خواتین میں جنسی مسائل (Female sexual dysfunction) کا زیادہ تر تعلق جنسی خواہش، جسمانی ردعمل، آرگزم یا جنسی تعلق کے دوران درد سے ہے۔ یہ مسائل خاتون کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں یا شریکِ حیات کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
جنسی ردعمل پر جسمانی صحت، جذبات، حالاتِ زندگی، ذاتی عقائد، طرز زندگی اور شریکِ حیات کے ساتھ تعلقات اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی پہلو میں مسئلہ جنسی خواہش، تحریک یا اطمینان کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے علاج میں مختلف عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
علامات
علامات مسئلے کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔
٭ جنسی خواہش میں کمی
٭ جنسی تحریک میں دشواری
٭ آرگزم میں دشواری
٭ جنسی تعلق کے دوران درد
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر جنسی مسائل پریشانی کا باعث بن رہے ہوں یا شریکِ حیات کے ساتھ تعلق کو متاثر کر رہے ہوں تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
وجوہات
خواتین میں جنسی مسائل کے کئی جسمانی، ہارمونل، نفسیاتی اور سماجی عوامل ہو سکتے ہیں۔
جسمانی عوامل
کینسر، ذیابیطس، گردوں کی خرابی، ملٹی پل سکلروسس، دل کی بیماری اور مثانے کے بعض مسائل جنسی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کچھ ادویات بھی جنسی خواہش کم یا آرگزم تک پہنچنا مشکل بنا سکتی ہیں۔ ان میں ڈپریشن، ہائی بلڈ پریشر، الرجی اور کینسر کے علاج کی بعض ادویات شامل ہیں۔
ہارمونل عوامل
مینوپاز کے بعد ایسٹروجن کی سطح کم ہونے سے جنسی اعضا کے ٹشوز میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سے جنسی ردعمل متاثر ہو سکتا ہے۔
نفسیاتی اور سماجی عوامل
ڈپریشن، بے چینی، جذباتی دباؤ یا شریکِ حیات کے ساتھ تعلق میں تناؤ جنسی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
خطرے کے عوامل
جنسی مسائل کا خطرہ بڑھانے والے عوامل میں شامل ہیں:
٭ ڈپریشن، بے چینی اور ذہنی صحت کے دیگر مسائل
٭ دل کی بیماری، ذیابیطس اور کینسر
٭ دماغ اور سپائن سے متعلق اعصابی مسائل، جیسے سپائنل کارڈ انجری یا ملٹی پل سکلروسس
٭ گائناکالوجیکل مسائل، جن میں انفیکشن بھی شامل ہیں
٭ بعض ادویات، خصوصاً ڈپریشن یا ہائی بلڈ پریشر کی ادویات
٭ ماضی میں جنسی استحصال
٭ پرائیویسی کی کمی
تشخیص
خواتین میں جنسی مسائل کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات اور ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جنسی اور میڈیکل ہسٹری
ڈاکٹر جنسی صحت سے متعلق مسائل، میڈیکل ہسٹری اور ضرورت کے مطابق جینڈر آئیڈینٹیٹی کے بارے میں پوچھ سکتا ہے۔ یہ معلومات مسئلے کی ممکنہ وجہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔
پیلوک ایگزام
پیلوک ایگزام کے ذریعے ایسی جسمانی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے جو جنسی تعلق میں درد یا اطمینان کی کمی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان میں جنسی اعضا کے ٹشوز کا پتلا ہونا، زخم کے نشانات یا درد شامل ہیں۔
خون کے ٹیسٹ
خون کے ٹیسٹ سے ایسی طبی وجوہات کا پتا لگانے میں مدد مل سکتی ہے جو جنسی مسائل میں کردار ادا کر رہی ہوں۔
علاج
خواتین میں جنسی مسائل کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے علاج ہر خاتون کی ضرورت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سے علامات، خدشات اور توقعات کے بارے میں کھل کر بات کرنا مناسب علاج کے انتخاب میں مدد دیتا ہے۔
علاج میں جسمانی، جذباتی اور تعلقات سے متعلق عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اگر شریکِ حیات کے ساتھ تعلق بھی متاثر ہو رہا ہو تو کاؤنسلنگ یا تھراپی مددگار ہو سکتی ہے۔
وجائنل ایسٹروجن
وجائنا کی خشکی کم کرنے کے لیے ایسٹروجن استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ کریم، ٹیبلٹ یا وجائنا میں رکھی جانے والی مخصوص رِنگ (Vaginal ring) کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔
سلیکٹو ایسٹروجن ریسیپٹر موڈیولیٹر
یہ دوا منہ کے ذریعے لی جاتی ہے۔ اسے وجائنا کے ٹشوز پتلے ہونے کی وجہ سے جنسی تعلق کے دوران ہونے والے درد کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دوا بریسٹ کینسر کی ہسٹری یا اس کے زیادہ خطرے والی بعض خواتین کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔
ٹیسٹوسٹیرون تھراپی
بعض خواتین میں مخصوص حالات کے تحت ٹیسٹوسٹیرون تھراپی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ممکنہ فوائد اور نقصانات کو دیکھتے ہوئے اس کے استعمال کا فیصلہ ڈاکٹر کرتا ہے۔
طرز زندگی اور گھریلو اقدامات
اپنے جسم کو قبول کرنا اور خود اعتمادی بہتر بنانا جنسی صحت کے لیے مددگار ہو سکتا ہے۔ صحت مند طرز زندگی بھی مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
٭ الکوحل کا زیادہ استعمال نہ کریں
٭ تمباکو نوشی نہ کریں
٭ باقاعدگی سے واک یا جسمانی سرگرمی کریں
٭ ذہنی دباؤ کم کرنے اور ریلیکس ہونے کے طریقے اپنائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا خواتین میں جنسی خواہش کی کمی عام بات ہے؟
جنسی خواہش میں وقتاً فوقتاً کمی آ سکتی ہے۔ اگر یہ مسئلہ مسلسل رہے یا پریشانی کا باعث بنے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
کیا مینوپاز کے بعد جنسی تعلق میں درد ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ ایسٹروجن کی سطح کم ہونے سے وجائنا کے ٹشوز میں تبدیلی اور خشکی ہو سکتی ہے، جس سے جنسی تعلق کے دوران درد ہو سکتا ہے۔
کیا ذہنی دباؤ خواتین کی جنسی صحت کو متاثر کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔ ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن اور تعلقات میں تناؤ جنسی خواہش اور اطمینان کو متاثر کر سکتے ہیں۔
کیا خواتین کے جنسی مسائل کا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں۔ علاج بنیادی وجہ اور علامات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس میں طبی علاج، کاؤنسلنگ، ہارمونل علاج یا طرز زندگی میں تبدیلی شامل ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne