Vinkmag ad

پھنسی ہوئی عقل داڑھیں

A young man suffering from severe pain because of Impacted wisdom teeth

عقل داڑھیں  منہ کے پچھلے حصے میں موجود تیسری اور آخری مستقل داڑھیں ہوتی ہیں۔ زیادہ تر افراد میں چار عقل داڑھیں (دو اوپر اور دو نیچے) ہوتی ہیں۔ جب یہ دانت مناسب جگہ نہ ملنے کی وجہ سے معمول کے مطابق نہ نکل سکیں تو یہ پھنس جاتے ہیں۔ پھنسی ہوئی عقل داڑھیں (Impacted wisdom teeth) بعض اوقات درد اور پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں اور قریبی دانتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ کچھ صورتوں میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، تاہم ان کی صفائی مشکل ہونے کی وجہ سے کیڑا لگنے اور مسوڑھوں کی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

علامات

پھنسی ہوئی عقل داڑھیں ہمیشہ علامات ظاہر نہیں کرتیں، لیکن اگر انفیکشن یا دباؤ پیدا ہو تو درج ذیل علامات سامنے آ سکتی ہیں:

٭ مسوڑھوں کی سرخی یا سوجن

٭ مسوڑھوں سے درد یا خون آنا

٭ جبڑے میں درد

٭ جبڑے کے اردگرد سوجن

٭ منہ سے بدبو

٭ منہ میں ناخوشگوار ذائقہ

٭ منہ کھولنے میں دشواری

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آخری داڑھ کے پیچھے درد، سوجن یا دیگر علامات محسوس ہوں تو دانتوں کے ڈاکٹر سے رجوع کریں، اس لیے کہ یہ پھنسی ہوئی عقل داڑھ کی علامت ہو سکتی ہیں۔

اسباب

عقل داڑھیں اس وقت پھنس جاتی ہیں جب ان کے لیے جبڑے میں مناسب جگہ موجود نہ ہو۔ یہ دانت عموماً 17 سے 26 سال کی عمر میں نکلتے ہیں۔ کچھ افراد میں یہ بغیر کسی مسئلے کے سیدھی نکل آتی ہیں، لیکن اکثر صورتوں میں جگہ نہ ہونے کے باعث درست طور پر نشوونما نہیں پاتیں اور پھنس جاتی ہیں۔ یہ دانت جزوی یا مکمل طور پر پھنس سکتے ہیں۔ جزوی طور پر پھنسی ہوئی داڑھ میں دانت کا کچھ حصہ نظر آتا ہے، جبکہ مکمل طور پر پھنسی ہوئی داڑھ مسوڑھوں کے اندر رہتی ہے۔

پھنسی ہوئی عقل داڑھ مختلف زاویوں میں بڑھ سکتی ہے، مثلاً:

٭ دوسری داڑھ کی طرف جھک کر

٭ منہ کے پچھلے حصے کی طرف جھک کر

٭ جبڑے میں لیٹی ہوئی حالت میں

٭ سیدھی مگر ہڈی میں پھنسی ہوئی

خطرے کے عوامل

٭ جبڑے میں جگہ کی کمی

٭ دانت کے راستے میں رکاوٹ یا رکاوٹیں

پیچیدگیاں

دوسرے دانتوں کو نقصان

اگر عقل داڑھ دوسری داڑھ پر دباؤ ڈالے تو اسے نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس جگہ انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ یہی دباؤ دانتوں کے بے ترتیب ہونے کا باعث بن کر آرتھوڈونٹک علاج کی ضرورت بھی پیدا کر سکتا ہے۔

سسٹس

عقل داڑھیں جبڑے کی ہڈی میں موجود تھیلیوں میں نشوونما پاتی ہیں۔ یہ تھیلیاں سیال سے بھر کر سسٹس بنا سکتی ہیں جس سے ہڈی، دانت اور اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں غیر سرطانی رسولی بھی بن سکتی ہے، جس کی وجہ سے ٹشو یا ہڈی نکالنی پڑ سکتی ہے۔

کیڑا لگنا

جزوی طور پر پھنسی ہوئی عقل داڑھیں صفائی میں مشکل ہونے کی وجہ سے زیادہ آسانی سے متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ خوراک اور بیکٹیریا آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔

 مسوڑھوں کی بیماری

جزوی طور پر نکلے ہوئے دانتوں کی صفائی مشکل ہونے کی وجہ سے درد انگیز سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔

تشخیص

ڈاکٹر یا ڈینٹسٹ معائنے اور ایکس رے کے ذریعے تشخیص کرتا ہے، جس میں شامل ہیں:

٭ علامات اور عمومی صحت کے بارے میں سوالات

٭ دانتوں اور مسوڑھوں کا معائنہ

٭ ایکس رے کے ذریعے دانت کی پوزیشن اور ممکنہ نقصان کا جائزہ

علاج

اگر کیس پیچیدہ ہو یا سرجری کا خطرہ زیادہ ہو تو مریض کو اورل سرجن کے پاس بھیجا جاتا ہے، جو مناسب علاج تجویز کرتا ہے۔

بغیر علامات عقل داڑھ کی مینجمنٹ

کچھ ماہرین بغیر علامات والی عقل داڑھ نکالنے کا مشورہ دیتے ہیں، خاص طور پر نوجوانی میں کیونکہ اس وقت خطرات کم ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق:

٭ بغیر علامات داڑھ بھی بیماری سے پاک نہیں ہوتی

٭ صفائی میں مشکل مستقبل میں مسائل پیدا کر سکتی ہے

٭ نوجوانی میں سرجری نسبتاً محفوظ ہوتی ہے

٭ عمر بڑھنے کے ساتھ پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

دوسری طرف کچھ ماہرین صرف علامات ظاہر ہونے پر دانت نکالنے کے حق میں ہیں کیونکہ ہر کیس میں مستقبل کا خطرہ واضح نہیں ہوتا۔ اس صورت میں ڈاکٹر باقاعدہ نگرانی کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر فیصلہ کرتا ہے۔

سرجری

اگر عقل داڑھ درد یا انفیکشن پیدا کرے تو اسے سرجری کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ اس کی وجوہات یہ ہیں:

٭ انفیکشن یا مسوڑھوں کی بیماری

٭ جزوی طور پر نکلے دانت میں کیڑا لگنا

٭ سسٹس یا رسولیاں

٭ قریبی دانتوں کو نقصان

٭ مستقبل کے مسائل سے بچاؤ

پروسیجر

٭ انستھیزیا یا سیڈیشن کے ذریعے درد اور سن ہونے کو کنٹرول کیا جاتا ہے

٭ مسوڑھوں میں کٹ لگا کر دانت نکالا جاتا ہے

٭ بعض اوقات ہڈی کا کچھ حصہ ہٹایا جاتا ہے

٭ آخر میں زخم بند کر دیا جاتا ہے

سرجری کے بعد درد، سوجن اور معمولی خون بہنا عام ہے، جبکہ کچھ افراد کو منہ کھولنے میں عارضی مشکل بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی کم لیکن ممکنہ پیچیدگیاں ی ہہو سکتی ہیں:

٭ ڈرائی ساکٹ، جس میں خون کا کلاٹ نہ بنے یا نکل جائے

٭ انفیکشن، جو بیکٹیریا یا خوراک کے ذرات سے ہو سکتا ہے

٭ قریبی دانتوں، اعصاب، جبڑے کی ہڈی یا سائی نس کو نقصان

احتیاطی تدابیر

٭ عقل داڑھ کو پھنسنے سے مکمل طور پر نہیں روکا جا سکتا

٭ ہر چھ ماہ بعد دانتوں کا معائنہ اور صفائی ضروری ہے

٭ باقاعدہ ایکس رے کے ذریعے قبل از وقت تشخیص ممکن ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dentistry

Vinkmag ad

Read Previous

جھریاں

Read Next

کامن وارٹس: مسے کیا ہیں؟

Leave a Reply

Most Popular