Pancreas, illustration
پینکریاٹک سسٹس (Pancreatic Cyst) سیال مادے سے بھری تھیلیاں ہوتی ہیں، جو لبلبے کے اندر یا اس کی سطح پر بن سکتی ہیں۔ لبلبہ معدے کے پیچھے واقع ایک بڑا عضو ہے، جو ہارمونز اور ایسے انزائمز بناتا ہے جو خوراک ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
علامات
لبلبے کے سسٹ میں مبتلا بہت سے افراد کو کوئی علامات نہیں ہوتیں۔ اکثر ان کا پتا پیٹ کے امیجنگ ٹیسٹ کے دوران کسی دوسری وجہ سے چلتا ہے۔
اگر علامات ظاہر ہوں تو ان میں شامل ہیں:
٭ پیٹ میں مسلسل درد، جو کمر تک پھیل سکتا ہے
٭ متلی اور الٹی
٭ وزن میں کمی
٭ کھانا شروع کرتے ہی پیٹ بھرا ہوا محسوس ہونا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
شاذونادر سسٹ میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔ اگر بخار کے ساتھ پیٹ میں مسلسل درد ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
لبلبے کا سسٹ پھٹنا ایک ہنگامی میڈیکل صورتِ حال بن سکتا ہے، اگرچہ ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ سسٹ پھٹنے سے پیٹ کی اندرونی جھلی میں انفیکشن بھی ہو سکتا ہے، جسے پیریٹونائٹس کہتے ہیں۔
وجوہات
لبلبے میں زیادہ تر سسٹ بننے کی وجہ معلوم نہیں ہوتی.
٭ بعض سسٹ نایاب موروثی بیماریوں سے جڑے ہوتے ہیں، جیسے پولی سسٹک کڈنی ڈیزیز اور وون ہپل لنڈاؤ بیماری، جو لبلبے سمیت جسم کے دوسرے اعضا کو متاثر کر سکتی ہے
٭ پسوڈوسسٹ (Pseudocyst) عموماً لبلبے کی سوزش کے بعد بنتے ہیں
٭ اس سوزش میں ہاضمے کے انزائمز وقت سے پہلے فعال ہو کر لبلبے کو نقصان پہنچاتے ہیں
٭ پیٹ پر چوٹ لگنے، مثلاً ٹریفک حادثے، کے بعد بھی پسوڈوسسٹ بن سکتے ہیںخطرے کے عوامل
٭ الکحل کا زیادہ استعمال اور پتے کی پتھری لبلبے کی سوزش کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جو پسوڈوسسٹ بننے کی ایک وجہ ہے
٭ پیٹ پر چوٹ لگنا بھی پسوڈوسسٹ بننے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے
تشخیص
ماضی کے مقابلے میں اب لبلبے کے سسٹ کی تشخیص زیادہ ہو رہی ہے، کیونکہ جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کا پتا آسانی سے چل جاتا ہے۔ اکثر یہ سسٹ پیٹ کے کسی دوسرے مسئلے کی جانچ کے دوران سامنے آتے ہیں۔
میڈیکل ہسٹری معلوم کرنے اور جسمانی معائنے کے بعد ڈاکٹر تشخیص اور علاج کی منصوبہ بندی کے لیے یہ ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں:
٭ ایم آر آئی اسکین: اس ٹیسٹ سے سسٹ کی باریک تفصیلات سامنے آتی ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ سسٹ میں ایسی کوئی خصوصیات تو موجود نہیں جو کینسر کے زیادہ خطرے کی نشاندہی کرتی ہوں
٭ سی ٹی اسکین: اس ٹیسٹ سے سسٹ کے سائز اور ساخت کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوتی ہیں
٭ اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ: اس ٹیسٹ سے سسٹ کی تفصیلی تصویر حاصل کی جاتی ہے۔ اس کے دوران سسٹ سے سیال مادے اور خلیات کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے، جسے کینسر کی ممکنہ علامات جانچنے کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے
٭ ایم آر سی پی: لبلبے کے سسٹ کی نگرانی کے لیے اسے ترجیحی امیجنگ ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس سے سسٹ اور لبلبے کی نالیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکتا ہے
علاج
سسٹ کی قسم، سائز، خصوصیات اور علامات کے مطابق ڈاکٹر نگرانی یا علاج کا فیصلہ کرتے ہیں۔
نگرانی اور انتظار
غیر سرطانی پسوڈوسسٹ بڑا ہونے کے باوجود علاج کے بغیر چھوڑا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس سے کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس لیے علامات پیدا نہ ہونے یا سائز نہ بڑھنے کی صورت میں اس کا علاج ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم، لبلبے کے بعض سسٹ کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
سسٹ سے سیال نکالنا
اگر پسوڈوسسٹ بڑھ رہا ہو یا تکلیف کا باعث بنے تو اس سے سیال نکالا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں اینڈوسکوپ نامی ایک باریک اور لچک دار نلکی منہ کے راستے معدے اور چھوٹی آنت تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس میں اینڈوسکوپک الٹراساؤنڈ کی سہولت بھی موجود ہو سکتی ہے۔ سوئی یا اسٹنٹ کی مدد سے سسٹ سے سیال نکالا جاتا ہے۔ بعض اوقات جلد کے راستے بھی سیال نکالنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سرجری
لبلبے کے بعض سسٹ میں کینسر کے خطرے کے باعث انہیں سرجری کے ذریعے نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر پسوڈوسسٹ بہت بڑا ہو یا سیروس سسٹ ایڈینوما درد اور دیگر علامات پیدا کرے تو اسے نکالنے کے لیے بھی سرجری کی جا سکتی ہے۔
اگر لبلبے کی سوزش مسلسل برقرار رہے تو پسوڈوسسٹ دوبارہ بن سکتا ہے۔
بعض اوقات سسٹ کے سیال کا نمونہ لے کر اس میں کینسر کے خلیات کی موجودگی جانچی جاتی ہے۔ ڈاکٹر کچھ سسٹ کی وقتاً فوقتاً نگرانی کا مشورہ بھی دے سکتے ہیں تاکہ کینسر کا خدشہ پیدا کرنے والی تبدیلیوں کا پتا چل سکے۔
بچاؤ
پسوڈوسسٹ سے بچنے کا بہترین طریقہ لبلبے کی سوزش سے بچاؤ ہے، جو عموماً پتے کی پتھری یا الکحل کے زیادہ استعمال سے ہوتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
لبلبے میں سسٹ کیا ہوتا ہے؟
لبلبے میں سسٹ سیال مادے سے بھری تھیلی ہوتی ہے، جو لبلبے کے اندر یا اس کی سطح پر بن سکتی ہے۔ زیادہ تر سسٹ غیر سرطانی ہوتے ہیں۔
لبلبے میں سسٹ بننے کی کیا وجوہات ہیں؟
زیادہ تر سسٹ کی وجہ معلوم نہیں۔ تاہم، لبلبے کی سوزش، پیٹ پر چوٹ اور بعض موروثی بیماریاں ان کے بننے سے وابستہ ہو سکتی ہیں۔
لبلبے کے سسٹ کی علامات کیا ہیں؟
پیٹ میں مسلسل درد، کمر تک پھیلتا ہوا درد، متلی، الٹی، وزن میں کمی اور کھانا شروع کرتے ہی پیٹ بھرنے کا احساس اس کی ممکنہ علامات ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیئ شائع کیا گیا ہے۔ مزید معلومات کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ڈاکٹرز سے رجوع کریں۔
https://www.shifa.com.pk/specialities/endocrinology-and-diabetes/islamabad