عمر بڑھنے کے ساتھ ذہنی صلاحیتوں میں کمی آ سکتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ڈیش (DASH) ڈائیٹ پلان اس خطرے سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اس غذا میں پھل، سبزیاں، ثابت اناج اور کم چکنائی والی غذائیں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ نمک، چینی اور زیادہ چکنائی والی غذاؤں کو محدود رکھا جاتا ہے
طبی جریدے جاما نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار بالغ افراد کے غذائی معمولات کا تجزیہ کیا گیا۔ محققین نے دل کی صحت کے لیے تجویز کی جانے والی چھ غذائی تراکیب کا موازنہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ پلان ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے کم خطرے سے سب سے زیادہ منسلک تھی۔ اس غذا پر سب سے زیادہ عمل کرنے والے افراد میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ 41 فیصد کم پایا گیا۔
تحقیق کے مطابق 45 سے 54 سال کی عمر میں یہ پلان سب سے زیادہ فائدہ مند رہا۔ محققین کے مطابق درمیانی عمر میں صحت مند ڈائیٹ پلان اپنانا دماغی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق ڈیش ڈائیٹ پلان اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہے۔ تاہم یہ ثابت نہیں کرتی کہ یہی غذا براہ راست اس خطرے میں کمی کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں۔ گردوں کی طویل مدتی بیماری میں مبتلا افراد بھی احتیاط کریں۔ خاص طور پر پوٹاشیم کی مقدار کے حوالے سے ڈیش غذا اپنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔