ماہرین غذائیات نے نوجوانوں میں پروٹین پاؤڈر کے غیر ضروری استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق متوازن غذا سے مطلوبہ پروٹین حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس سپلیمنٹس کا غیرمحتاط استعمال صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کی ڈائٹیشن زینب غیور کا کہنا ہے کہ 15 سال کے بہت سے نوجوان مسلز بنانے کے لیے شارٹ کٹس اختیار کرتے ہیں۔ بعض اوقات وہ جم میں غیر تربیت یافتہ افراد کے مشورے پر پروٹین پاؤڈر یا دیگر سپلیمنٹس لیتے ہیں۔ انہوں نے جسمانی نشوونما کے دوران گوشت، مچھلی اور انڈوں جیسی قدرتی غذاؤں کو ترجیح دینے کا مشورہ دیا۔
برطانوی ماہر غذائیت نکولا لڈلم رین کے مطابق بعض پروٹین پاؤڈرز میں موجود کچھ اجزا سے پیٹ پھولنے، گیس، مروڑ اور اسہال کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بعض میں اضافی چینی اور ایسے اجزا بھی ہوتے ہیں جن کی مکمل تفصیل لیبل درج نہیں ہوتی۔ ماہرین نے اس کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر یا مستند ماہر غذائیت سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔