Vinkmag ad

ٹی یو آر پی: بڑھے ہوئے پروسٹیٹ کی سرجری

a surgeon beside robotic surgical equipment in an operating room, illustrating an article about TURP surgery for an enlarged prostate.

ٹی یو آر پی (TURP) بڑھے ہوئے پروسٹیٹ سے پیدا ہونے والی پیشاب کی مشکلات کا سرجیکل علاج ہے۔ اس میں پیشاب کے راستے مین رکاوٹ بننے والے اضافی ٹشوز کو نکالا جاتا ہے۔ عموماً یہ طریقہ ادویات سے افاقہ نہ ہونے پر اختیار کیا جاتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

ٹی یو آر پی (Transurethral resection of the prostate) درمیانی یا شدید علامات کی صورت میں مؤثر علاج ہے۔ ان علامات میں شامل ہیں:

* پیشاب کی بار بار یا اچانک شدید حاجت ہونا

* پیشاب شروع کرنے میں مشکل ہونا

* پیشاب بہنے میں زیادہ وقت لگنا

* رات کو بار بار پیشاب کے لیے اٹھنا

* پیشاب کا رک رک کر آنا

* مثانہ مکمل خالی نہ ہونے کا احساس ہونا

پیشاب کی رکاوٹ سے متعلق ان پیچیدگیوں کے علاج یا بچاؤ کے لیے بھی یہ طریقہ استعمال ہوتا ہے:

* پیشاب سے متعلق اعضا میں بار بار انفیکشن

* گردوں یا مثانے کو نقصان

* پیشاب کا بے اختیار نکل جانا

* پیشاب بالکل بند ہو جانا

* مثانے کی پتھری

* پیشاب میں خون آنا

خطرات

اس سرجری کے ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:

* عارضی طور پر پیشاب کرنے میں مشکل

* پیشاب کی نالی کا انفیکشن

* جنسی تسکین کے وقت منی باہر نہ آنا

* عضوِ تناسل میں تناؤ پیدا ہونے یا برقرار رہنے میں مشکل ہونا

* زیادہ خون بہنا

* پیشاب پر قابو رکھنے میں مشکل

* خون میں سوڈیم کی مقدار کم ہونا

* دوبارہ علاج کی ضرورت

سرجری سے پہلے تیاری

سرجری سے چند روز قبل خون بہنے کا خطرہ بڑھانے والی بعض ادویات روکنے کی ہدایت کی جا سکتی ہے۔ انہیں صرف ڈاکٹر کی ہدایت پر ہی بند کریں۔

انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بایوٹک تجویز کی جا سکتی ہے

* ہسپتال آنے جانے کے لیے کسی فیملی ممبر یا دوست کا انتظام کریں۔ سرجری کے بعد اسی دن خود گاڑی چلانا مناسب نہیں

* کام پر واپسی اور صحت یابی کے لیے درکار وقت کے بارے میں اپنی سرجیکل ٹیم سے پوچھیں۔ بعض مریضوں کو کام یا سخت جسمانی سرگرمیوں سے چھ ہفتے تک وقفہ درکار ہوتا ہے

پروسیجر کے دوران 

* سرجری عموماً 60 سے 90 منٹ لیتی ہے۔ درد سے بچانے کے لیے مکمل بے ہوشی یا ریڑھ کی ہڈی کے قریب بے حسی کی دوا دی جاتی ہے۔ دوسری صورت میں مریض ہوش میں رہتا ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بایوٹک بھی دی جا سکتی ہے۔

* سرجن عضوِ تناسل کے سرے سے ریسیکٹوسکوپ نامی آلہ پیشاب کی نالی میں داخل کرتے ہیں۔ یہ آلہ پروسٹیٹ تک پہنچایا جاتا ہے

* آلے کی مدد سے اضافی ٹشوز چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹے جاتے ہیں۔ ساتھ بہنے والا محلول انہیں مثانے میں پہنچاتا ہے۔ آپریشن کے اختتام پر یہ ٹکڑے نکال دیے جاتے ہیں

پروسیجر کے بعد

* عموماً ایک سے دو دن ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ سوجن کے باعث پیشاب کے اخراج میں عارضی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے مثانے سے پیشاب نکالنے کے لیے کیتھیٹر لگایا جاتا ہے

* یہ نلکی عموماً کم از کم 24 سے 48 گھنٹے لگی رہتی ہے۔ سوجن کم ہونے اور خود پیشاب آنے پر اسے نکالا جاتا ہے

* ابتدا میں پیشاب میں کچھ خون آنا عام ہے۔ پیشاب کرتے وقت درد، اچانک حاجت یا بار بار پیشاب کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ درد بہتر ہونے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں

گھر پر دیکھ بھال

صحت یابی کے دوران ان ہدایات پر عمل کریں:

* مثانے کی صفائی کے لیے مناسب مقدار میں پانی پئیں

* قبض اور پاخانے کے دوران زور لگانے سے بچنے کے لیے ریشے والی غذائیں کھائیں

* بوقت ضرورت فزیشن کی تجویز کردہ پاخانہ نرم کرنے والی دوا استعمال کریں

* خون پتلا کرنے والی ادویات دوبارہ شروع کرنے سے میڈیکل ٹیم سے رابطہ کریں

* چار سے چھ ہفتے وزن اٹھانے اور سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں

* مقعد اور خصیوں کی تھیلی کے درمیان حصے پر دباؤ ڈالنے والی سرگرمیوں سے بچیں

* چار سے چھ ہفتے جنسی تعلق سے گریز کریں

* کیتھیٹر نکلنے اور تجویز کردہ پین کلرز بند ہونے تک گاڑی نہ چلائیں

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں 

ان صورتوں میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

* پیشاب بالکل نہ آئے

* پیشاب میں چمک دار سرخ خون یا کلاٹ آئیں

* خون کی مقدار بڑھے یا پیشاب کیچپ جیسا گاڑھا سرخ ہو

* پیشاب بہنا رک جائے

* زیادہ پانی پینے اور 24 گھنٹے آرام کے باوجود پیشاب کا رنگ صاف نہ ہو

ساتھ بخار، کپکپی یا سر چکرانے کی شکایت ہو تو فوری طبی مدد لیں۔

علاج کے نتائج 

ٹی یو آر پی سے عموماً پیشاب کی علامات میں نمایاں آرام آتا ہے۔ علاج کے اثرات 15 سال یا اس سے زیادہ برقرار رہتے ہیں۔ بعض مریضوں کو کئی سال بعد دوبارہ علاج درکار ہوتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ٹی یو آر میں پورا پروسٹیٹ نکال دیا جاتا ہے؟

نہیں، اس میں پیشاب کا راستہ روکنے والے اضافی ٹشوز نکالے جاتے ہیں۔

کیا سرجری کے دوران درد ہوتا ہے؟

درد سے بچانے کے لیے بے ہوشی یا بے حسی کی دوا دی جاتی ہے۔

کیا ہر بڑھےہوئے پروسٹیت کے لیے سرجری ضروری ہے؟

نہیں، ٹی یو آر پی عموماً ادویات سے بہتر نہ ہونے والی درمیانی یا شدید علامات میں زیرِ غور آتی ہے۔

کیا ٹی یو آر پی کے علاوہ بھی طریقے موجود ہیں؟

جی ہاں، بعض دیگر طریقے تقریباً اتنے ہی مؤثر ہیں۔ عموماً ان کے ضمنی اثرات کم اور صحت یابی کا وقت مختصر ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

پینکریاٹک سسٹ: لبلبے میں سسٹ

Leave a Reply

Most Popular