شیل فش الرجی (Shellfish allergy) بعض سمندری جانوروں میں موجود پروٹینز کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کا غیر معمولی ردِعمل ہے۔ ان میں جھینگا، کیکڑا، لوبسٹر، سکویڈ، سیپ، سکیلپس اور گھونگھے شامل ہیں۔ بعض افراد کو ہر قسم کی شیل فش سے الرجی ہوتی ہے، جبکہ کچھ صرف مخصوص اقسام سے متاثر ہوتے ہیں۔
سالمن، ٹونا یا کیٹ فش جیسی مچھلیوں سے الرجی، شیل فش الرجی سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض افراد شیل فش سے الرجی کے باوجود مچھلی کھا سکتے ہیں، جبکہ کچھ کو دونوں سے الرجی ہو سکتی ہے۔
علامات
شیل فش کھانے یا اس کے رابطے میں آنے کے چند منٹ سے ایک گھنٹے کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ جلد پر چھپاکی (Hives)
٭ جلد میں خارش یا جلن
٭ ناک بند ہونا
٭ ہونٹوں، چہرے، زبان، گلے یا جسم کے دیگر حصوں میں سوجن
٭ سانس لینے میں دشواری یا سانس کے ساتھ سیٹی کی آواز آنا
٭ کھانسی، دم گھٹنا یا گلے میں جکڑن
٭ پیٹ میں درد، اسہال، متلی یا قے
٭ چکر آنا، سر ہلکا محسوس ہونا یا بے ہوش ہو جانا
اینافائلیکسز
الرجی بعض اوقات شدید اور جان لیوا ردِعمل پیدا کرتی ہے، جسے اینافائلیکسز کہا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:
٭ گلے یا زبان میں سوجن، یا گلے کی شدید جکڑن، جس سے سانس لینا مشکل ہو جائے
٭ سانس لینے میں دشواری کے ساتھ کھانسی، دم گھٹنا یا سانس میں سیٹی کی آواز آنا
٭ بلڈ پریشر میں شدید کمی اور نبض کا تیز یا کمزور ہو جانا
٭ جلد پر دانے، چھپاکی، خارش یا سوجن
٭ متلی، قے یا اسہال
٭ چکر آنا، سر ہلکا محسوس ہونا یا بے ہوش ہو جانا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر اینافائلیکسز کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔ اگر کھانا کھانے کے فوراً بعد غذائی الرجی کی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر یا الرجی کے ماہر سے رجوع کریں۔
وجوہات
تمام غذائی الرجیز مدافعتی نظام کے غیر معمولی ردِعمل کے باعث ہوتی ہیں۔ مدافعتی نظام ایک بے ضرر مادے کو نقصان دہ سمجھ لیتا ہے، جسے الرجن کہا جاتا ہے۔ شیل فش الرجی میں مدافعتی نظام شیل فش کے ایک مخصوص پروٹین کو غلطی سے خطرناک تصور کرتا ہے۔
شیل فش کی اقسام
شیل فش کی کئی اقسام ہیں اور ہر قسم میں مختلف پروٹین موجود ہوتے ہیں۔
٭ کرسٹیشینز میں کیکڑا، لوبسٹر، کری فش، جھینگا اور پراون شامل ہیں۔ یہ الرجی زیادہ عام ہے۔
٭ مولسکس میں سکویڈ، آکٹوپس، مسلز، گھونگھے، کلیمز، سیپ، ایبالون اور سکیلپس شامل ہیں
خطرے کے عوامل
٭ خاندان میں کسی بھی قسم کی الرجی ہونا
٭ بالغ افراد میں زیادہ عام ہے
٭ بالغوں میں یہ خواتین میں زیادہ دیکھی جاتی ہے، جبکہ بچوں میں اس کی شرح لڑکوں میں زیادہ ہوتی ہے
پیچیدگیاں
شدید صورت میں شیل فش الرجی اینافائلیکسز کا سبب بن سکتی ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
اگر آپ کو شیل فش الرجی ہے تو درج ذیل صورتوں میں اینافائلیکسز کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے:
٭ دمہ ہونا
٭ پہلے کبھی غذا کی وجہ سے اینافائلیکسز ہو چکا ہونا
٭ فیملی میں شدید الرجی کی ہسٹری ہونا
اینافائلیکسز کا علاج ایپی نیفرین (ایڈرینالین) کے انجیکشن سے کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو اس کا خطرہ ہو تو ڈاکٹر یہ انجیکشن تجویز کر سکتا ہے۔ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ باقاعدگی سے چیک کریں۔
بچاؤ کی تدانیر
اگر آپ کو شیل فش سے الرجی ہے تو الرجک ردِعمل سے بچنے کا واحد مؤثر طریقہ شیل فش اور اس سے تیار ہونے والی تمام مصنوعات سے مکمل پرہیز کرنا ہے۔
شیل فش سے بچنے کے طریقے:
٭ باہر کھانا کھاتے وقت احتیاط کریں
٭ غذائی اشیاء کے لیبل ہمیشہ غور سے پڑھیں
٭ ایسی جگہوں سے دور رہیں جہاں شیل فش تیار یا پراسیس کیا جا رہا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض افراد کو صرف اسے چھونے یا اس کی بھاپ سانس کے ذریعے لینے سے بھی الرجی ہو سکتی ہے
تشخیص
الرجی کی اصل وجہ جاننے کا یقینی طریقہ الرجی ٹیسٹ ہیں۔ ڈاکٹر ان میں سے ایک یا دونوں ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے:
٭ جلد پر سوئی کے ذریعے الرجی ٹیسٹ
٭ خون کا ٹیسٹ، جس میں کسی مخصوص الرجن کے خلاف مدافعتی نظام کے ردِعمل کی جانچ کی جاتی ہے
علاج
اس کے الرجک ری ایکشن سے بچنے کا واحد مؤثر طریقہ شیل فش سے مکمل پرہیز کرنا ہے۔ اگر اینافائلیکسز ہو جائے تو فوری طور پر ایپی نیفرین (ایڈرینالین) کا انجیکشن لگانا ضروری ہوتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا شیل فش الرجی عمر کے ساتھ خود ختم ہو سکتی ہے؟
زیادہ تر بالغ افراد میں یہ الرجی برقرار رہتی ہے اور خود بخود ختم ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
کیا صرف ایک قسم کے شیل فش سے الرجی ہونے پر دیگر اقسام کھائی جا سکتی ہیں؟
کچھ افراد دوسری اقسام کھا سکتے ہیں، لیکن یہ فیصلہ صرف ڈاکٹر یا الرجی کے ماہر کی ہدایت کے مطابق کرنا چاہیے۔
کیا شیل فش الرجی اور مچھلی کی الرجی ایک ہی بیماری ہیں؟
نہیں، دونوں مختلف غذائی الرجیز ہیں۔ بعض افراد کو صرف ایک، جبکہ کچھ کو دونوں سے الرجی ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔