انٹرنیٹ پر خواتین کے خلاف نفرت اور مردانہ برتری کے نظریات نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر کر سکتے ہیں۔ ان سے سماجی تعلقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ برطانوی ماہرین نے اس رجحان کو صحتِ عامہ کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
آئرش نشریاتی ادارے آر ٹی ای کے مطابق، یہ رپورٹ طبی جریدے دی لینسیٹ میں شائع ہوئی۔ اس میں بتایا گیا کہ ایسے آن لائن گروپس نوجوان لڑکوں میں تنہائی اور عدم تحفظ بڑھا سکتے ہیں۔ ان سے ذہنی پریشانی بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ان گروپس میں خواتین اور حقوقِ نسواں کی تحریک کو نوجوانوں کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ نظریات خواتین اور لڑکیوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کے زیرِ اثر مردوں اور لڑکوں میں ذہنی صحت کے مسائل پر مدد لینے کا رجحان بھی کم ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے حکومت، سکولوں، طبی اداروں اور سماجی تنظیموں سے مشترکہ اقدامات کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام پر زور دیا ہے۔ نوجوانوں کو ذہنی صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ، سماجی میل جول اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔