پیس میکر (Pacemaker) بیٹری سے چلنے والی ایک میڈیکل ڈیوائس ہے جو دل کی بہت سست دھڑکن کو معمول پر رکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس آلے کو جسم میں رکھنے کے لیے سرجری کی جاتی ہے۔ اسے عام طور پر ہنسلی کی ہڈی (کالر بون) کے قریب جلد کے نیچے نصب کیا جاتا ہے۔ پیس میکر کو کارڈیئک پیسنگ ڈیوائس بھی کہا جاتا ہے۔
پیس میکر کی اقسام
پیس میکر مختلف اقسام میں دستیاب ہوتا ہے جو دل کی ضرورت کے مطابق کام کرتا ہے
٭ سنگل چیمبر پیس میکرعموماً دل کے دائیں نچلے حصے کو برقی سگنل فراہم کرتا ہے
٭ ڈوئل (dual) چیمبر پیس میکر دل کے دائیں اوپر اور نچلے دونوں حصوں کو سگنل بھیجتا ہے
٭ بائی وینٹریکولر پیس میکر دل کی کمزوری اور سست دھڑکن والے مریضوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ دل کے دونوں نچلے حصوں کو متحرک کرتا ہے۔ اسے کارڈیئک ریسنکرو نائزیشن پیس میکر بھی کہا جاتا ہے
استعمال کیوں کیا جاتا ہے
دل کا قدرتی برقی نظام دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ برقی سگنلز دل کے مختلف حصوں میں حرکت کرتے ہیں۔ پیس میکر کا مقصد دل کی دھڑکن کو کنٹرول میں رکھنا یا ضرورت کے مطابق تیز کرنا ہوتا ہے تاکہ دل باقاعدگی سے کام کرے۔
دل کے سگنلنگ نظام میں خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کے عضلات متاثر ہوں۔ پیدائشی جینیاتی تبدیلیاں اور کچھ ادویات بھی اس نظام کو متاثر کر سکتی ہیں۔ آپ کو پیس میکر کی ضرورت اس صورت میں پڑ سکتی ہے جب دل کی دھڑکن مستقل طور پر سست یا بے ترتیب ہو یا دل کی کمزوری موجود ہو۔
پیس میکر صرف اس وقت فعال ہوتا ہے جب وہ دل کی دھڑکن میں خرابی محسوس کرے۔ مثال کے طور پر اگر دل بہت سست دھڑکے تو یہ برقی سگنل دے کر دھڑکن کو درست کرتا ہے۔ کچھ جدید پیس میکر جسمانی سرگرمی کے مطابق دھڑکن کی رفتار خود بھی بڑھا سکتے ہیں۔
پیس میکر کے حصے
پیس میکر دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
پلس جنریٹر: ایک چھوٹا دھاتی باکس جس میں بیٹری اور برقی نظام ہوتا ہے۔ یہ دل کو سگنل بھیجنے کی رفتار کنٹرول کرتا ہے
لیڈز: یہ باریک اور لچکدار تاریں ہوتی ہیں جو دل کے مختلف حصوں تک سگنل پہنچاتی ہیں۔ بعض جدید پیس میکر بغیر لیڈز کے بھی ہوتے ہیں
ممکنہ خطرات
پیس میکر یا اس کی سرجری سے کچھ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
٭ دل کا انفیکشن
٭ جسم پر سوجن، نیلاہٹ یا خون بہنا خصوصاً خون پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال کی صورت میں
٭ دل کے قریب خون کے کلاٹ بننا
٭ خون کی نالیوں یا اعصاب کو نقصان
٭ پھیپھڑے کا کام نہ کرنا
٭ سینے اور پھیپھڑے کے درمیان خون جمع ہونا
٭ آلے یا لیڈز کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا جو شاذ و نادر دل میں سوراخ کا سبب بن سکتا ہے
تیاری اور تشخیص
پیس میکر کی ضرورت جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی): دل کی دھڑکن اور برقی سرگرمی کا فوری جائزہ لینے کے لیے
ہولٹر مانیٹر: روزمرہ سرگرمی کے دوران دل کی دھڑکن ریکارڈ کرنے والا پورٹیبل آلہ
ایکوکارڈیوگرام: آواز کی لہروں سے دل کی تصاویر اور خون کے بہاؤ کا جائزہ لینے کے لئے
سٹریس ٹیسٹ: ورزش کے دوران دل کی کارکردگی اور اس کے ری ایکشن کا تجزیہ
پروسیجر
پہلے
سرجری کے دوران مریض کو سکون آور دوا دی جاتی ہے اور سینے کا حصہ سن کیا جاتا ہے۔
دوران
ڈاکٹر کالر بون کے قریب بڑی رگ کے ذریعے باریک تاریں دل تک پہنچاتے ہیں۔ ایکس رے کی مدد سے درست جگہ کا تعین کیا جاتا ہے۔ تاروں کا ایک سرا دل سے اور دوسرا پلس جنریٹر سے جوڑا جاتا ہے جو جلد کے نیچے نصب ہوتا ہے۔
بعد میں
مریض عموماً ایک دن ہسپتال میں رہتا ہے۔ گھر جانے سے پہلے ڈیوائس کی پروگرامنگ کی جاتی ہے۔ پہلے چند ہفتوں میں بھاری کام اور سخت ورزش سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
پیس میکر عام طور پر برقی آلات سے متاثر نہیں ہوتا، تاہم کچھ احتیاط ضروری ہے۔ مثلاً:
٭ موبائل فون کو کم از کم 6 انچ دور رکھیں، اور اسے جیب میں نہ رکھیں
٭ ایئرپورٹ سیکیورٹی سے گزرتے وقت زیادہ دیر نہ رکیں اور شناختی کارڈ ساتھ رکھیں
٭ ایم آر آئی، سی ٹی سکین یا کچھ طبی علاج کے بارے میں ڈاکٹر کو آگاہ کریں
٭ ویلڈنگ یا ہائی وولٹیج آلات سے کم از کم 2 فٹ دور رہیں
ڈیوائس کے حوالے سے عام طور پر محفوظ آلات میں الیکٹرک کمبل، شیور، مائیکروویو، کمپیوٹر، ٹی وی اور ریڈیو شامل ہیں۔
نتائج اور فالو اپ
پیس میکر سست دھڑکن سے پیدا ہونے والی علامات جیسے چکرآنا، کمزوری اور بے ہوشی سے بچانے میں مدد گار ہوتا ہے۔ جدید پیس میکر جسمانی سرگرمی کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کر لیتے ہیں جس سے زندگی زیادہ فعال ہو سکتی ہے۔ مریض کو عام طور پر ہر 3 سے 6 ماہ بعد باقاعدہ چیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ کئی پیس میکر دور سے بھی مانیٹر کیے جا سکتے ہیں۔ بیٹری عام طور پر 5 سے 15 سال تک چلتی ہے جس کے بعد اسے سرجری کے ذریعے تبدیل کیا جاتا ہے۔
لاعلاج امراض سے متعلق پہلو
اگر مریض کو لاعلاج بیماری لاحق ہو تو پیس میکر طویل عمری میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے بند کرنے کے حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں۔ اس معاملے پر مریض، فیملی اور میڈیکل ٹیم کے درمیان واضح گفتگو ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiac-surgery