Vinkmag ad

مولڈ الرجی: نمی میں اگنے والی فنگس سے الرجی

Man wearing protective gloves while carefully touching a mold-covered wall to inspect dampness and avoid mold allergy, highlighting safe mold handling

مولڈ، نمی والی جگہوں پر اگنے والی ایک فنگس ہے۔ اس کے باریک ذرات ہوا میں شامل ہو کر سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کا مدافعتی نظام ان ذرات کے خلاف ضرورت سے زیادہ حساس ردعمل ظاہر کرتا ہے، جسے مولڈ الرجی (Mold allergy) کہا جاتا ہے۔ اس سے کھانسی، آنکھوں میں خارش اور دیگر علامات پیدا ہوتی ہیں۔ اگر کسی فرد کو مولڈ الرجی اور دمہ دونوں ہوں تو مولڈ کے ذرات سے رابطہ ہونے پر دمے کی علامات شدید ہو سکتی ہیں۔

علامات

مولڈ الرجی کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ چھینکیں آنا

٭ ناک بہنا یا بند ہونا

٭ کھانسی اور گلے میں ناک کی رطوبت اترنا

٭ آنکھوں، ناک اور گلے میں خارش

٭ آنکھوں سے پانی آنا

٭ جلد کا خشک اور خارش زدہ ہونا

مولڈ الرجی کی علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ ہلکی بھی ہو سکتی ہیں اور شدید بھی۔ بعض افراد کو یہ علامات پورا سال رہتی ہیں، جبکہ بعض میں صرف مخصوص موسموں میں ظاہر ہوتی ہیں۔ زیادہ نمی والے موسم یا ایسی جگہوں پر، جہاں مولڈ زیادہ مقدار میں موجود ہو، علامات بڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر ناک مسلسل بند رہے، بار بار چھینکیں آئیں، آنکھوں سے پانی آئے، سانس لینے میں دشواری ہو، سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

وجوہات

٭ الرجی پیدا کرنے والے عام مولڈ میں ملڈیو، الٹرنیریا، ایسپرجیلس، کلاڈوسپوریم اور پینی سیلیم شامل ہیں

٭ مولڈ کی صرف چند ہی اقسام الرجی کا باعث بنتی ہیں۔ اگر مولڈ کی ایک قسم سے الرجی ہے تو ضروری نہیں کہ دوسری اقسام سے بھی الرجی ہو

خطرے کے عوامل

کئی عوامل مولڈ الرجی ہونے یا اس کی علامات بڑھنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ فیملی ہسٹری ہونا

٭ ایسی ملازمت کرنا، جہاں مولڈ سے زیادہ رابطہ ہوتا ہو

٭ ایسے گھر میں رہنا یا عمارت میں کام کرنا جہاں نمی زیادہ ہو

٭ تہہ خانے، دیواروں کے اندر، ٹائلوں کی درزوں، قالین کے نیچے یا قالین میں مولڈ موجود ہو۔

٭ ایسے گھر میں رہنا، جہاں ہوا کی مناسب آمدورفت نہ ہو

پیچیدگیاں

بعض صورتوں میں مولڈ سے الرجی زیادہ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:

٭ مولڈ سے پیدا ہونے والا دمہ

٭ الرجک فنگل سائنوسائٹس، جس میں فنگس کی وجہ سے ناک کے اردگرد کی ہڈیوں میں سوزش ہو جاتی ہے

٭ ہائپرسینسٹیویٹی نمونائٹس، جس میں مولڈ کے ذرات کے سامنے آنے سے پھیپھڑوں میں سوزش ہو جاتی ہے

٭ الرجک برونکوپلمونری ایسپرجیلوسس، جس میں فنگس کی وجہ سے پھیپھڑوں اور سانس کی نالیوں میں الرجی پیدا ہو جاتی ہے

بچاؤ کی تدابیر

گھر میں مولڈ بننے سے روکنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

٭ تہہ خانے میں نمی کے تمام ذرائع ختم کریں، جیسے پائپ سے پانی رسنا یا زمین سے پانی اندر آنا

٭ اگر گھر کے کسی حصے سے سیلن یا نمی کی بو آتی ہو تو وہاں ڈی ہیومیڈیفائر استعمال کریں

٭ ایئر کنڈیشنر استعمال کریں۔ اگر ممکن ہو تو ایسا سینٹرل ایئر کنڈیشننگ سسٹم لگوائیں، جس میں ہیپا فلٹر لگا ہو

٭ ایئر کنڈیشنر کے فلٹر باقاعدگی سے تبدیل کریں

٭ تمام غسل خانوں میں ہوا کی مناسب آمدورفت یقینی بنائیں۔ نہاتے وقت اور اس کے فوراً بعد ایگزاسٹ فین چلائیں تاکہ نمی ختم ہو جائے۔ اگر ایگزاسٹ فین نہ ہو تو کھڑکی یا دروازہ کھلا رکھیں

٭ غسل خانوں اور تہہ خانوں میں قالین نہ بچھائیں

٭ گھر کی بنیاد کے اردگرد سے پتے اور جھاڑیاں ہٹائیں۔ بارش کے پانی کی نالیوں کی باقاعدگی سے صفائی کریں، تاکہ پانی گھر سے دور بہہ جائے

٭ پرانی کتابیں اور اخبارات پھینک دیں یا ری سائیکل کر دیں۔ اگر انہیں نم جگہ، مثلاً تہہ خانے میں رکھا جائے تو ان پر جلد مولڈ بن سکتا ہے

تشخیص

مولڈ الرجی کی تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ سکن ٹیسٹ، جس میں جلد پر مشتبہ الرجی پیدا کرنے والے مادوں کی معمولی مقدار لگا کر ردعمل دیکھا جاتا ہے

٭ بلڈ ٹیسٹ، جس میں خون میں موجود امیونوگلوبیولن ای (IgE) اینٹی باڈیز کی مقدار کا جائزہ لیا جاتاہے

علاج

اگرچہ مولڈ الرجی کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن کئی ادویات علامات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ ناک میں استعمال ہونے والی کورٹیکوسٹیرائیڈ ادویات

٭ اینٹی ہسٹامین ادویات، جو خارش، چھینکوں اور ناک بہنے میں مدد دیتی ہیں

٭ منہ سے لی جانے والی ناک کھولنے کی ادویات

٭ ناک کھولنے والے سپرے

٭ دیگر طریقوں میں امیونوتھراپی اور ناک کی صفائی شام لہیں

احتیاطی تدابیر

مولڈ الرجی کی علامات سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں:

٭ سوتے وقت کھڑکیاں بند رکھیں تاکہ باہر موجود مولڈ کے ذرات گھر میں داخل نہ ہوں

٭ گھر کے اندر نمی کی سطح 50 فیصد سے کم رکھیں۔ جہاں پانی یا نمی کا مسئلہ ہو، اسے فوراً درست کریں

٭ صفائی یا گرد آلود جگہوں پر کام کرتے وقت ڈسٹ ماسک پہنیں

٭ بارش کے فوراً بعد، دھند یا زیادہ نمی والے موسم میں غیر ضروری طور پر باہر جانے سے گریز کریں

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا مولڈ الرجی پورا سال رہ سکتی ہے؟

جی ہاں۔ بعض افراد کو علامات سال بھر رہتی ہیں، جبکہ بعض میں صرف مخصوص موسموں یا زیادہ نمی والے دنوں میں ظاہر ہوتی ہیں۔

کیا مولڈ الرجی مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟

فی الحال اس کا مکمل علاج موجود نہیں۔ تاہم ادویات، امیونوتھراپی اور مولڈ سے بچاؤ کے ذریعے علامات کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

گھر میں مولڈ بننے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

گھر کو خشک رکھیں، نمی ختم کریں، اور پانی لیک ہونے کی جگہوں کی فوری مرمت کریں۔ مناسب ہوا کی آمدورفت یقینی بنائیں اور ضرورت پڑنے پر ڈی ہیومیڈیفائر استعمال کریں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بریڈی کارڈیا: دل کی سست دھڑکن

Read Next

بریسٹ ایم آر آئی

Leave a Reply

Most Popular