Vinkmag ad

جھریاں

Close-up view of a forehead showing visible wrinkles and fine lines in the skin texture.

جھریاں (Wrinkles) عمر بڑھنے کا ایک قدرتی عمل ہیں۔ جلد پر بننے والی یہ لکیریں اور شکنیں زیادہ تر اُن حصوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو سورج کی براہ راست روشنی میں رہتے ہیں، جیسے چہرہ، گردن، ہاتھ اور بازو۔ فضائی آلودگی اور تمباکو نوشی اس عمل کو مزید تیز کر دیتی ہیں۔ روزانہ سن سکرین کا استعمال اور سگریٹ نوشی ترک کرنا جھریوں کی تشکیل کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔

اگر جھریاں آپ کو پریشان کرتی ہیں تو ان کے لیے مختلف میڈیکل اور کاسمیٹک علاج موجود ہیں۔ ان میں ادویات، جلد کی سطح کو بہتر بنانے والے پروسیجرز، فلرز اور بعض صورتوں میں سرجری شامل ہیں۔ یہ طریقے جلد کو نسبتاً ہموار اور جھریوں کو کم نمایاں بنا سکتے ہیں۔

علامات

جھریاں جلد پر بننے والی باریک لکیروں اور گہری شکنوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ کچھ جھریاں گہری ہو جاتی ہیں اور خاص طور پر آنکھوں، منہ اور گردن کے اطراف میں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر آپ اپنی جلد کی ظاہری حالت کے بارے میں فکر مند ہیں تو جلد کے ماہر ڈاکٹر یعنی ڈرماٹولوجسٹ سے رجوع کریں۔ ڈاکٹر آپ کی جلد کا معائنہ کرے گا، اور ممکنہ وجوہات کا جائزہ لے گا۔ وہ  آپ کی ضروریات کے مطابق علاج اور جلد کی دیکھ بھال کا منصوبہ تجویز کرے گا۔

وجوہات

جھریاں مختلف عوامل کے نتیجے میں بنتی ہیں، جن میں کچھ پر قابو پایا جا سکتا ہے اور کچھ پر نہیں

٭ عمر بڑھنے کے ساتھ جلد اپنی لچک کھو دیتی ہے اور خشک ہو جاتی ہے۔ اس کی اندرونی تہوں میں چکنائی اور کولیجن کم ہو جاتے ہیں، جس سے جھریاں اور جلد کی ڈھیلا پن پیدا ہوتا ہے

٭ الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کے کولیجن اور لچکدار ریشوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس سے جلد کی مضبوطی اور لچک کم ہو جاتی ہے

٭ تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی جلد کے خلیوں کو متاثر کر کے عمر رسیدگی کے عمل کو تیز کرتے ہیں

٭ چہرے کے بار بار کے تاثرات (مسکرانا، بھنویں چڑھانا یا آنکھیں سکیڑنا) وقت کے ساتھ باریک لکیروں کو مستقل جھریوں میں بدل دیتے ہیں

٭ جینیاتی عوامل بھی جلد کی ساخت، لچک اور جھریوں کے ظاہر ہونے کے انداز پر اہم اثر ڈالتے ہیں

احتیاطی تدابیر

جھریوں کے اثرات کو کم کرنے اور جلد کو محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں:

٭ جلد کو الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھیں۔ دھوپ میں کم وقت گزاریں اور دوپہر کے وقت براہ راست سورج سے بچیں۔ باہر نکلتے وقت چوڑی ٹوپی، لمبی آستین اور دھوپ کے چشمے کا استعمال کریں۔ روزانہ کم از کم SPF 30 والی سن اسکرین استعمال کریں اور ہر دو گھنٹے بعد دوبارہ لگائیں

٭ چہرہ روزانہ نرمی سے دھوئیں اور موئسچرائزر کا استعمال کریں۔ موئسچرائزر جلد میں نمی کو برقرار رکھتا ہے

٭ موئسچرائزرز میں ریٹینول، نیا سینامائیڈ اور وٹامن سی جیسے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں جو باریک لکیروں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کچھ مصنوعات میں سن سکرین بھی شامل ہوتی ہے۔ ریٹینول والی مصنوعات حمل کے دوران استعمال نہ کریں

٭ ایڈاپیلین وٹامن اے سے حاصل شدہ ایک مرکب ہے جو باریک جھریوں کی روک تھام میں مددگار ہو سکتا ہے

٭ نتائج ظاہر ہونے میں چند ہفتے یا مہینے لگ سکتے ہیں۔ بعض اوقات کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اگر بہتری نہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں

٭ تمباکو نوشی ترک کرنا جلد کی صحت بہتر بنانے اور جھریوں کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہوتا ہے

٭ متوازن غذا، خاص طور پر پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال جلد کی مجموعی صحت کے لیے مفید ہے

تشخیص

جھریوں کی تشخیص جلد کے معائنے سے کی جاتی ہے۔ اس میں ڈاکٹر جلد کی ساخت، لکیروں کی گہرائی اور ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے ساتھ مریض کی میڈیکل ہسٹری اور ذاتی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ موزوں علاج تجویز کیا جا سکے۔

علاج

جھریوں کے علاج کے لیے مختلف طریقے دستیاب ہیں، اور بہتر نتائج کے لیے بعض اوقات ایک سے زیادہ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں

کریمیں اور سیرم

نسخے والی کریمیں اور سیرم جن میں ریٹینوئیڈز شامل ہوتے ہیں، یہ وٹامن اے سے حاصل کیے جاتے ہیں اور باریک جھریوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے استعمال سے خشکی یا جلن ہو سکتی ہے۔ حمل کے دوران ان کا استعمال نہ کریں

بوٹاکس انجیکشن

٭ بوٹاکس انجیکشن مخصوص پٹھوں کی حرکت کو عارضی طور پر روک کر جلد کو ہموار بناتے ہیں۔ یہ زیادہ تر پیشانی اور آنکھوں کے کناروں کی جھریوں کے لیے مؤثر ہے۔ اس کا اثر چند دنوں میں ظاہر ہوتا ہے اور چند ماہ تک رہتا ہے

کیمیکل پِیل

کیمیکل پیل میں جلد کی اوپری تہہ کو ہٹا کر نئی اور ہموار جلد بننے میں مدد دی جاتی ہے۔ اس میں کئی سیشنز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ممکنہ خطرات میں رنگت کی تبدیلی اور انفیکشن شامل ہیں

فیشل فلرز

٭ فیشل فلرز جلد میں بھراؤ پیدا کر کے جھریوں کو کم کرتے ہیں۔ اثر برقرار رکھنے کے لیے وقتاً فوقتاً دوبارہ علاج ضروری ہوتا ہے۔ ممکنہ اثرات میں سوجن اور نیلاہٹ شامل ہیں

لیزر ری سرفیسنگ

٭ لیزر ری سرفیسنگ جلد کی اوپری تہہ کو بہتر بنا کر کولیجن کی پیداوار بڑھاتی ہے۔ اس سے جلد ہموار ہو سکتی ہے، مگر ڈھیلی جلد مکمل طور پر درست نہیں ہوتی۔ مختلف طریقوں میں بحالی کا وقت مختلف ہوتا ہے

ڈیوکسی کولک ایسڈ انجیکشن

ڈیوکسی کولک ایسڈ انجیکشن ٹھوڑی کے نیچے اضافی چربی کم کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے ڈبل چن کی صورت بہتر ہو سکتی ہے، ممکنہ اثرات میں سوجن اور درد شامل ہیں

فیس لفٹ اور نیک لفٹ

فیس لفٹ اور نیک لفٹ سرجری جلد اور اندرونی بافتوں کو سخت کر کے چہرے اور گردن کی ظاہری شکل بہتر بناتی ہیں۔ یہ طریقے باریک جھریوں یا جلد کی رنگت کے مسائل کو مکمل طور پر درست نہیں کرتے۔ بحالی میں وقت لگتا ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist

 

 

Vinkmag ad

Read Previous

وٹلائيگو: پھلبہری کیا ہے؟

Read Next

پھنسی ہوئی عقل داڑھیں

Leave a Reply

Most Popular