نیند میں ڈر جانا (Sleep terrors) یا نائٹ ٹیرر ایسی کیفیت ہے جس میں انسان پوری طرح جاگے بغیر چیختا، روتا، شدید خوف محسوس کرتا ہے، اور کبھی ہاتھ پاؤں بھی مارتا ہے۔ اس کی یہ کیفیت عموماً چند سیکنڈ سے چند منٹ تک رہتی ہے، لیکن بعض اوقات زیادہ دیر بھی جاری رہ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ منظر گھر والوں کے لیے پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن عموماً تشویش کی بات نہیں ہوتی۔ زیادہ تر بچوں میں یہ مسئلہ نوعمری تک خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ نائٹ ٹیررز ڈراؤنے خواب سے مختلف کیفیت ہے۔
علامات
نائٹ ٹیررز زیادہ تر ایک سے بارہ سال کی عمر کے بچوں میں ہوتے ہیں۔ یہ عموماً رات کی نیند کے ابتدائی حصے میں ہوتے ہیں اور دن کی نیند کے دوران یہ شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ ان کی علامات میں شامل ہیں:
٭ اچانک چیخنا، چلانا یا رونا شروع کر دینا
٭ بستر پر اٹھ کر خوف زدہ دکھائی دینا
٭ آنکھیں پوری طرح کھلی ہونا اور خالی نظروں سے دیکھتے رہنا
٭ بہت زیادہ پسینہ آنا، تیز سانس لینا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، چہرہ سرخ ہو جانا اور آنکھوں کی پتلیاں پھیل جانا
٭ ہاتھ پاؤں مارنا یا بے قابو ہو کر حرکت کرنا
٭ اسے جگانا مشکل ہونا، اور جاگنے پر الجھن محسوس کرنا
٭ تسلی دینے سے بھی پرسکون نہ ہونا
٭ اگلی صبح واقعہ بہت کم یا بالکل یاد نہ ہونا
٭ بستر سے اٹھ کر گھر میں دوڑنے لگنا، یا روکنے پر جارحانہ رویہ اختیار کرنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
کبھی کبھار ہونے والے نائٹ ٹیررز عام طور پر تشویش کی بات نہیں ہوتے۔ اگر آپ کو اپنے بچے یا اپنی حالت کے بارے میں تشویش ہو تو جلد ڈاکٹر سے مشورہ کریں، خصوصاً اگر نائٹ ٹیررز:
٭ بار بار ہونے لگیں
٭ متاثرہ فرد یا گھر کے دوسرے افراد کی نیند میں باقاعدگی سے خلل ڈالیں
٭ چوٹ لگنے یا حفاظت سے متعلق خطرات پیدا کریں
٭ دن کے وقت بہت زیادہ غنودگی یا روزمرہ کے کاموں میں مشکلات پیدا کریں
٭ نوعمری کے بعد بھی جاری رہیں یا بالغ عمر میں شروع ہوں
وجوہات
کئی عوامل نائٹ ٹیررز کا باعث بن سکتے ہیں، مثلاً:
٭ نیند کی شدید کمی یا بہت زیادہ تھکن
٭ ذہنی دباؤ
٭ سونے کے اوقات میں تبدیلی، سفر یا نیند کا بار بار ٹوٹنا
٭ بخار
بعض طبی مسائل بھی نائٹ ٹیررز کو بڑھا سکتے ہیں، مثلاً:
٭ نیند کے دوران سانس کے مسائل، جیسے سلیپ ایپنیا
٭ بے چین ٹانگوں کا سنڈروم
٭ بعض ادویات
٭ مزاج کی بیماریاں، جیسے ڈپریشن اور بے چینی
٭ الکوحل کا استعمال
خطرے کے عوامل
جن افراد کے خاندان میں نائٹ ٹیررز یا نیند میں چلنے کی تاریخ موجود ہو، ان میں یہ مسئلہ زیادہ عام ہوتا ہے۔
پیچیدگیاں
نائٹ ٹیررز کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
٭ دن کے وقت بہت زیادہ غنودگی، جس سے سکول، کام یا روزمرہ کے کام متاثر ہو سکتے ہیں
٭ نیند کا متاثر ہونا
٭ نائٹ ٹیررز کی وجہ سے شرمندگی یا تعلقات میں مشکلات پیدا ہونا
٭ متاثرہ شخص کو، یا بہت کم صورتوں میں قریب موجود کسی دوسرے شخص کو چوٹ لگ جانا
تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر یا طبی ماہر درج ذیل اقدامات کر سکتا ہے:
٭ میڈیکل ہسٹری معلوم کرنا
٭ علامات کے بارے میں معلومات لینا۔ اگر نائٹ ٹیررز کی ویڈیو موجود ہو تو وہ تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے
٭ سلیپ لیبارٹری میں رات بھر نیند کا معائنہ کرنا
علاج
٭ اگر نائٹ ٹیررز کبھی کبھار ہوں تو عموماً علاج کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زیادہ تر بچوں میں یہ مسئلہ عمر کے ساتھ خود ہی ختم ہو جاتا ہے
٭ اگر نائٹ ٹیررز سے چوٹ لگنے کا خطرہ ہو، نیند متاثر ہو، یہ وقت کے ساتھ ختم نہ ہوں، یا زیادہ بار ہونے لگیں تو علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ علاج میں یہ طریقے شامل ہو سکتے ہیں:
٭ اگر کوئی جسمانی، ذہنی یا نیند کی بیماری ہو تو اس کا علاج کرنا
٭ ذہنی دباؤ اور بے چینی کم کرنے کی کوشش کرنا
٭ پہلے سے جگانے کا طریقہ۔ اس طریقے میں متاثرہ شخص کو اس وقت سے تقریباً 15 منٹ پہلے جگایا جاتا ہے، جب عموماً نائٹ ٹیررز شروع ہوتے ہیں۔ پھر اسے چند منٹ جاگنے کے بعد دوبارہ سونے دیا جاتا ہے
٭ نائٹ ٹیررز کے علاج کے لیے ادویات بہت کم استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر بچوں میں۔ اگر ضرورت ہو تو ڈاکٹر ایسی ادویات تجویز کر سکتا ہے، جو بہتر نیند میں مدد دیں
طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطی تدابیر
اگر آپ یا آپ کے بچے کو نائٹ ٹیررز ہوں تو یہ احتیاطی تدابیر مفید ثابت ہو سکتی ہیں:
٭ مناسب نیند لیں
٭ سونے سے پہلے روزانہ ایک پُرسکون معمول اپنائیں
٭ گھر کا ماحول محفوظ بنائیں۔ ممکنہ چوٹ سے بچاؤ کے لیے رات کو تمام کھڑکیاں اور بیرونی دروازے بند اور مقفل رکھیں
٭ ذہنی دباؤ کی وجوہات پہچانیں اور انہیں کم کرنے کی کوشش کریں
٭ اگر بچے کو بار بار نائٹ ٹیررز ہوتے ہوں تو اس کی نیند کی ڈائری تیار کریں
اگر بچے کو نائٹ ٹیررز ہوں تو عموماً اس کیفیت کے ختم ہونے کا انتظار کرنا بہتر ہوتا ہے۔ یہ منظر پریشان کن ہو سکتا ہے، لیکن بچے کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ بچے کو نرمی سے گلے لگا کر تسلی دیں، پھر اسے دوبارہ بستر پر لٹا دیں۔ آہستگی اور سکون سے بات کریں اور بلند آواز سے گریز کریں۔ بچے کو زبردستی جگانے یا حرکت سے روکنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے کیفیت مزید خراب ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت عموماً خود ہی ختم ہو جاتی ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
نائٹ ٹیررز اور ڈراؤنے خواب میں کیا فرق ہے؟
نائٹ ٹیررز کے دوران انسان پوری طرح نہیں جاگتا، اور عموماً اگلی صبح اسے کچھ یاد بھی نہیں رہتا۔ ڈراؤنے خواب کے بعد اکثر انسان جاگ جاتا ہے اور وہ خواب بھی یاد رہتا ہے۔
کیا نائٹ ٹیررز کے دوران بچے کو فوراً جگانا چاہیے؟
نہیں۔ زبردستی جگانے سے بچہ زیادہ الجھن یا بے چینی محسوس کر سکتا ہے، اس لیے عموماً اس سے گریز کیا جاتا ہے۔
کیا بالغ افراد کو بھی نائٹ ٹیررز ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں، اگرچہ بچوں کی نسبت بالغ افراد میں یہ بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر یہ بالغ عمر میں شروع ہوں یا بار بار ہوں تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا مناسب نیند نائٹ ٹیررز سے بچاؤ میں مدد دیتی ہے؟
جی ہاں۔ مناسب نیند لینا، ذہنی دباؤ کم کرنا اور سونے کا باقاعدہ معمول اپنانا نائٹ ٹیررز کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist