ہڈی کے ابھار (Bone spurs) ہڈی کے کناروں پر بننے والی ہڈی کی اضافی نشوونما ہیں۔ یہ عموماً وہاں بنتے ہیں جہاں دو ہڈیاں آپس میں ملتی ہیں۔ یہ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں پر بھی بن سکتے ہیں۔ انہیں اوسٹیو فائٹس بھی کہا جاتا ہے۔
علامات
زیادہ تر ابھار علامت کے بغیر ہوتے ہیں، تاہم بعض افراد میں درد، اکڑاؤ اور جوڑ کی حرکت محدود ہونے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ علامات کا انحصار ان کے بننے کی جگہ کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً:
گھٹنا: ٹانگ سیدھی کرتے یا موڑتے وقت درد ہو سکتا ہے
ریڑھ کی ہڈی: ریڑھ کی نالی کو تنگ کر سکتے ہیں، ریڑھ کی ہڈی یا اعصاب کی جڑوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ نتیجتاً بازوؤں یا ٹانگوں میں کمزوری یا سن ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے
کولہا: کولہے کو حرکت دینے سے درد ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات درد کولہے کے بجائے ران یا گھٹنے میں محسوس ہوتا ہے۔ کولہے کے جوڑ کی حرکت محدود ہو سکتی ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کرائیں:
٭ ایک یا ایک سے زیادہ جوڑوں میں درد یا سوجن ہو
٭ کسی جوڑ کو حرکت دینے میں دشواری ہو
٭ بازوؤں یا ٹانگوں میں کمزوری یا سن ہونے کی شکایت ہو
وجوہات
ہڈی کے ابھار کی سب سے عام وجہ اوسٹیو آرتھرائٹس ہے۔ اس مرض میں جوڑوں کی حفاظتی کارٹلیج آہستہ آہستہ گھس جاتی ہے۔ جسم اس نقصان کی تلافی کے لیے متاثرہ حصے کے قریب اضافی ہڈی بناتا ہے۔
خطرے کے عوامل
٭ اوسٹیو آرتھرائٹس یا اس کی دیگر اقسام میں مبتلا افراد میں ہڈی کے ابھار بننے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
تشخیص
متاثرہ جوڑ کا جائزہ لے کر درد کی جگہ معلوم کی جاتی ہے۔ تشخیص کی تصدیق کے لیے ایکسرے یا ضرورت کے مطابق دیگر امیجنگ ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
علاج
ادویات
اگر ہڈی کے ابھار درد کا باعث بنیں تو ڈاکٹر پین کلرز تجویز کر سکتے ہیں۔
فزیوتھراپی
فزیوتھراپی جوڑوں کے اردگرد کے پٹھوں کو مضبوط اور جسم کو زیادہ لچکدار بنانے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے درد کم اور حرکت بہتر ہوتی ہے۔
سرجری
اگر ادویات اور دیگر علاج مؤثر ثابت نہ ہوں اور درد یا حرکت کی شدید رکاوٹ برقرار رہے تو سرجری کی جا سکتی ہے۔ اس میں ہڈی کے ابھار کو نکالنا یا ضرورت پڑنے پر متاثرہ جوڑ کو تبدیل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔ سرجری کا فیصلہ ہڈی کے ابھار کی جگہ، علامات کی شدت اور حرکت پر اس کے اثرات کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
طرزِ زندگی اور گھریلو احتیاطیں
٭ اگر وزن زیادہ ہو اور کولہے یا گھٹنے میں اوسٹیو آرتھرائٹس ہو تو وزن کم کرنے سے درد میں کمی آتی ہے۔ معمولی وزن کم ہونے سے بھی علامات میں واضح بہتری آ سکتی ہے
٭ باقاعدہ ورزش وزن کم کرنے، پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جوڑوں کی حرکت بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہے
٭ چہل قدمی، سائیکل چلانا اور تیراکی مفید ورزشیں ہیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
ہڈی کے ابھار کیا ہوتے ہیں؟
یہ ہڈی کے کناروں پر بننے والے اضافی ہڈی کے ابھار ہیں، جو عموماً اوسٹیو آرتھرائٹس کے نتیجے میں بنتے ہیں۔
کیا ہڈی کے ہر ابھار میں درد ہوتا ہے؟
نہیں، بہت سے افراد میں یہ کوئی علامت پیدا نہیں کرتے اور اتفاقاً ایکسرے کے دوران معلوم ہوتے ہیں۔
کیا ہڈی کے ابھار خود ختم ہو جاتے ہیں؟
نہیں، یہ عموماً خود ختم نہیں ہوتے، لیکن اگر علامات نہ ہوں تو علاج کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=rheumatologist