بھنویں اوپر اٹھانے کی سرجری (Brow lift) ایک کاسمیٹک پروسیجر ہے، جس میں پیشانی کی جلد اور اس کے نیچے موجود نرم ٹشو کو اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ اس سے پیشانی، بھنوؤں اور آنکھوں کے اردگرد کا ظاہری تاثر بہتر بنایا جاتا ہے۔
یہ سرجری اکیلے یا چہرے کی دیگر سرجریز کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، سرجن اسے پلکوں کی سرجری یا فیس لفٹ کے ساتھ بھی انجام دے سکتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
بھنوؤں کا نیچے آ جانا چہرے کو تھکا ہوا یا اداس ظاہر کرتا ہے۔ بھنویں اٹھانے کی سرجری انہیں اوپر اٹھاتی ہے، جس سے چہرہ زیادہ تروتازہ اور جوان نظر آ سکتا ہے۔
اگر بھنویں نیچی یا ڈھلکی ہوئی ہوں اور ان کی وجہ سے اوپری پلکیں بھی جھکی ہوئی دکھائی دیں تو یہ سرجری مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
خطرات
بھنویں اٹھانے کی سرجری سے درج ذیل خطرات لاحق ہو سکتے ہیں:
٭ زخموں کے نشانات نمایاں رہ سکتے ہیں
٭ پیشانی یا سر کے اوپری حصے میں سن ہونے یا حس کم ہونے کی شکایت ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت عموماً چند ہفتوں میں بہتر ہو جاتی ہے، تاہم بعض افراد میں طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے
٭ ایک یا دونوں بھنویں ضرورت سے زیادہ اونچی یا غیر متوازن نظر آ سکتی ہیں
٭ کٹس کی جگہ پر بال جھڑ سکتے ہیں یا بالوں کی اگنے کی لکیر مزید اوپر جا سکتی ہے
٭ کسی بھی بڑی سرجری کی طرح اس میں بھی خون بہنے، انفیکشن اور جنرل اینستھیزیا (مکمل بے ہوشی) سے ری ایکشن کا خطرہ موجود ہوتا ہے
سرجری کی تیاری
٭ سرجری سے پہلے آپ کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیا جائے گا
٭ کھلی اور بند، دونوں حالتوں میں چہرے کے مختلف حصوں کا معائنہ اور پیمائش کی جائے گی۔ میڈیکل ریکارڈ کے لیے چہرے کی تصاویر لی جا سکتی ہیں۔ خون کے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے
٭ سرجن آپ کی توقعات پر بات کرے گا
سرجری سے پہلے آپ کو یہ ہدایات دی جا سکتی ہیں:
٭ تمباکو نوشی ترک کریں
٭ خون پتلا کرنے والی، سوزش کم کرنے والی ادویات اور ہربل سپلیمنٹس کے استعمال سے پرہیز کریں
٭ صحت یابی کے دوران کسی کی مدد کا انتظام کریں
طریقہ کار
بھنویں اٹھانے کی سرجری ہسپتال یا آؤٹ پیشنٹ سرجری سینٹر میں کی جاتی ہے۔
٭ درد سے بچانے کے لیے دوا دی جاتی ہے
٭ متعلقہ حصے کو سن کرنے کے لیے لوکل اینستھیزیا دیا جاتا ہے۔ بعض مریضوں کو جنرل اینستھیزیا (مکمل بے ہوشی) دیا جاتا ہے، تاکہ وہ سرجری کے دوران سوئی ہوئی حالت میں رہیں
سرجری کے دوران
سرجن درج ذیل طریقوں میں سے کوئی ایک اختیار کر سکتا ہے:
٭ اینڈوسکوپک سرجری، جس میں ہیئر لائن کے پیچھے چھوٹے کٹس کے ذریعے سرجری کی جاتی ہے
٭ ٹیمپورل سرجری، جس میں بھنوؤں کے بیرونی حصے کو اوپر اٹھایا جاتا ہے
٭ ڈائریکٹ سرجری، جس میں بھنوؤں کے اوپر کی اضافی جلد نکالی جاتی ہے۔ یہ عموماً گھنی بھنویں رکھنے والے افراد میں کی جاتی ہے
٭ کورونل سرجری، جس میں سر کے اوپری حصے پر بالوں کی اگنے کی لکیر کے پیچھے ایک کان سے دوسرے کان تک کٹ لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پیشانی کو اوپر اٹھا کر نئی پوزیشن میں فکس کیا جاتا ہے۔ اضافی جلد ہٹا کر باقی جلد کو ٹانکوں سے بند کر دیا جاتا ہے۔ اگر بالوں کی اگنے کی لکیر پہلے ہی اونچی ہو، بال کم ہوں یا مستقبل میں بال جھڑنے کا امکان زیادہ ہو تو سرجن یہ پروسیجر نہ کرانے کا مشورہ دے سکتا ہے
٭ ہیئر لائن سرجری، جس میں پیشانی کے اوپری حصے اور بالوں کی اگنے کی لکیر کے درمیان کٹ لگایا جاتا ہے۔ اس کے بعد کھوپڑی کی جلد کی بجائے پیشانی کے اوپری حصے سے تھوڑی سی جلد اور نرم ٹشو نکالے جاتے ہیں۔ اس طریقے کو پری ٹرائیکیئل بھنویں اٹھانے کی سرجری بھی کہا جاتا ہے
اگر آپ کی ہیئر لائن اونچی ہو یا بال پیچھے کی طرف ہٹ رہے ہوں تو یہ طریقہ موزوں ہو سکتا ہے۔ تاہم کٹس کی جگہ، زخم بھرنے کے انداز اور بالوں کے سٹائل کے مطابق ہیئر لائن پر داغ نمایاں رہ سکتا ہے۔
سرجری کے بعد
سرجری کے بعد سوجن کم کرنے کے لیے پیشانی پر ہلکی پٹی باندھی جا سکتی ہے۔ سرجن کٹس کی جگہ ایک باریک نالی لگا سکتا ہے، تاکہ اضافی خون یا رطوبت خارج ہوتی رہے۔
سرجری کے بعد ابتدائی چند دنوں میں:
٭ سر کو اونچا رکھ کر آرام کریں
٭ درد کی دوا صرف اپنی طبی ٹیم کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں
٭ سوجن کم کرنے کے لیے ٹھنڈی پٹیاں کریں
٭ پیشانی پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں اور اسے غیر ضروری طور پر حرکت دینے سے گریز کریں
زخم بھرنے کے دوران خارش یا سن ہونے کا احساس ہو سکتا ہے، جو وقت کے ساتھ کم ہو جاتا ہے۔ اگر کٹس پر پٹیاں لگی ہوں تو انہیں عموماً ایک سے تین دن میں ہٹا دیا جاتا ہے، جبکہ ٹانکے عام طور پر سات سے دس دن بعد نکال دیے جاتے ہیں۔ کٹس کے نشانات وقت کے ساتھ نرم اور مدھم ہو جاتے ہیں۔ اگر جلد پر نیل پڑ جائیں تو انہیں میک اپ سے چھپایا جا سکتا ہے۔
سرجری کے بعد اگر درج ذیل علامات ظاہر ہوں تو فوراً اپنی طبی ٹیم سے رابطہ کریں:
٭ اچانک شدید سوجن
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ سینے میں درد
٭ دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہونا
نتائج
بھنویں اٹھانے کی سرجری سے چہرہ زیادہ جوان، متوازن اور تروتازہ نظر آ سکتا ہے۔ تاہم اس سرجری کے نتائج ہمیشہ برقرار نہیں رہتے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ چہرے کی جلد دوبارہ ڈھلک سکتی ہے۔ سورج کی شعاعوں سے ہونے والا نقصان بھی جلد کو وقت سے پہلے بوڑھا کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=plastic-surgery