برطانوی ماہرین کے مطابق گزشتہ 10 برس میں مائیگرین کے بارے میں سائنسی سمجھ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے بہتر تشخیص اور مؤثر علاج کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کی وجوہات، علامات اور جدید علاج سے متعلق نئی معلومات بیان کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مائیگرین عام سر درد نہیں، بلکہ اعصابی نظام کی ایک بیماری ہے۔ اس کے دوران سی جی آر پی نامی ایک قدرتی اعصابی کیمیائی مادہ خارج ہوتا ہے، جو درد کے سگنلز کو بڑھاتا اور خون کی نالیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مائیگرین کا حملہ اچانک شروع نہیں ہوتا۔ درد سے پہلے زیادہ جمائیاں آنا، تھکاؤٹ، بار بار پیشاب آنا یا مخصوص غذاؤں کی خواہش جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ یہ غذائیں مائیگرین کی وجہ نہیں، بلکہ حملے کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہیں۔ تقریباً 30 فیصد مریضوں کو درد شروع ہونے سے پہلے نظر دھندلا سکتی ہے۔ جسم کے کسی حصے میں سن ہونے کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔ انہیں بولنے میں دشواری بھی پیش آ سکتی ہے۔۔
ماہرین کے مطابق نیند کی کمی یا زیادتی مائیگرین کا حملہ بھڑکا سکتی ہے۔ جسم میں پانی کی کمی بھی اس کی ایک وجہ بن سکتی ہے۔ ذہنی دباؤ اور کیفین چھوڑنا بھی مائیگرین کو بھڑکا سکتے ہیں۔ تاہم موبائل فون یا کمپیوٹر کے استعمال کو اس کی براہِ راست وجہ ثابت کرنے والے شواہد موجود نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سی جی آر پی کو ہدف بنانے والی نئی ادویات نے مائیگرین کے علاج میں حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں، تاہم یہ ادویات مہنگی ہیں اور ہر مریض کو آسانی سے دستیاب نہیں۔