نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 100 سال یا اس سے زیادہ عمر پانے والے افراد کے خون میں منفرد کیمیائی نشانات پائے جاتے ہیں۔ یہ نشانات صحت مند اور طویل عمر کی پہچان بن سکتے ہیں۔
امریکا کی بوسٹن یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے محققین کی یہ تحقیق طبی جریدے جیروسائنس میں شائع ہوئی۔ نیو انگلینڈ سینٹینیرین سٹڈی کے تحت 213 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔ ان میں 70 افراد کی عمر 100 سال یا اس سے زیادہ تھی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان افراد کے خون میں بعض بائل ایسڈز اور سٹیرائیڈز کی سطح عام افراد سے مختلف تھی۔ یہ منفرد کیمیائی نمونے معمول کے بڑھاپے سے بھی مختلف تھے۔ ان کا تعلق کم شرح اموات سے بھی پایا گیا۔ محققین کے مطابق، مستقبل میں یہی نشانات حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان سے عمر سے وابستہ بیماریوں کے خطرے کی نشاندہی بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ یہ علاج یا طرز زندگی میں تبدیلیوں کے اثرات جانچنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر اسٹیفانو مونٹی کے مطابق، ان کے مطالعے میں خون کے قابل پیمائش کیمیائی نشانات سامنے آئے ہیں۔ یہ نشانات طویل اور صحت مند زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ان نشانات کو بہتر سمجھ کر جسمانی تنزلی سے بچانے والے حیاتیاتی نظام کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔