کامن وارٹس (Common warts) عام پائے جانے والے مسے ہیں جو زیادہ تر انگلیوں اور ہاتھوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ عموماً چھونے پر کھردرے محسوس ہوتے ہیں، اور ان میں اکثر چھوٹے سیاہ نقطے نظر آتے ہیں۔ یہ خون کی جمی ہوئی باریک نالیاں ہوتی ہیں۔
یہ مسے ایک وائرس کی وجہ سے بنتے ہیں، اور جلد کے براہِ راست رابطے سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتے ہیں۔ مسہ ظاہر ہونے میں عام طور پر 2 سے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں یہ بے ضرر ہوتے ہیں، اور وقت کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔
علامات
عام مسوں کی نمایاں علامات درج ذیل ہیں
٭ انگلیوں یا ہاتھوں پر چھوٹے، سخت اور دانے دار ابھار
٭ متاثرہ جگہ کا کھردرا اور ناہموار محسوس ہونا
٭ سطح پر چھوٹے سیاہ نقطے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
مندرجہ ذیل صورتوں میں طبی مشورہ ضروری ہے:
٭ مسوں میں درد، خون آنا، جلن یا شدید خارش ہو
٭ علاج کے باوجود مسے برقرار رہیں، بڑھ جائیں یا دوبارہ ظاہر ہوں
٭ مسے روزمرہ کاموں میں رکاوٹ بن رہے ہوں یا شدید پریشانی کا باعث ہوں
٭ یہ واضح نہ ہو کہ بڑھوتری واقعی مسہ ہے یا کوئی اور جلدی مسئلہ
٭ جسم پر مسوں کی تعداد زیادہ ہو
٭ مدافعتی نظام کمزور ہو
٭ مسے چہرے، پاؤں یا جنسی اعضاء کے حصوں پر ظاہر ہوں
اسباب
عام مسے ایچ پی وی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس وائرس کی 100 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، تاہم چند مخصوص اقسام ہی ہاتھوں پر مسے بناتی ہیں۔
یہ وائرس زیادہ تر براہِ راست جلدی رابطے، یا آلودہ اشیاء جیسے تولیے اور ذاتی استعمال کی چیزوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جلد میں معمولی کٹ، خراش یا زخم وائرس داخل ہونے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ ناخن چبانے کی عادت بھی وائرس کے پھیلاؤ اور انگلیوں کے گرد مسوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ہر شخص کا مدافعتی نظام ایچ پی وی کے خلاف مختلف ری ایکشن دیتا ہے، اسی لیے ہر متاثرہ شخص میں مسے نہیں بنتے۔
خطرے کے عوامل
زیادہ خطرے والے افراد میں شامل ہیں
٭ بچے اور نوجوان
٭ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد جیسے ایچ آئی وی کے مریض یا اعضاء کی پیوند کاری کروانے والے لوگ
٭ ناخن چبانے یا جلد کو بار بار نوچنے کی عادت رکھنے والے افراد
احتیاطی تدابیر
مسوں سے بچاؤ کے لیے ان احتیاطی تدابیر پر عمل کریں:
٭ اپنے یا دوسروں کے مسوں کو چھونے یا چھیڑنے سے گریز کریں
٭ ذاتی صفائی کی چیزیں مثلاً فائل، یا نیل کٹر وغیرہ مشترکہ طور پر استعمال نہ کریں
٭ ناخن چبانے اور جلد نوچنے کی عادت ترک کریں
٭ متاثرہ جلد پر شیو یا کٹنگ سے اجتناب کریں
٭ مشترکہ ہاٹ ٹب، شاور اور تولیے کے استعمال سے پرہیز کریں
٭ روزانہ موئسچرائزر استعمال کریں تاکہ جلد خشک اور پھٹنے سے محفوظ رہے
تشخیص
ڈاکٹر عام طور پر مسے کی تشخیص درج ذیل طریقوں سے کرتے ہیں:
٭ جلد کا براہِ راست معائنہ
٭ اوپری تہہ کو ہلکا سا کھرچ کر سیاہ نقطوں کی موجودگی کی جانچ
٭ بعض صورتوں میں لیبارٹری ٹیسٹ تاکہ دیگر جلدی بیماریوں کو خارج از امکان قرار دیا جا سکے
علاج
زیادہ تر مسے بغیر علاج کے وقت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں علاج ضروری ہو جاتا ہے، خصوصاً جب مسے پھیل رہے ہوں یا تکلیف کا باعث ہوں۔
علاج کے مقاصد مسے ختم کرنا، وائرس کے خلاف مدافعتی نظام کو متحرک کرنا یا دونوں ہوتے ہیں۔ علاج میں وقت لگ سکتا ہے اور بعض اوقات مسے دوبارہ بھی ظاہر ہو سکتے ہیں۔
علاج کے طریقے درج ذیل ہیں:
٭ دوا جو مسے کی تہوں کو آہستہ آہستہ ختم کرتی ہے اور بعض اوقات فریزنگ کے ساتھ زیادہ مؤثر ہوتی ہے
٭ کریم جو مسے پر لگا کر پٹی سے ڈھانپ دی جاتی ہے اور بچوں میں مؤثر نتائج دیتی ہے
٭ انجیکشن جو مدافعتی نظام کو فعال کر کے مسوں کے خلاف ردعمل پیدا کرتا ہے
٭ مائع نائٹروجن سے مسے کو فریزکرنا جس سے ٹشو ختم ہو کر گر جاتا ہے
٭ مختلف تیزاب جو ہفتہ وار استعمال کیے جاتے ہیں
٭ مسے کے ٹشو کو خصوصی آلے سے ہٹانا
٭ لیزر تھراپی جس میں خون کی باریک نالیاں جلا کر مسے کو ختم کیا جاتا ہے
گھر پر دیکھ بھال
گھریلو علاج بعض صورتوں میں مؤثر ہو سکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کریں:
٭ اوور دی کاؤنٹر ادویات روزانہ استعمال کریں
٭ متاثرہ حصے کو گرم پانی میں بھگو کر دوا لگائیں
٭ مردہ جلد کو فائل سے آہستہ آہستہ ہٹائیں
٭ فریزنگ سپرے بعض افراد میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے
٭ ڈکٹ ٹیپ طریقہ کچھ کیسز میں محدود حد تک مؤثر پایا گیا ہے، مگر اس کے شواہد مضبوط نہیں ہیں۔ اس میں عام چپکنے والی مضبوط ٹیپ (ڈکٹ ٹیپ) کو مسے پر لگا کر مسے کی اوپری تہہ کو آہستہ آہستہ نرم اور کمزور کیا جاتا ہے تاکہ مسہ کمزور ہو کر ختم ہو جائے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist