پینسلین، بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک اینٹی بائیوٹک ہے۔ پینسلین سے الرجی (Penicillin allergy) مدافعتی نظام کا اس دوا کے خلاف غیر معمولی ردِعمل ہے۔
علامات
پینسلین سے الرجی کی علامات عموماً دوا لینے کے ایک گھنٹے کے اندر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ علامات کئی گھنٹوں، دنوں یا ہفتوں بعد بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ الرجی کی علامات میں شامل ہیں:
٭ جلد پر سرخ دانے یا خارش والے دھبے
٭ چھپاکی (Hives)
٭ جسم میں خارش
٭ بخار
٭ جسم کے کسی حصے میں سوجن
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ سانس لیتے وقت سیٹی جیسی آواز آنا
٭ ناک بہنا
٭ آنکھوں میں خارش اور پانی آنا
اینافائلیکسز
اینافائلیکسز ایک بہت کم مگر جان لیوا الرجک ری ایکشن ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ سانس کی نالی اور گلے میں شدید سوجن، جس سے سانس لینے میں دشواری ہو
٭ متلی یا پیٹ میں مروڑ
٭ قے یا اسہال
٭ چکر آنا یا سر ہلکا محسوس ہونا
٭ نبض کا تیز اور کمزور ہو جانا
٭ بلڈ پریشر کا اچانک کم ہو جانا
٭ دورے پڑنا
٭ بے ہوش ہو جانا
تاخیر سے ظاہر ہونے والے الرجک ری ایکشن
پینسلین سے بعض الرجک ری ایکشن دوا لینے کے کئی دن یا ہفتوں بعد ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات دوا بند کرنے کے بعد بھی یہ کیفیت کچھ عرصہ برقرار رہتی ہے۔ ان میں شامل ہیں:
٭ سیرم سکنس (Serum Sickness)، جس سے بخار، جوڑوں میں درد، جلد پر دانے، سوجن اور متلی ہو سکتی ہے
٭ خون کی کمی (Anemia)، جس میں خون کے سرخ خلیوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ اس سے تھکن، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے اور سانس پھولنے کی شکایت ہو سکتی ہے
٭ ڈریس سنڈروم (DRESS)، جس کی علامات میں جلد پر دانے، خون کے سفید خلیوں کی تعداد بڑھ جانا، جسم میں سوجن، لمف نوڈز کا سوج جانا اور بعض اوقات ہیپاٹائٹس دوبارہ فعال ہو جانا شامل ہیں
٭ سٹیونز جانسن سنڈروم (Stevens-Johnson Syndrome) یا ٹاکسک ایپی ڈرمل نیکرولائسز (Toxic Epidermal Necrolysis)، جن میں جلد پر چھالے بن جاتے ہیں اور جلد اترنے لگتی ہے
٭ نیفرائٹس (Nephritis)، یعنی گردوں کی سوزش، جس سے بخار، پیشاب میں خون، جسم میں سوجن اور ذہنی الجھن ہو سکتی ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر دوا لینے کے بعد ایسی علامات برقرار رہیں، جو آپ کو پریشان کریں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سی علامات حقیقی الرجی ہیں اور کون سی دوا کے عام مضر اثرات ہیں
اگر پینسلین لینے کے بعد شدید الرجک ری ایکشن یا اینافائلیکسز کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔
وجوہات
پینسلین سے الرجی اس وقت ہوتی ہے، جب مدافعتی نظام اس اینٹی بائیوٹک کو نقصان دہ مادہ سمجھ لیتا ہے۔ پھر وہ اس کے خلاف ایسے ردِعمل ظاہر کرتا ہے جیسے یہ وائرس یا بیکٹیریا ہو۔
مدافعتی نظام کے حساس ہونے سے پہلے جسم کا کم از کم ایک بار پینسلین سے واسطہ پڑنا ضروری ہے۔ جب مدافعتی نظام اسے نقصان دہ سمجھ لیتا ہے تو اس کے خلاف اینٹی باڈیز بنا لیتا ہے۔
پینسلین کے علاوہ بیٹا لیکٹم گروپ کی بعض دوسری اینٹی بائیوٹکس بھی الرجی پیدا کر سکتی ہیں۔ ان میں خاص طور پر سیفالوسپورنز (Cephalosporins) شامل ہیں۔ اگر آپ کو پینسلین کی ایک قسم سے الرجی ہو چکی ہے تو ممکن ہے دوسری اقسام یا بعض سیفالوسپورن ادویات سے بھی الرجی ہو۔
خطرے کے عوامل
اگرچہ پینسلین سے الرجی کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہے، تاہم درج ذیل عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
٭ دیگر الرجیز، جیسے غذائی الرجی یا پولن سے الرجی کی سابقہ ہسٹری
٭ کسی دوسری دوا سے الرجی ہونا
٭ فیملی میں میڈیسنز سے الرجی کی ہسٹری
٭ زیادہ مقدار میں، بار بار یا طویل عرصے تک پینسلین استعمال کرنا
٭ بعض بیماریاں، جیسے ایچ آئی وی یا ایپسٹین بار وائرس کا انفیکشن
بچاؤ کی تدابیر
اگر آپ کو پینسلین سے الرجی ہے تو اس سے بچنے کا آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ یہ دوا استعمال نہ کریں۔ اپنی حفاظت کے لیے درج ذیل اقدامات کریں:
٭ اپنے ڈاکٹر، نرس اور دیگر طبی عملے کو بتائیں کہ آپ کو پینسلین یا کسی دوسری اینٹی بائیوٹک سے الرجی ہے۔ یہ معلومات آپ کے میڈیکل ریکارڈ میں بھی درج ہونی چاہییں
٭ اپنے دانتوں کے ڈاکٹر سمیت ہر اس طبی ماہر کو الرجی کے بارے میں آگاہ کریں، جس سے آپ علاج کروا رہے ہوں۔
٭ میڈیکل الرٹ بریسلٹ پہنیں، جس پر آپ کی الرجی درج ہو۔ ہنگامی صورتِ حال میں یہ درست علاج میں مدد دیتا ہے۔
تشخیص
پینسلین سے الرجی کی درست تشخیص کے لیے مکمل معائنہ اور مناسب تشخیصی ٹیسٹ ضروری ہیں۔ غلط تشخیص کی صورت میں غیر ضروری یا زیادہ مہنگی اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنا پڑ سکتی ہیں۔
تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
٭ سکن ٹیسٹ
٭ گریڈڈ چیلنج میں دوا کی بہت کم مقدار دی جاتی ہے۔ اگر کوئی الرجک ردِعمل نہ ہو تو خوراک بتدریج بڑھائی جاتی ہے۔ اس طریقے سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کون سی اینٹی بائیوٹک آپ کے لیے محفوظ ہے۔
علاج
پینسلین سے الرجی کے علاج کی دو بنیادی حکمتِ عملیاں ہیں؛
٭ موجودہ الرجی کی علامات کا علاج
٭ ضرورت پڑنے پر جسم کو پینسلین برداشت کرنے کا عادی بنانا
٭ اینافائلیکسز کی صورت میں فوری ہنگامی علاج کرنا
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا پینسلین سے الرجی والے ہر شخص کو دوسری اینٹی بائیوٹکس سے بھی الرجی ہوتی ہے؟
ضروری نہیں۔ تاہم بعض افراد کو پینسلین کے ساتھ کچھ سیفالوسپورن اینٹی بائیوٹکس سے بھی الرجی ہو سکتی ہے۔ مناسب دوا کا انتخاب ڈاکٹر کرتا ہے۔
اگر پینسلین ضروری ہو تو کیا الرجی کے باوجود استعمال کی جا سکتی ہے؟
بعض صورتوں میں ڈاکٹر ڈیسینسِٹائزیشن کے ذریعے جسم کو عارضی طور پر دوا برداشت کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
پینسلین سے الرجی ہونے پر سب سے اہم احتیاط کیا ہے؟
اپنے تمام معالجین کو الرجی کے بارے میں آگاہ کریں، اسے طبی ریکارڈ میں درج کروائیں اور ضرورت پڑنے پر میڈیکل الرٹ بریسلٹ پہنیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️