Vinkmag ad

بریڈی کارڈیا: دل کی سست دھڑکن

Female doctor using a stethoscope to examine a patient's heartbeat during a clinical evaluation for bradycardia

بریڈی کارڈیا (Bradycardia) دل کی دھڑکن کا معمول سے سست ہونا ہے۔ آرام کی حالت میں بالغ افراد کا دل عموماً ایک منٹ میں 60 سے 100 بار دھڑکتا ہے۔ اگر وہ ایک منٹ میں 60 سے کم بار دھڑکے تو اسے بریڈی کارڈیا کہا جاتا ہے۔

دل کی سست دھڑکن ہمیشہ تشویش کی بات نہیں ہوتی۔ بعض صحت مند نوجوانوں اور تربیت یافتہ کھلاڑیوں میں آرام کی حالت میں دھڑکن ایک منٹ میں 40 سے 60 بار ہونا معمول کی بات ہے۔ نیند کے دوران بھی دل کی دھڑکن سست ہونا عام ہے۔ اگر دھڑکن بہت سست ہو جائے تو جسم کو آکسیجن سے بھرپور خون مناسب مقدار میں نہ مل پاتا۔ ایسے میں یہ سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔

علامات

٭ سینے میں درد

٭ الجھن یا یادداشت کے مسائل

٭ چکر آنا یا سر ہلکا محسوس ہونا

٭ خاص طور پر جسمانی سرگرمی کے دوران شدید تھکن محسوس ہونا

٭ بے ہوش ہونا یا بے ہوش ہونے جیسی کیفیت پیدا ہونا

٭ سانس پھولنا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

بریڈی کارڈیا جیسی علامات کئی وجوہات کی بنا پر پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس لیے بروقت اور درست تشخیص کے ساتھ مناسب علاج بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کو دل کی سست دھڑکن کے بارے میں تشویش ہو تو معائنے کے لیے ڈاکٹر سے وقت لیں۔

اگر آپ بے ہوش ہو جائیں، سانس لینے میں شدید دشواری ہو یا سینے کا درد چند منٹ سے زیادہ برقرار رہے تو فوراً ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔

وجوہات

بریڈی کارڈیا کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:

٭ بڑھتی عمر کے ساتھ دل کے ٹشو کو نقصان پہنچنا

٭ دل کی بیماری یا دل کے دورے سے دل کے ٹشو کو نقصان پہنچنا

٭ دل کی پیدائشی خرابی

٭ دل کے پٹھوں کی سوزش، جسے مایوکارڈائٹس کہا جاتا ہے

٭ دل کی سرجری کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیاں

٭ تھائرائیڈ غدود کا کم فعال ہونا، جسے ہائپو تھائرائیڈزم کہا جاتا ہے

٭ جسم میں پوٹاشیم یا کیلشیم جیسے منرلز کی مقدار میں تبدیلی

٭ نیند کی بیماری، جسے آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا کہا جاتا ہے

٭ سوزش والی بیماریاں، جیسے رومیٹک بخار یا لوپس

٭ بعض ادویات، جن میں سکون آور ادویات، اوپی اوئیڈز اور دل یا ذہنی صحت کی بعض ادویات شامل ہیں

خطرے کے عوامل

بریڈی کارڈیا کا تعلق بالعموم دل کے ٹشو کو پہنچنے والے نقصان سے ہوتا ہے۔ اکثر اوقات اس کا سبب دل کی بیماری ہوتا ہے۔ دل کی بیماری کا خطرہ بڑھانے والے عوامل بریڈی کارڈیا کے خطرے میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جیسے:

٭ بڑھتی عمر

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ تمباکو نوشی

٭ زیادہ مقدار میں الکوحل کا استعمال

٭ منشیات کا استعمال

٭ ذہنی دباؤ اور بے چینی

ممکنہ پیچیدگیاں

٭ بار بار بے ہوش ہونا

٭ دل کی کمزوری

٭ اچانک دل بند ہو جانا یا اچانک دل کی موت

بچاؤ کی تدابیر

اس سے بچاؤ کے لیے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن درج ذیل اقدامات تجویز کرتی ہے:

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ متوازن غذا کھائیں، جس میں نمک اور ٹھوس چکنائیاں کم جبکہ پھل، سبزیاں اور ثابت اناج زیادہ ہوں

٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کنٹرول کریں

٭ تمباکو نوشی یا تمباکو کی دیگر مصنوعات استعمال نہ کریں

٭ الکوحل سے پرہیز کریں یا بہت محدود مقدار میں استعمال کریں

٭ ذہنی دباؤ کنٹرول کریں

٭ اچھی اور بھرپور نیند لیں

باقاعدگی سے طبی معائنہ کرانا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ پہلے سے دل کی بیماری میں مبتلا ہیں تو دل کی بے ترتیب دھڑکن کا خطرہ کم کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں۔

٭ اپنے ٹریٹمنٹ پلان پر باقاعدگی سے عمل کریں

٭ علامات میں کسی بھی تبدیلی سے اپنے معالج کو فوری طور پر آگاہ کریں

تشخیص

بریڈی کارڈیا کی ممکنہ وجوہات معلوم کرنے کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ بلڈ ٹیسٹ، تاکہ انفیکشن، جسم میں پوٹاشیم کی مقدار اور تھائرائیڈ کے افعال کاجائزہ لیا جا سکے

٭ الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی)، جو بریڈی کارڈیا کی تشخیص کا بنیادی ٹیسٹ ہے

٭ ہولٹر مانیٹر، جو ایک پورٹیبل ای سی جی آلہ ہے۔ اسے ایک یا زیادہ دن تک پہنا جاتا ہے اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران دل کی سرگرمی ریکارڈ کرتا ہے

٭ ایونٹ ریکارڈر، جو ہولٹر مانیٹر سے ملتا جلتا آلہ ہے۔ یہ صرف مخصوص اوقات میں چند منٹ کے لیے دل کی دھڑکن ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ 30 دن تک یا علامات ظاہر ہونے تک پہنا جا سکتا ہے

٭ ٹِلٹ ٹیبل ٹیسٹ، جو بے ہوشی کے دورے پڑنے کی صورت میں کیا جا سکتا ہے۔ اس میں میز پر لیٹنے کی حالت میں دل کی دھڑکن اور بلڈ پریشر کی جانچ کی جاتی ہے

٭ ورزش کے دوران دباؤ کا ٹیسٹ۔ اس میں سائیکل چلانے یا ٹریڈ مل پر چلنے کے دوران دل کی سرگرمی دیکھی جاتی ہے۔ اگر ورزش ممکن نہ ہو تو ایسی دوا دی جا سکتی ہے جو ورزش جیسا اثر پیدا کرے

٭ سلیپ سٹڈی۔ اگر نیند کے دوران بار بار سانس رکنے کی کیفیت کا شبہ ہو تو یہ ٹیسٹ تجویز کیا جا سکتا ہے

علاج

بریڈی کارڈیا کے علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہو سکتے ہیں:

٭ طرزِ زندگی میں تبدیلیاں

٭ ادویات میں تبدیلی

٭ پیس میکر نامی طبی آلہ لگانا

اگر دل کی سست دھڑکن کی وجہ کوئی دوسری بیماری، جیسے تھائرائیڈ کی خرابی یا آبسٹرکٹیو سلیپ اپنیا ہو تو اس بیماری کا علاج کرنے سے بریڈی کارڈیا بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔

ادویات

بہت سی ادویات دل کی دھڑکن کو متاثر کرتی ہیں اور بعض بریڈی کارڈیا کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اپنی طبی ٹیم کو ہر اس دوا کے بارے میں ضرور بتائیں جو آپ استعمال کرتے ہیں۔

سرجری یا دیگر پروسیجرز

اگر بریڈی کارڈیا شدید ہو اور دوسرے علاج مؤثر ثابت نہ ہوں تو ڈاکٹر پیس میکر لگانے کی تجویز دے سکتا ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

بریڈی کارڈیا اور دل کی بے ترتیب دھڑکن میں کیا فرق ہے؟

بریڈی کارڈیا میں دل کی دھڑکن معمول سے سست ہوتی ہے، جبکہ دل کی بے ترتیب دھڑکن بہت تیز، بہت سست یا بے قاعدہ ہو سکتی ہے۔

کیا ہر مریض کو پیس میکر لگوانا ضروری ہوتا ہے؟

نہیں۔ پیس میکر صرف ان مریضوں کے لیے تجویز کیا جاتا ہے جن میں علامات شدید ہوں یا دل کی دھڑکن خطرناک حد تک سست ہو۔

کیا بریڈی کارڈیا قابلِ علاج ہے؟

اگر اس کی وجہ کوئی دوا یا قابلِ علاج بیماری ہو تو مناسب علاج سے دل کی دھڑکن معمول پر آ سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

بون میٹاسٹیسس: کینسر کا ہڈیوں تک پھیل جانا

Read Next

مولڈ الرجی: نمی میں اگنے والی فنگس سے الرجی

Leave a Reply

Most Popular