کولپوسکوپی (Colposcopy) رحم کے منہ، یعنی سروکس کا تفصیلی معائنہ ہے۔ اس میں کولپوسکوپ نامی ایک خاص آلے کی مدد سے متعلقہ حصے کو میگنیفائی کرکے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے وجائنا اور بیرونی جنسی اعضا میں بیماری کی علامات بھی تلاش کی جاتی ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
پیپ ٹیسٹ یا پیڑو کے معائنے میں کوئی غیر معمولی بات سامنے آنے پر ڈاکٹر کولپوسکوپی تجویز کرتے ہیں۔ پیڑو پیٹ کے نچلے حصے کا ایریا ہے، جہاں رحم اور دیگر تولیدی اعضا ہوتے ہیں۔
اس معائنے سے ان مسائل کی تشخیص میں مدد ملتی ہے:
٭ جنسی اعضا پر مسے
٭ رحم کے منہ کی سوزش
٭ رحم کے منہ پر غیر سرطانی ابھار، مثلاً پولپس
٭ رحم کے منہ کے ٹشو میں کینسر بننے سے پہلے کی تبدیلیاں
٭ وجائنا کے ٹشو میں کینسر بننے سے پہلے کی تبدیلیاں
٭ بیرونی زنانہ اعضا میں کینسر بننے سے پہلے کی تبدیلیاں
٭ رحم کے منہ کا کینسر
٭ وجائنا کا کینسر
٭ بیرونی زنانہ اعضا کا کینسر
ممکنہ خطرات
کولپوسکوپی ایک محفوظ معائنہ ہے، جس کے خطرات بہت کم ہیں۔ البتہ اس دوران بائیوپسی کی جائے تو شاذونادر صورتوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ زیادہ خون بہنا
٭ انفیکشن
٭ پیڑو میں درد
معائنے کی تیاری
معائنے سے پہلے آپ کی ڈاکٹر یہ ہدایات دے سکتی ہے:
٭ معائنے کے لیے ایسے دن کا انتخاب کریں، جب ماہواری نہ ہورہی ہو
٭ معائنے سے ایک یا دو دن پہلے جنسی تعلق سے گریز کریں
٭ ایک یا دو دن پہلے ٹیمپون استعمال نہ کریں
٭ دو دن پہلے سے وجائنا میں استعمال ہونے والی ادویات نہ لگائیں
٭ معائنے کے لیے جانے سے پہلے، ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق پین کلرز لیں
معائنے کے دوران
کولپوسکوپی عموماً ڈاکٹر کے کلینک میں ہوتی ہے۔ اس میں عام طور پر 10 سے 20 منٹ لگتے ہیں۔
آپ معائنے کی میز پر کمر کے بل لیٹتی ہیں اور پاؤں مخصوص سہاروں پر رکھتی ہیں۔ یہ پوزیشن پیپ ٹیسٹ یا پیڑو کے معائنے جیسی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر وجائنا میں دھات یا پلاسٹک کا آلہ رکھتی ہے جسے سپیکیولم کہتے ہیں۔ یہ وجائنا کی دیواریں کھلی رکھتا ہے، تاکہ رحم کا منہ واضح دکھائی دے۔ کولپوسکوپ، بیرونی زنانہ اعضا سے چند انچ دور رکھ جاتی ہے۔ ڈاکٹر وجائنا میں تیز روشنی ڈالتے ہیں۔ پھر دوربین کی طرح اس آلے کے عدسے سے متعلقہ حصہ دیکھتے ہیں۔
روئی سے رحم کے منہ اور وجائنا کی رطوبت صاف کی جاتی ہے۔ اس کے بعد سرکہ یا کوئی دوسرا محلول لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے ہلکی جلن یا چبھن محسوس ہوسکتی ہے۔ محلول مشکوک خلیوں والے حصوں کو نمایاں کرتا ہے۔
بائیوپسی
کوئی مشکوک حصہ ملے تو ڈاکٹر مخصوص آلے سے ٹشو کا چھوٹا سا نمونہ لیتے ہیں۔ اسے جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے۔ اس عمل کو بائیوپسی کہتے ہیں۔ مختلف جگہوں پر مشکوک تبدیلیاں ہوں تو ایک سے زیادہ نمونے لیے جاسکتے ہیں۔ خون بہنا کم کرنے کے لیے ان جگہوں پر کیمیائی محلول لگایا جاسکتا ہے۔
معائنے کے بعد
اگر بائیوپسی نہ کی گئی ہو تو معائنہ مکمل ہونے کے بعد معمول کی سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ اگلے ایک یا دو دن خون کے معمولی دھبے یا بہت ہلکا خون آسکتا ہے۔ بائیوپسی ہونے کی صورت میں یہ علامات محسوس ہوسکتی ہیں:
٭ ایک یا دو دن وجائنا یا بیرونی زنانہ اعضا میں درد
٭ چند دن وجائنا سے ہلکا خون آنا
٭ وجائنا سے گہرے رنگ کا مواد نکلنا
خون یا خارج ہونے والے مواد کے لیے سینیٹری پیڈ استعمال کریں۔ بائیوپسی کے بعد ایک ہفتے تک ٹیمپون اور جنسی تعلق سے گریز کریں۔ وجائنا کو اندر سے پانی یا محلول سے دھونے (ڈوشنگ) سے بھی پرہیز کریں۔ اگر ڈاکٹر زیادہ مدت بتائیں تو ان کی ہدایت پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے کب رابطہ کریں
کوئی علامت مسلسل برقرار رہے اور آپ کو پریشان کرے تو اپنی ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
یہ علامات کسی پیچیدگی کا اشرہ ہو سکتی ہیں:
٭ معمول کی ماہواری سے زیادہ خون بہنا
٭ کپکپی
٭ بخار
٭ پیٹ میں شدید درد
نتائج
کلینک سے جانے سے پہلے پوچھ لیں کہ معائنے اور بائیوپسی کے نتائج کب تک ملیں گے۔ نتائج کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ مزید ٹیسٹ یا علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا کولپوسکوپی تجویز ہونے کا مطلب کینسر ہے؟
نہیں۔ یہ معائنہ سوزش، مسوں، غیر سرطانی ابھاروں اور کینسر بننے سے پہلے کی تبدیلیوں کی تشخیص میں بھی مدد دیتا ہے۔
کیا ہر کولپوسکوپی میں بائیوپسی ہوتی ہے؟
نہیں۔ ڈاکٹر کو کوئی مشکوک حصہ دکھائی دے تو ٹشو کا نمونہ لیا جاسکتا ہے۔
معائنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
عام طور پر یہ معائنہ 10 سے 20 منٹ میں مکمل ہوتا ہے۔
کیا کولپوسکوپ جسم کے اندر داخل کیا جاتا ہے؟
کولپوسکوپ جسم کے باہر رکھا جاتا ہے۔ وجائنا کی دیواریں کھلی رکھنے کے لیے سپیکیولم اندر رکھا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne