Vinkmag ad

ہارورڈ کے ماہرین نے ڈی این اے لکھنے والی سلیکون چپ تیار کر لی

Medical illustration showing a silicon chip capable of writing DNA, synthetic biology, DNA synthesis, genetic engineering, biotechnology research, and genomic innovation

ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے پہلی بار ایسی سلیکون چپ تیار کی ہے، جو بجلی، پانی اور انزائمز کی مدد سے کام کرتی ہے۔ اس کی مدد سے بیک وقت 64 مختلف ڈی این اے ترتیبیں (سیکوئنسز) تیار کی جاسکتی ہیں۔ یہ تحقیق طبی جریدے نیچر الیکٹرانکس میں شائع ہوئی ہے۔

محققین کے مطابق، اس چپ میں روایتی کیمیائی طریقوں کے بجائے مخصوص مقامات پر برقی کرنٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کرنٹ ڈی این اے بنانے کے عمل کو متحرک کرتا ہے۔ اس طرح ایک ہی وقت میں 64 مختلف ڈی این اے ترتیبیں تیار کی جا سکتی ہیں۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر ڈونہی ہیم کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی ابتدا میں دماغی خلیوں کے سٹڈی کے لیے تیار کی گئی تھی۔ تاہم، اب اسے کامیابی سے ڈی این اے تیار کرنے میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے انہی 64 ڈی این اے ترتیبوں میں 169 بائٹس پر مشتمل متن بھی محفوظ کیا۔ اس سے اس ٹیکنالوجی کی ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ ہوا۔

ماہرین کے مطابق، مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی طبی تشخیص، کینسر پر تحقیق اور ادویات کی تیاری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، ڈی این اے پر مبنی ڈیٹا سٹوریج میں بھی اس ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کی توقع ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

کینسر کے علاج میں پیش رفت مگر عدم مساوات برقرار، ڈبلیو ایچ او

Read Next

Back Pain

Leave a Reply

Most Popular