوگا
٭ ماسک یا مولڈ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ درستگی برقرار رہے
٭ علاج کی قسم اور مقدار مریض کی حالت اور کینسر کی نوعیت کے مطابق طے کی جاتی ہے
درست منصوبہ بندی سے شعاعیں صحیح جگہ پر پہنچتی ہیں، اور صحت مند خلیوں کو نقصان کم ہوتا ہے
علاج کے دوران کیا ہوتا ہے
ایکسٹرنل بیم ریڈی ایشن میں لینیئر ایکسلریٹر مشین استعمال ہوتی ہے جو جسم پر شعاعیں مرکوز کرتی ہے۔ مریض ساکت لیٹا رہتا ہے جبکہ مشین مختلف زاویوں سے شعاعیں دیتی ہے۔ یہ عمل مکمل طور پر بغیر درد کے ہوتا ہے، اور عام ایکس رے جیسا محسوس ہوتا ہے۔
یہ ایک آؤٹ پیشنٹ علاج ہے جس میں مریض کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عموماً ہفتے میں پانچ دن کئی ہفتوں تک سیشنز ہوتے ہیں۔ بعض کیسز میں یہ ایک سے دو ہفتے پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ہر سیشن 10 سے 30 منٹ پر محیط ہوتا ہے جس میں زیادہ وقت پوزیشننگ میں لگتا ہے۔ مشین ہلکی بھنبھناہٹ کی آواز کے ساتھ مختلف زاویوں سے شعاعیں دیتی ہے۔ طبی ٹیم قریبی کمرے میں موجود رہتی ہے اور آڈیو یا ویڈیو کے ذریعے رابطہ برقرار رکھتی ہے۔ اگر کسی قسم کی تکلیف محسوس ہو تو مریض کو فوراً آگاہ کرنا چاہیے۔
نتائج
علاج کے بعد امیجنگ ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کے سائز میں کمی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ کبھی نتائج فوری ظاہر ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات اس میں ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔ مریض کو اپنی طبی ٹیم سے متوقع نتائج کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=radiologist