انسانی دماغ کی تشکیل کے بارے میں طویل عرصے سے قائم تصور کو نئی تحقیق نے چیلنج کر دیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں کی بنیاد دو الگ اقسام کے ابتدائی خلیوں سے پڑتی ہے۔
سٹینفورڈ میڈیسن کی تحقیق 18 ستمبر کو جرنل نیچر نیورو سائنس میں شائع ہوئی۔ محققین نے چوہوں کے ایمبریوز میں دماغ بنانے والے دو الگ پروجینیٹر خلیوں کی نشاندہی کی۔ انسانی سٹیم سیلز پر تجربات سے بھی اس تقسیم کی تائید ہوئی۔
ایک قسم کے خلیے آگے چل کر دماغ کے اگلے اور درمیانی حصے بناتے ہیں، جبکہ دوسری قسم پچھلا حصہ بناتی ہے۔ اگلا حصہ زبان، شعور اور پیچیدہ سوچ جیسے افعال سے متعلق ہے، جبکہ پچھلا حصہ سانس اور دل کی دھڑکن جیسے بنیادی افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
محققین نے انسانی سٹیم سیلز سے پچھلے دماغ کے مخصوص موٹر نیورونز بھی تیار کیے۔ انہیں لیبارٹری میں بنانا پہلے مشکل تھا۔ اس پیش رفت سے اے ایل ایس اور سپائنل مسکولر ایٹروفی جیسی بیماریوں پر تحقیق میں مدد مل سکتی ہے۔