پیپ سمیئر (Pap smear) ایک پروسیجر ہے جس میں سرویکس کے خلیوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ اسے پیپ ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ بعض اوقات طبی ماہرین اسے سرویکل سائٹولوجی بھی کہتے ہیں۔
پیپ ٹیسٹ اکثر سرویکل کینسر کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سرویکس رحم (یوٹرس) کا نچلا اور تنگ حصہ ہے جو وجائنا میں کھلتا ہے۔ پیپ ٹیسٹ کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں کینسر کا پتا چل سکتا ہے۔
کینسر کے خلیوں کے علاوہ، پیپ ٹیسٹ ایسے خلیے بھی تلاش کرتا ہے جو مستقبل میں کینسر بن سکتے ہیں۔ اگر قبل از کینسر خلیے مل جائیں تو علاج کی مدد سے اس کینسر کو روکا جا سکتا ہے۔
یہ کیوں کیا جاتا ہے
پیپ سمیئر سرویکل کینسر کی جانچ کے لیے کیا جاتا ہے۔
یہ ٹیسٹ عموماً پیلوک معائنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس معائنے میں تولیدی اعضا کی جانچ کی جاتی ہے۔ بعض اوقات پیپ ٹیسٹ کو ایچ پی وی ٹیسٹ کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔ ایچ پی وی ایک وائرس ہے جو جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ زیادہ تر سرویکل کینسر اسی وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایچ پی وی ٹیسٹ اکیلے بھی استعمال ہوتا ہے۔
عمر کے مطابق تجاویز
آپ اور آپ کا ڈاکٹر طے کر سکتے ہیں کہ سکریننگ کب شروع کرنی ہے اور کتنی بار کرنی ہے۔ اس سلسلے میں عمومی تجاویز یہ ہیں:
20 کی دہائی میں: پہلا پیپ ٹیسٹ 21 سال کی عمر میں کروائیں۔ اسے ہر تین سال بعد دہرائیں۔ بعض اوقات پیپ سمیئر اور ایچ پی وی ٹیسٹ ایک ساتھ کیے جاتے ہیں۔ اسے کو-ٹیسٹنگ کہتے ہیں جو 25 سال کی عمر سے ممکن ہے۔ یہ عام طور پر ہر پانچ سال بعد دہرایا جاتا ہے۔
30 سال کے بعد: سکریننگ میں اکثر پیپ اور ایچ پی وی ٹیسٹ ہر پانچ سال بعد شامل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی صرف ایچ پی وی ٹیسٹ بھی ہر پانچ سال بعد کیا جاتا ہے۔
65 سال کے بعد: اپنی میڈیکل ہسٹری اور خطرات پر بات کرنے کے بعد سکریننگ روکنے پر غور کریں۔ اگر نتائج ہمیشہ نارمل رہے ہوں تو ٹیسٹ بند کیے جا سکتے ہیں۔
مکمل ہسٹریکٹومی کے بعد سکریننگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ وہ سرجری ہے جس میں رحم اور سرویکس نکال دیے جاتے ہیں۔ اگر سرجری کینسر کے علاوہ کسی وجہ سے ہوئی ہو تو پیپ ٹیسٹ روکنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
مزید ٹیسٹوں کی ضرورت
کچھ صورتوں میں ٹیسٹ زیادہ بار کرانے کی ضرورت ہو سکتی ہے، مثلاً:
٭ سرویکل کینسر کی تشخیص ہونے پر
٭ پیپ ٹیسٹ میں قبل از کینسر خلیوں کی موجودگی سامنے آنا
٭ حمل کے دوران ماں کے ذریعے ڈی ای ایس دوا کے اثرات کا بچے کو سامنا ہونا
٭ ایچ آئی وی انفیکشن
٭ کمزور مدافعتی نظام
آپ اور آپ کا ڈاکٹر فوائد اور خطرات پر بات کر کے فیصلہ کر سکتے ہیں۔
خطرات
پیپ سمیئر ایک محفوظ طریقہ ہے، مگر ہمیشہ مکمل درست نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نتیجہ غلط طور پر منفی آ سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خلیے موجود ہوں مگر ٹیسٹ میں سامنے نہ آئیں۔
غلط منفی نتیجہ لازمی طور پر غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ خلیوں کی کم مقدار جمع ہونا
٭ غیر معمولی خلیوں کی کم مقدار ہونا
٭ خون یا انفیکشن کا خلیوں کو چھپا دینا
٭ وجائنا کی ادویات یا صفائی سے خلیات کا ختم ہو جانا
سرویکل کینسر بننے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اگر ایک ٹیسٹ میں خلیے نہ ملیں تو اگلے میں مل سکتے ہیں۔ اسی لیے باقاعدہ سکریننگ ضروری ہے۔
تیاری کیسے کریں
بہترین نتائج کے لیے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کریں۔
ٹیسٹ سے پہلے:
٭ دو دن تک جنسی تعلق، وجائنا کی صفائی، یا ادویات استعمال نہ کریں۔ یہ خلیوں کو چھپا سکتی ہیں۔
٭ حیض کے دوران ٹیسٹ نہ کروائیں۔ تاہم اگر غیر معمولی خون آئے تو ٹیسٹ مؤخر نہ کریں۔
کیا توقع رکھیں
ٹیسٹ کے دوران
یہ ٹیسٹ ڈاکٹر کے کلینک میں کیا جاتا ہے اور اس میں چند منٹ لگتے ہیں۔
آپ میز پر لیٹیں گی، گھٹنے موڑ کر رکھیں گی، اور پاؤں سہارا دینے والے حصے پر ہوں گے۔
ڈاکٹر ایک آلہ وجائنا میں ڈالے گا جسے سپیکولم کہتے ہیں۔ یہ دیواروں کو الگ رکھتا ہے تاکہ سرویکس نظر آئے۔ اس سے ہلکا دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ پھر نرم برش اور اسپاٹولا سے خلیے لیے جاتے ہیں۔ یہ عمل عام طور پر تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ بعد میں ہلکا خون آ سکتا ہے۔
خلیے ایک خاص محلول میں ڈال کر لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔ وہاں انہیں خوردبین سے دیکھا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے بعد
آپ معمول کے مطابق اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
اپنے ڈاکٹر سے نتائج کے وقت کے بارے میں پوچھیں۔
نتائج
نتائج 1 سے 3 ہفتوں میں آ سکتے ہیں۔
منفی نتیجہ: اگر صرف صحت مند خلیے ہوں تو اسے منفی نتیجہ کہتے ہیں۔ اس صورت میں اگلے مقررہ ٹیسٹ تک مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
غیر واضح نتیجہ: کبھی نتائج واضح نہیں ہوتے۔ اس صورت میں مزید ٹیسٹ یا دوبارہ پیپ ٹیسٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
مثبت نتیجہ: اگر غیر معمولی خلیے ملیں تو اسے مثبت نتیجہ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً کینسر ہے۔ مزید جانچ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ممکنہ اصطلاحات
آپ کا معالج گفتگو میں ممکنہ طور پر یہ اصطلاحات استعمال کر سکتا ہے:
اے ایس سی-یو ایس
سکوامس خلیے پتلے اور چپٹے ہوتے ہیں اور صحت مند سرویکس کی سطح پر پائے جاتے ہیں۔ اے ایس سی-یو ایس (Atypical squamous cells of undetermined significance) نتیجے کا مطلب ہے کہ پیپ ٹیسٹ میں ایسے اسکوامس خلیے ملے ہیں جو صحت مند خلیوں سے مختلف نظر آتے ہیں، لیکن یہ قبل از کینسر خلیوں جیسے نہیں ہوتے۔ یہ اکثر ایچ پی وی انفیکشن کی علامت ہوتے ہیں۔
آپ کا ڈاکٹر ممکنہ طور پر سرویکس کے خلیوں کا ایچ پی وی ٹیسٹ کرے گا۔ اگر کوئی خطرناک وائرس موجود نہ ہو تو یہ غیر معمولی خلیے زیادہ تشویش کی بات نہیں ہوتے۔ اگر خطرناک وائرس موجود ہوں تو مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ایس آئی ایل
ایس آئی ایل (Squamous intraepithelial lesion) کا مطلب ہے کہ پیپ ٹیسٹ میں حاصل کیے گئے خلیے ممکنہ طور پر قبل از کینسر ہو سکتے ہیں۔ یہ خلیے کم درجے (low grade) یا زیادہ درجے (high grade) کے ہو سکتے ہیں۔
اگر خلیے کم درجے کے ہوں تو یہ عموماً ایچ پی وی انفیکشن کی وجہ سے ہوتے ہیں جو اکثر خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اگر خلیے زیادہ درجے کے ہوں تو ان میں قبل از کینسر یا کینسر بننے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
ایٹائپیکل گلینڈولر سیلز
گلینڈولر خلیے سرویکس میں پائے جانے والے ایک اور قسم کے خلیے ہیں۔ اے ٹیپیکل گلینڈولر سیلز (Atypical glandular cells) اس نتیجے کا مطلب ہے کہ ایسے گلینڈولر خلیے ملے ہیں جو صحت مند خلیوں سے مختلف ہیں۔ یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ خلیے کینسر والے ہیں یا نہیں۔ وجہ جاننے کے لیے مزید ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔
سکوامس سیل کینسر یا ایڈینوکارسینوما سیلز
اس کا مطلب ہے کہ پیپ ٹیسٹ میں ملنے والے خلیے تقریباً یقینی طور پر کینسر ہیں۔ سکوامس سیل کینسر ان خلیوں میں شروع ہوتا ہے جو وجائنا یا سرویکس کی سطح پر ہوتے ہیں، جبکہ ایڈینوکارسینوما گلینڈولر خلیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی خلیے ملیں تو ڈاکٹر فوری طور پر مزید ٹیسٹ تجویز کرے گا۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=obs%2Fgyn