Vinkmag ad

بریسٹ ایم آر آئی

Female patient undergoing a breast MRI scan in a hospital radiology department, lying still inside an MRI machine

بریسٹ ایم آر آئی (Breast MRI) چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے لیے کیا جانے والا ٹیسٹ ہے۔ اگر چھاتی میں کوئی اور مسئلہ ہو تو یہ ٹیسٹ کینسر نہ ہونے کی تصدیق میں بھی مدد دیتا ہے۔

بعض افراد میں بریسٹ ایم آر آئی کو میموگرافی کے ساتھ سکریننگ ٹیسٹ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں چھاتی کے کینسر کا زیادہ خطرہ ہو، جن کے خاندان میں اس بیماری کی ہسٹری ہو یا جن میں وراثت میں منتقل ہونے والی بریسٹ کینسر سے متعلق جینیاتی تبدیلیاں پائی جاتی ہوں۔

کیوں کیا جاتا ہے

درج ذیل صورتوں میں فزیشن بریسٹ ایم آر آئی تجویز کر سکتا ہے:

٭ چھاتی کے کینسر کی تشخیص کے بعد اسی چھاتی میں مزید کینسر یا دوسری چھاتی میں کینسر کا شبہ ہو

٭ بریسٹ امپلانٹ سے مواد خارج ہونے یا اس کے پھٹنے کا خدشہ ہو

٭ چھاتی کے کینسر کا خطرہ بہت زیادہ ہو، یعنی پوری زندگی میں اس بیماری کا امکان 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہو۔ اس کا اندازہ فیملی ہسٹری اور خطرے کے دیگر عوامل سے لگایا جاتا ہے

٭ خاندان میں چھاتی یا بیضہ دانی کے کینسر کی ہسٹری موجود ہو

٭ چھاتی کا ٹشو زیادہ گھنا ہو اور میموگرافی پہلے موجود کینسر کی نشاندہی نہ کر سکی ہو

٭ چھاتی میں ایسی تبدیلیوں کی ہسٹری ہو جو مستقبل میں کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ خاندان میں چھاتی کے کینسر کی ہسٹری اور چھاتی کا گھنا ٹشو بھی موجود ہو۔ ان تبدیلیوں میں غیر معمولی خلیوں کی زیادتی یا دودھ بنانے والے غدود میں غیر معمولی خلیے شامل ہیں

٭ وراثت میں منتقل ہونے والی بریسٹ کینسر سے متعلق جینیاتی تبدیلی مثلاً بی آر سی اے 1، بی آر سی اے 2 وغیرہ موجود ہو

٭ 10 سے 30 سال کی عمر کے درمیان سینے کے حصے پر ریڈی ایشن تھراپی کروائی گئی ہو

بریسٹ ایم آر آئی ہمیشہ میموگرافی یا چھاتی کے کسی دوسرے امیجنگ ٹیسٹ کے ساتھ استعمال کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ مؤثر ٹیسٹ ہے، لیکن بعض اوقات ایسے کینسر اس میں نظر نہیں آتے جنہیں میموگرافی شناخت کر لیتی ہے۔

زیادہ خطرے والی خواتین میں عموماً سال میں ایک بار، میموگرافی کے وقت ہی بریسٹ ایم آر آئی بھی کی جاتی ہے۔ جن خواتین میں خطرہ بہت زیادہ ہو، ان میں ہر چھ ماہ بعد باری باری بریسٹ ایم آر آئی یا میموگرافی کے ذریعے سکریننگ کی جا سکتی ہے۔

خطرات

بریسٹ ایم آر آئی ایک محفوظ ٹیسٹ ہے اور اس میں ریڈی ایشن استعمال نہیں ہوتی۔ تاہم، دوسرے طبی ٹیسٹوں کی طرح اس کے بھی کچھ ممکنہ خطرات ہیں:

٭ غلط مثبت نتیجہ آ سکتا ہے

٭ کانٹراسٹ ڈائی سے الرجی یا ردعمل ہو سکتا ہے

ٹیسٹ کی تیاری

بریسٹ ایم آر آئی سے پہلے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:

٭ اگر آپ کو ماہواری آتی ہے تو ایم آر آئی کا وقت ماہواری کے ابتدائی دنوں میں رکھوائیں۔ اگر مینوپاز نہیں تو عموماً ماہواری کے 5ویں سے 15ویں دن کے درمیان کا عرصہ موزوں ہے۔ ماہواری کا پہلا دن سائیکل کا پہلا دن شمار ہوتا ہے۔ اپنے سائیکل کے بارے میں ضرور آگاہ کریں تاکہ مناسب وقت مقرر کیا جا سکے

٭ اگر آپ کو کسی چیز سے الرجی ہے تو اپنی طبی ٹیم کو ضرور بتائیں۔ الرجی سے آگاہ کرنے سے ممکنہ پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے

٭ اگر گردوں کا کوئی مسئلہ ہے تو اپنی طبی ٹیم کو ضرور بتائیں

٭ اگر آپ حاملہ ہیں تو اپنی طبی ٹیم کو ضرور آگاہ کریں۔ حمل کے دوران عموماً ایم آر آئی تجویز نہیں کی جاتی کیونکہ کانٹراسٹ ڈائی بچے کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتی ہے

٭ اگر آپ بچے کو دودھ پلا رہی ہیں تو اپنی طبی ٹیم کو بتائیں۔ امریکن کالج آف ریڈیولوجی کے مطابق کانٹراسٹ ڈائی سے بچے کو خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ اگر پھر بھی تشویش ہو تو ایم آر آئی کے بعد 12 سے 24 گھنٹے تک دودھ نہ پلائیں۔ اس دوران جسم ڈائی کو خارج کر دیتا ہے۔ اس عرصے میں آپ دودھ نکال کر ضائع کر سکتی ہیں۔ ایم آر آئی سے پہلے دودھ نکال کر محفوظ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ بعد میں بچے کو پلایا جا سکے۔

٭ ایم آر آئی کے دوران دھات والی کوئی چیز نہ پہنیں

٭ اگر آپ کے جسم میں کوئی طبی آلہ نصب ہے تو اپنی طبی ٹیم کو ضرور بتائیں۔ ان میں پیس میکر، ڈیفبریلیٹر، دوائیں دینے کے لیے لگایا گیا پورٹ اور مصنوعی جوڑ شامل ہیں

طریقہ کار

٭ آپ کو پہننے کے لیے گاؤن یا چغہ دیا جا سکتا ہے

٭ بازو کی رگ میں لگی آئی وی کے ذریعے کانٹراسٹ ڈائی دی جا سکتی ہے

٭ ٹیسٹ کرنے والا عملہ دوسرے کمرے سے آپ کی نگرانی کرتا ہے۔ آپ مائیکروفون کے ذریعے ان سے بات کر سکتے ہیں۔ ٹیسٹ کے دوران معمول کے مطابق سانس لیتے رہیں اور حتیٰ الامکان ساکن رہیں۔

٭ بریسٹ ایم آر آئی میں عموماً 30 منٹ سے ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

نتائج

ریڈیالوجسٹ بریسٹ ایم آر آئی کا جائزہ لیتا ہے۔ اس کے بعد طبی ٹیم کا ایک رکن آپ کو ٹیسٹ کے نتائج سے آگاہ کرتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=breast-surgeon

Vinkmag ad

Read Previous

مولڈ الرجی: نمی میں اگنے والی فنگس سے الرجی

Read Next

نائٹ ٹیررز: نیند میں ڈر جانا

Leave a Reply

Most Popular