ماہرین نے پہلی بار دماغ کے اس اعصابی نظام کا سراغ لگایا ہے جو گہری نیند کے دوران گروتھ ہارمون کے اخراج کو منظم کرتا ہے۔ اس دریافت سے واضح ہوا ہے کہ نیند اور گروتھ ہارمون ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح متوازن رہتے ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے محققین کی یہ تحقیق طبی جریدے سیل میں شائع ہوئی۔ محققین نے چوہوں کے دماغی اعصاب کی سرگرمی براہِ راست ریکارڈ کی۔ انہوں نے مخصوص روشنی کی مدد سے بعض اعصابی خلیوں کو بھی متحرک کیا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ گہری نیند گروتھ ہارمون کے اخراج میں اضافہ کرتی ہے۔ بعد میں یہی ہارمون دماغ کے بیداری کے نظام کو متحرک کرتا ہے۔ اس طرح نیند اور گروتھ ہارمون ایک دوسرے کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ محققین نے پہلی بار اس باہمی عمل کی وضاحت کی ہے۔
محققین کے مطابق یہی نظام بتاتا ہے کہ مسلسل کم نیند جسمانی نشوونما، پٹھوں کی مرمت، چربی کے استعمال، دماغی افعال اور میٹابولزم کو کیوں متاثر کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں نیند کی خرابی، ذیابیطس، الزائمر اور پارکنسن پر مزید تحقیق میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم موجودہ نتائج چوہوں پر کیے گئے تجربات پر مبنی ہیں۔ انسانوں میں ان کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق ضروری ہوگی۔
تحقیق کے پہلے مصنف ڈاکٹر زن لو ڈنگ کے مطابق اس پیش رفت سے مستقبل میں مختلف بیماریوں کے نئے علاج پر تحقیق کی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔