Vinkmag ad

فیس لفٹ: چہرے پر عمر کے اثرات کم کرنے کی سرجری

Woman undergoing a face-lift procedure to reduce visible signs of facial aging

فیس لفٹ (Face-lift) ایک کاسمیٹک سرجری ہے جو چہرے پر عمر کے نمایاں اثرات کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ اس سے ڈھیلی جلد اور گالوں یا جبڑے کے اطراف گہری تہیں کم کی جا سکتی ہیں۔ اسے رائٹیڈیکٹومی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سرجری باریک لکیروں، دھوپ سے جلد کو پہنچنے والے نقصان یا رنگت میں تبدیلی کا علاج نہیں کرتی۔

کیوں کی جاتی ہے

یہ سرجری عمر بڑھنے کے ساتھ چہرے میں آنے والی بعض تبدیلیاں کم کرنے کے لیے کی جاتی ہے، مثلاً:

٭ گالوں کی جلد ڈھیلی پڑنا

٭ جبڑے کے نچلے حصے میں اضافی جلد

٭ ناک کے اطراف سے منہ کے کونوں تک جلد کی گہری تہیں

٭ نیک لفٹ کی صورت میں گردن کی ڈھیلی جلد اور اضافی چربی

خطرات

سرجری کے بعد بعض پیچیدگیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ بیشتر کا علاج ادویات، مناسب نگہداشت یا ضرورت پڑنے پر سرجری سے کیا جا سکتا ہے۔ طویل عرصے تک رہنے والے مسائل کم ہوتے ہیں، تاہم چہرے کی ظاہری شکل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے متعلق کچھ خطرات یہ ہیں:

ہیماٹوما: جلد کے نیچے خون جمع ہونے کو ہیماٹوما کہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سوجن اور دباؤ پیدا ہوتا ہے

سرجری کے داغ: کٹس کے داغ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتے، لیکن ہیئر لائن اور چہرے یا کانوں کی ساخت عموماً انہیں چھپا دیتی ہے۔ کبھی کبھار داغ ابھر سکتا ہے

اعصاب کو نقصان: یہ پیچیدگی کم ہوتی ہے۔ اعصاب کو نقصان پہنچنے سے چہرے کی حس یا بعض پٹھوں کی حرکت میں خلل آ سکتا ہے

بال جھڑنا: کٹس کے آس پاس بال عارضی طور پر جھڑ سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ مسئلہ مستقل بھی ہو سکتا ہے

جلد کو نقصان: شاذونادر چہرے کے ٹشوز تک خون کی فراہمی رک سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جلد کے کچھ حصے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور داغ پڑ سکتے ہیں

کن صورتوں میں خطرہ بڑھ سکتا ہے

بعض عوامل پیچیدگیوں یا غیر تسلی بخش نتائج کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ ایسی صورت میں سرجن یہ عمل نہ کرانے کا مشورہ بھی دے سکتا ہے:

٭ جب آپ خون پتلا کرنے والی ادویات یا بعض سپلیمنٹس استعمال کر رہے ہوں

٭ خون جمنے میں رکاوٹ پیدا کرنے والی بعض بیماریاں

٭ ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کا مناسب کنٹرول نہ ہونا

٭ سگریٹ نوشی

٭ وزن میں بار بار نمایاں کمی یا اضافہ

٭ ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی لینا

ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی میں جسم میں کم ہونے والے ہارمونز کی کمی پوری کرنے کے لیے ہارمونز دیے جاتے ہیں۔ اس سے ڈیپ وین تھرومبوسس (ڈی وی ٹی) سمیت خون کے کلاٹ بننے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ڈی وی ٹی میں جسم کی کسی گہری رگ، عموماً ٹانگ میں، خون کا کلاٹ بن جاتا ہے۔

تیاری

سرجری سے پہلے پلاسٹک سرجن سے تفصیلی مشورہ کیا جاتا ہے۔ اس میں میڈیکل ہسٹری، ادویات، چہرے کی ساخت اور مطلوبہ نتائج کا جائزہ شامل ہو سکتا ہے۔

میڈیکل ہسٹری اور معائنہ: سرجن آپ کی میڈیکل ہسٹری، سابقہ سرجریز اور موجودہ طبی مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔

ادویات کا جائزہ: ڈاکٹر نسخے والی اور بغیر نسخے کے دستیاب ادویات کے بارے میں پوچھتا ہے۔ ہربل ادویات، وٹامنز اور دیگر سپلیمنٹس کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔

چہرے کا معائنہ: پلاسٹک سرجن مختلف زاویوں سے چہرے کی تصاویر لے سکتا ہے۔ وہ ہڈیوں کی ساخت، چہرے کی بناوٹ، چربی اور جلد کی کیفیت کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ اس سے سرجری کا مناسب طریقہ منتخب کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مطلوبہ نتائج: سرجن آپ کی توقعات کے بارے میں بات کرتا ہے۔ وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ سرجری سے کون سی تبدیلیاں ممکن ہیں اور کن مسائل کو دور نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں ان ہدایات پر عمل کریں:

٭ صرف وہی ادویات لیں جن کی ڈاکٹر اجازت دے

٭ ہدایات کے مطابق چہرہ اور بال دھوئیں

٭ کھانے پینے سے متعلق دی گئی ہدایات پر عمل کریں

٭ گھر واپسی اور ابتدائی نگہداشت کے لیے کسی شخص کی مدد کا انتظام کریں

طریقہ کار

یہ پروسیجر ہسپتال یا آؤٹ پیشنٹ سرجیکل سینٹر میں کیا جا سکتا ہے۔

سرجری سے پہلے

سکون اور غنودگی کے لیے سیڈیشن دی جا سکتی ہے۔ سرجری والے حصے کو سن کرنے کے لیے لوکل اینستھیزیا دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے، جس سے مریض بے ہوش رہتا ہے۔ سرجن رہنمائی کے لیے چہرے پر مارکر سے نشانات بھی لگا سکتا ہے۔

سرجری کے دوران

عام طور پر سرجن جلد کو اٹھا کر اس کے نیچے موجود ٹشوز اور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ چہرے کی چربی کو ضرورت کے مطابق نئی شکل دی، ہٹایا یا دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد جلد کو مناسب انداز میں دوبارہ چہرے پر رکھا جاتا ہے۔ اضافی جلد ہٹا کر کٹس کو ٹانکوں سے بند کر دیا جاتا ہے۔

کٹ کی جگہ سرجری کے طریقے اور مطلوبہ نتائج کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔

روایتی کٹ: یہ کنپٹی کے قریب ہیئر لائن سے شروع ہوتا ہے۔ پھر کان کے سامنے سے گزرتا ہوا کان کے پیچھے نچلی کھوپڑی تک جاتا ہے۔ گردن کی ظاہری شکل بہتر بنانے کے لیے ٹھوڑی کے نیچے بھی کٹ لگایا جا سکتا ہے۔

محدود کٹ: یہ نسبتاً چھوٹا کٹ ہے جو کان کے اوپر ہیئر لائن سے شروع ہو کر کان کے سامنے تک جاتا ہے۔ یہ نچلی کھوپڑی تک نہیں پہنچتا۔

نیک لفٹ کٹ: یہ کان کی لو کے سامنے سے شروع ہو کر کان کے گرد نچلی کھوپڑی تک جاتا ہے۔ ٹھوڑی کے نیچے ایک چھوٹا کٹ بھی لگایا جاتا ہے۔

یہ سرجری عموماً تین سے چھ گھنٹے میں مکمل ہوتی ہے۔ اگر ساتھ کوئی دوسری کاسمیٹک سرجری بھی کی جائے تو زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

سرجری کے بعد

کچھ عرصے تک یہ مسائل ہو سکتے ہیں:

٭ درد

٭ کٹس سے سیال خارج ہونا

٭ سوجن

٭ نیل پڑنا

٭ سن ہونا

فوری طبی رابطہ کب کریں

ان علامات کی صورت میں بلاتاخیر ڈاکٹر سے رابطہ کریں:

٭ پہلے 24 گھنٹوں میں چہرے یا گردن کے ایک طرف شدید درد

٭ سانس لینے میں دشواری

٭ سینے میں درد

٭ دل کی بے قاعدہ دھڑکن

چہرے پر پٹی لگائی جا سکتی ہے۔ اس کا ہلکا دباؤ سوجن اور نیل کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک یا دونوں کانوں کے پیچھے ڈرین ٹیوب بھی لگائی جا سکتی ہے۔ یہ باریک نلکی جمع ہونے والا خون یا اضافی سیال باہر نکالتی ہے۔

ابتدائی چند دنوں میں:

٭ سر اونچا رکھ کر آرام کریں

٭ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق درد کی دوا لیں

٭ درد اور سوجن کم کرنے کے لیے چہرے پر ٹھنڈا پیک لگائیں

فالو اَپ

سرجری کے بعد تقریباً دو ماہ تک فالو اَپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اگلے دن سرجن ڈرین ٹیوب نکال سکتا ہے۔ کٹس پر اینٹی بایوٹک مرہم لگا کر نئی پٹیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

تقریباً دو سے تین دن بعد پٹی کی جگہ فیشل سلنگ استعمال کرنے کا مشورہ دیا جا سکتا ہے۔ یہ چہرے کو سہارا دینے والی لچک دار پٹی ہوتی ہے۔

تقریباً ایک ہفتے بعد ٹانکے نکالے جاتے ہیں اور زخم کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ صحت یابی کا جائزہ لینے کے لیے بعد میں بھی معائنے کیے جا سکتے ہیں۔

گھر پر دیکھ بھال

ابتدائی تین ہفتوں میں مناسب دیکھ بھال صحت یابی میں مدد دیتی اور پیچیدگیوں کا خطرہ کم کرتی ہے۔ اس دوران ان ہدایات پر عمل کریں:

٭ زخم کی دیکھ بھال ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق کریں

٭ زخم پر بننے والی پپڑی نہ چھیڑیں

٭ شیمپو اور صابن کا استعمال ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق شروع کریں

٭ سامنے سے کھلنے والے کپڑے پہنیں تاکہ انہیں سر کے اوپر سے نہ اتارنا پڑے

٭ کٹ کے آس پاس دباؤ ڈالنے یا اسے زیادہ حرکت دینے سے گریز کریں

٭ میک اپ استعمال نہ کریں

٭ سخت جسمانی سرگرمیوں اور کھیلوں سے گریز کریں

٭ پہلے تین ہفتوں تک کٹس کو براہِ راست دھوپ سے بچائیں۔ اس کے بعد ایس پی ایف 30 یا اس سے زیادہ سن اسکرین استعمال کریں

٭ کم از کم چھ ہفتوں تک بالوں کو رنگنے، بلیچ کرنے یا پرم کرانے سے گریز کریں

نتائج

اس سرجری سے چہرے اور گردن پر عمر کے بعض نمایاں اثرات کم ہو سکتے ہیں۔ تاہم نتائج مستقل نہیں ہوتے اور عمر بڑھنے کا قدرتی عمل جاری رہتا ہے۔ وقت کے ساتھ جلد دوبارہ ڈھیلی پڑ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

مثانے کا کینسر

Read Next

منہ کے فرش کا کینسر

Leave a Reply

Most Popular