مثانے کا کینسر (Bladder cancer) زیادہ تر ان خلیوں سے شروع ہوتا ہے جو مثانے کی اندرونی سطح پر موجود حفاظتی تہہ بناتے ہیں۔ ان خلیوں میں غیر معمولی تبدیلیاں آنا اور ان کا بے قابو ہو کر بڑھنا کینسر کا باعث بنتا ہے۔
علامات
* بار بار پیشاب کی حاجت ہونا
* پیشاب کرتے وقت درد یا جلن محسوس ہونا
* کمر کے نچلے حصے میں درد ہونا، خاص طور پر اگر درد مسلسل رہے یا کسی واضح وجہ کے بغیر ہو
اگر پیشاب میں خون نظر آئے، چاہے صرف ایک بار ہی کیوں نہ ہو، یا مذکورہ علامات مسلسل برقرار رہیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں
وجوہات
ڈی این اے ہر خلیے کو یہ ہدایات دیتا ہے کہ اسے کب بڑھنا، تقسیم ہونا اور ختم ہونا ہے۔ جب اس میں تبدیلی آتی ہے تو خلیے غیر معمولی تیزی سے بڑھنے اور تقسیم ہونے لگتے ہیں۔ ان کے جمع ہونے سے رسولی بن جاتی ہے۔ یہ رسولی آس پاس کے صحت مند ٹشوز میں پھیل کر انہیں نقصان پہنچاتی ہے۔
اقسام
مثانے کے کینسر کی قسم اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کینسر مثانے کے کس قسم کے خلیوں میں شروع ہوا ہے۔ اہم اقسام یہ ہیں:
یوروتھیلیل کارسینوما
یہ مثانے کے کینسر کی عام پائی جانے والی قسم ہے جو اس کے یوروتھیلیل خلیوں میں شروع ہوتی ہے۔ یہی خلیے یوریٹرز (جو گردوں سے پیشاب مثانے تک لاتے ہیں) کی اندرونی سطح پر بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ان حصوں میں بھی اسی قسم کا کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔
سکوامس سیل کارسینوما
یہ نسبتاً کم پائی جانے والی قسم ہے۔ یہ عموماً مثانے میں طویل عرصے تک رہنے والی سوزش کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ بار بار پیشاب کی نالی کا انفیکشن، اور پیشاب کی نالی میں طویل عرصے تک کیتھیٹر لگا رہنا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
ایڈینوکارسینوما
یہ بہت ہی کم پایا جانے والا مثانے کا کینسر ہے۔ یہ ان خلیوں میں شروع ہوتا ہے جو مثانے میں لعاب نما مادہ بنانے والے غدود کا حصہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ میں ان میں سے کوئی علامت موجود ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں:
٭ پیشاب کا رنگ غیر معمولی، خاص طور پر سرخ، گلابی یا گہرا بھورا نظر آئے
٭ پیشاب میں خون ہونے کا شبہ ہو
٭ پیشاب کرتے وقت درد یا جلن محسوس ہو
٭ بار بار پیشاب آئے
٭ کمر کے نچلے حصے میں درد ہو
خطرے کے عوامل
مثانے کے کینسر کا خطرہ بڑھنے والے عوامل میں شامل ہیں:
* تمباکو نوشی
* عمر میں اضافہ۔ یادہ تر مریضوں کی عمر 55 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔
* خاتون ہونا
* بعض کیمیائی مادے جیسے آرسینک وغیرہ
* کینسر کی بعض ادویات
* بار بار ہونے والے پیشاب کی نالی کا انفیکشن
* پہلے مثانے کا کینسر ہونا، یا اس کی فیملی ہسٹری
* لنج سنڈروم
تشخیص
مثانے کے کینسر کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر کچھ ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں:
٭ سسٹوسکوپی، جس میں سسٹوسکوپ کی مدد سے مثانے اور پیشاب کی نالی کی اندرونی سطح کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ بائیوپسی، جس میں ٹشو کا چھوٹا سا نمونہ لے کر لیبارٹری میں جائزہ لیاجاتا ہے ۔
٭ یورین سائٹولوجی، جس میں پیشاب کے نمونے کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس میں کینسر کے خلیے موجود ہیں یا نہیں۔
٭ امیجنگ ٹیسٹ، جو پیشاب سے متعلق اعضاء کی تفصیلی تصاویر فراہم کرتے ہیں۔ ان میں سی ٹی یوروگرام اور ریٹروگریڈ پائیلوگرام سٹی سکین، ایم آر آئی،پی ای ٹی سکین، ہڈیوں کا سکین اور ایکسرے شامل ہیں۔
علاج
مثانے کے کینسر کا علاج ہر مریض کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر علاج کا انتخاب کئی اہم عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
* کینسر کی قسم
* کینسر کی گریڈنگ
* کینسر کا مرحلہ
* مریض کی مجموعی صحت
* مریض کی ضروریات اور علاج سے متعلق ترجیحات
ان تمام عوامل کا جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر علاج پلان کرتے ہیں۔ ان میں سرجری، کیموتھراپی، ریڈی ایشن تھراپی، امیونوتھراپی، ٹارگٹڈ تھراپی یا ان میں سے ایک یا ایک سے زیادہ طریقوں کا امتزاج شامل ہو سکتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا پیشاب میں خون آنا ہمیشہ مثانے کے کینسر کی علامت ہوتا ہے؟
پیشاب میں خون انفیکشن، گردے یا مثانے کی پتھری یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے بھی آ سکتا ہے۔ تاہم یہ مثانے کے کینسر کی ابتدائی علامت بھی ہو سکتی ہے۔
مثانے کے کینسر کا علاج کن عوامل پر منحصر ہوتا ہے؟
علاج کا انتخاب کینسر کی قسم، گریڈ، مرحلے مریض کی مجموعی صحت اور کینسر کے پھیلاؤ کو مدِنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
کیا مثانے کے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے؟
خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، تاہم کچھ اقدامات خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق کسی بھی مسئلے میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=oncologist