Vinkmag ad

پرائمری پروگریسو افیزیا: بولنے اور زبان سمجھنے کی صلاحیت میں بتدریج کمی

Older woman pausing during a conversation with a younger woman, illustrating communication difficulties associated with primary progressive aphasia.

پرائمری پروگریسو افیزیا (Primary progressive aphasia) اعصابی نظام کی ایک بہت ہی کم پائی جانے والی بیماری ہے۔ اس میں خیالات بیان کرنے، مناسب الفاظ ڈھونڈنے اور دوسروں کی بات سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔

علامات آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں۔ ان کا آغاز اکثر 65 سال کی عمر سے پہلے ہوتا ہے۔ متاثرہ فرد بتدریج بولنے اور لکھنے کی صلاحیت کھو سکتا ہے۔ بالآخر لکھی اور بولی گئی زبان سمجھنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

بیماری کی رفتار سست ہوتی ہے۔ اس لیے بہت سے مریض کئی سال تک اپنی دیکھ بھال اور روزمرہ کام خود کرتے رہتے ہیں۔

دماغ پر کیا اثر پڑتا ہے

پرائمری پروگریسو افیزیا کو فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کی ایک قسم سمجھا جاتا ہے۔ یہ دماغ کے اگلے یا کنپٹیوں کے قریب موجود حصوں کے بتدریج خراب ہونے سے متعلق بیماریوں کا مجموعہ ہے۔

ہر مریض کو ابتدا ہی سے ڈیمنشیا نہیں ہوتا، تاہم زیادہ تر افراد میں بعد میں یہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ڈیمنشیا کی اصطلاح عموماً تب استعمال ہوتی ہے جب سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت اتنی متاثر ہو کہ فرد دوسروں کی مدد کے بغیر زندگی نہ گزار پائے۔

علامات اور اقسام

علامات کا انحصار اس بات پر ہے کہ زبان سے متعلق دماغ کا کون سا حصہ متاثر ہوا ہے۔ اس کی تین اہم اقسام ہیں۔

الفاظ کے معنی سمجھنے میں دشواری والی قسم

اسے سیمینٹک ویریئنٹ کہتے ہیں۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ بولی یا لکھی گئی زبان، خصوصاً الگ الگ الفاظ کے معنی سمجھنے میں دشواری

٭ چیزوں کے نام نہ بتا پانا

٭ الفاظ کے ہجے لکھنے میں دشواری، خصوصاً جب املا اور تلفظ مختلف ہوں

الفاظ ڈھونڈنے میں دشواری والی قسم

اسے لوگوپینک ویریئنٹ کہتے ہیں۔ اس کی علامات یہ ہیں:

٭ بولی گئی بات، خصوصاً طویل جملے سمجھنے میں مشکل پیش آنا

٭ گفتگو کے دوران الفاظ ڈھونڈتے ہوئے بار بار رکنا یا ہچکچانا

٭ جملوں کو دہرا نہ پانا

روانی اور جملے بنانے میں دشواری والی قسم

اسے نان فلوئنٹ ایگرامیٹک ویریئنٹ کہتے ہیں۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ لکھتے یا بولتے وقت الفاظ چھوڑ دینا یا انہیں غلط ترتیب میں استعمال کرنا

٭ پیچیدہ جملے سمجھنے میں مشکل ہونا

٭ بولنے اور الفاظ کی آوازیں درست ادا کرنے میں دشواری

آوازیں درست ادا کرنے کی مشکل کو اپریکسیا آف سپیچ کہتے ہیں۔ ایک متعلقہ کیفیت پرائمری پروگریسو اپریکسیا آف سپیچ بھی ہے۔ اس میں زبان سمجھنے یا جملے بنانے کی صلاحیت متاثر نہیں ہوتی۔ بنیادی مشکل بولنے میں ہوتی ہے، مثلاً آوازیں غلط ادا کرنا یا الفاظ تیزی سے نہ بول پانا۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اپنی بات بیان کرنے یا دوسروں کی بات سمجھنے کی صلاحیت میں کمی محسوس ہو تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ کسی عزیز یا دوست میں یہ علامات ہوں تو اس تک اپنی تشویش پہنچائیں۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی پیشکش بھی کریں۔ بولنے یا بات سمجھنے میں اچانک مشکل شروع ہو تو فوری طور پر مقامی ایمرجنسی سروس سے رابطہ کریں۔

وجوہات

پرائمری پروگریسو افیزیا دماغ کے بعض حصوں کے سکڑنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اس عمل کو ایٹروفی کہتے ہیں۔ یہ سکڑاؤ دماغ میں بعض مخصوص پروٹینز کی موجودگی سے منسلک ہے۔ یہ پروٹینز دماغ کی سرگرمی یا کارکردگی کم کرسکتے ہیں۔ اس میں دماغ کے اگلے، کنپٹیوں کے قریب یا اوپری درمیانی حصے متاثر ہوسکتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر دماغ کی بائیں جانب ہوتی ہیں۔ یہ حصے بولنے اور زبان سمجھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

خطرہ بڑھانے والے عوامل

بچپن میں سیکھنے کی مشکلات: جن افراد کو بچپن میں ڈسلیکسیا جیسی مشکل رہی ہو، ان میں بیماری کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔ ڈسلیکسیا میں پڑھنے اور الفاظ پہچاننے میں دشواری ہوتی ہے

بعض جینیاتی تبدیلیاں: زیادہ تر کیسز کسی واضح خاندانی تعلق کے بغیر ہوتے ہیں۔ تاہم بعض نایاب جینیاتی تبدیلیاں بھی اس بیماری سے منسلک ہیں

پیچیدگیاں

مریض بالآخر بولنے اور لکھنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ اس مرحلے تک پہنچنے میں تین سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔ لکھی اور بولی گئی بات سمجھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

بیماری بڑھنے کے ساتھ یادداشت، منصوبہ بندی اور کام ترتیب دینے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ بعض افراد کو حرکت کرنے، توازن برقرار رکھنے اور نگلنے میں دشواری ہوتی ہے۔ ان مسائل کے باعث روزمرہ دیکھ بھال میں مدد درکار ہونے لگتی ہے۔

بعض مریض ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دیگر پیچیدگیوں میں جذباتی ردعمل کم ہونا، درست فیصلے نہ کر پانا اور نامناسب سماجی رویہ شامل ہیں۔ مثلاً متاثرہ فرد دوسروں کے بارے میں فکرمندی ظاہر نہیں کرتا۔

بچاؤ کی تدابیر

اس بیماری سے بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ معلوم نہیں۔ تاہم دماغی صحت برقرار رکھنے کے لیے یہ عادات مفید ہیں:

٭ اچھی اور معیاری نیند لینا

٭ ذہنی دباؤ کم کرنا

٭ دوسروں سے میل جول اور تعلق برقرار رکھنا

٭ ورزش کرنا

٭ نئی چیزیں سیکھنا اور نئی سرگرمیاں آزمانا

٭ صحت بخش غذا کھانا

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا اس بیماری میں صرف بولنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے؟

نہیں۔ الفاظ ڈھونڈنے، جملے بنانے، لکھنے اور لکھی یا بولی گئی بات سمجھنے میں بھی دشواری ہوسکتی ہے۔

کیا مریض ابتدا ہی سے دوسروں کی مدد کا محتاج ہوجاتا ہے؟

ضروری نہیں۔ بیماری آہستہ بڑھتی ہے، اس لیے مریض کئی سال تک روزمرہ کام اور اپنی دیکھ بھال خود کرسکتا ہے۔

کیا یادداشت بھی متاثر ہوتی ہے؟

بیماری بڑھنے کے ساتھ یادداشت، منصوبہ بندی اور کام ترتیب دینے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

کیا بولنے میں اچانک مشکل بھی اس کی علامت ہے؟

اس بیماری کی علامات بتدریج بڑھتی ہیں۔ بولنے یا بات سمجھنے میں اچانک مشکل ہو تو فوری ایمرجنسی مدد لیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=medical-specialist

Vinkmag ad

Read Previous

کینالیتھ ری پوزیشننگ پروسیجر: چکر آنے کی ایک عام وجہ کا علاج

Read Next

سورائٹک آرتھرائٹس: چنبل کے ساتھ جوڑوں میں درد اور سوجن

Leave a Reply

Most Popular