مردوں میں بریسٹ کینسر (Male breast cancer) ایک نایاب کینسر ہے جو بریسٹ ٹشو کے خلیوں سے شروع ہوتا ہے۔ مرد ہو یا عورت، ہر انسان میں پیدائش سے ہی کچھ بریسٹ ٹشو موجود ہوتا ہے۔ اس لیے مردوں کو بھی بریسٹ کینسر ہو سکتا ہے۔
علامات
مردوں میں بریسٹ کینسر کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:
٭ سینے میں بغیر درد کے گانٹھ یا جلد کا موٹا ہونا
٭ سینے کی جلد میں گڑھے پڑنا، سکڑاؤ، چھلکے بننا یا رنگ تبدیل ہونا
٭ نپل کی جلد کے رنگ میں تبدیلی، چھلکے بننا یا نپل کا اندر کی طرف مڑنا
٭ نپل سے مواد خارج ہونا یا خون آنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ایسی علامات ظاہر ہوں جو تشویش کا باعث بنیں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔
وجوہات
مردوں میں کینسر تب شروع ہوتا ہے جب بریسٹ ٹشو کے خلیوں کے ڈی این اے میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ڈی این اے میں موجود ہدایات خلیوں کے بڑھنے، تقسیم ہونے اور ختم ہونے کے عمل کو کنٹرول کرتی ہیں۔ کینسر کی صورت میں یہ تبدیلیاں خلیوں کو تیزی سے بڑھنے اور تقسیم ہونے کی ہدایات دیتی ہیں۔ یہ خلیے اس وقت بھی زندہ رہ سکتے ہیں جب صحت مند خلیے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح غیر معمولی خلیوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔
یہ خلیے جمع ہو کر رسولی بنا سکتے ہیں۔ رسولی بڑھ کر آس پاس کے صحت مند ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ وقت کے ساتھ کینسر کے خلیے جسم کے دوسرے حصوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ دوسرے حصوں تک پھیلنے والے کینسر کو میٹاسٹیٹک کینسر (Metastatic cancer) کہا جاتا ہے۔
اقسام
بریسٹ ٹشو میں دودھ بنانے والے غدود، دودھ کو نپل تک پہنچانے والی نالیاں اور چربی شامل ہوتی ہے۔ مردوں میں بریسٹ ٹشو کی مقدار عموماً کم ہوتی ہے، لیکن اس میں بھی کینسر بن سکتا ہے۔
مردوں میں بریسٹ کینسر کی اقسام میں یہ شامل ہیں:
ڈکٹل کارسینوما: دودھ کو نپل تک پہنچانے والی نالیوں سے شروع ہونے والا کینسر
لوبیولر کارسینوما: دودھ بنانے والے غدود سے شروع ہونے والا کینسر
دیگر اقسام: نسبتاً نایاب اقسام میں نپل کی پیجٹ بیماری اور انفلیمیٹری بریسٹ کینسر شامل ہیں
خطرے کے عوامل
مردوں میں بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھانے والے عوامل میں یہ شامل ہیں:
٭ مردوں میں عمر 60 سال سے زیادہ ہونا
٭ پروسٹیٹ کینسر کے لیے ہارمون تھراپی یا ایسٹروجن والی ادویات کا استعمال
٭ خاندان میں بریسٹ کینسر کی ہسٹری
٭ موروثی ڈی این اے تبدیلیاں جو بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں
٭ کلائن فیلٹر سنڈروم، ایک جینیاتی کیفیت جس میں مرد ایک سے زیادہ ایکس کروموسوم
٭ جگر کی بیماری
٭ موٹاپا، اس لیے کہ اس کا تعلق ایسٹروجن کی زیادہ سطح سے ہے
٭ خصیوں کی بیماری یا سرجری
بچاؤ کی تدابیر
زیادہ تر مردوں میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں۔ تاہم جن افراد میں اس کا امکان زیادہ ہو، وہ بعض اقدامات کے ذریعے اسے کم کر سکتے ہیں۔
بریسٹ کینسر کی فیملی ہسٹری
اگر ایسی موروثی ڈی این اے تبدیلی موجود ہو جو بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہے تو سکریننگ کروا لیں۔ سینے کا سالانہ معائنہ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔
ٹرانس جینڈر مرد
اگر بریسٹ ٹشو نکالنے یا کم کرنے کی سرجری (جینڈر افرمنگ سرجری) نہیں ہوئی تو بریسٹ کینسر کی سکریننگ کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔۔ سرجری کے بعد بھی کچھ بریسٹ ٹشو باقی رہ سکتا ہے۔ اس لیے سینے میں کوئی تبدیلی نظر آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
تشخیص
تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹ اور پروسیجر کیے جا سکتے ہیں:
کلینیکل بریسٹ ایگزام: ڈاکٹر ہاتھ سے بریسٹ اور سینے کا معائنہ کرکے گانٹھ یا دوسری غیر معمولی تبدیلیوں کی جانچ کرتا ہے
امیجنگ ٹیسٹ: ان میں بریسٹ کا ایکسرے (میموگرام)، الٹراساؤنڈ یا ایم آر آئی سکین شامل ہو سکتے ہیں
بائیوپسی: جانچ کے لیے بریسٹ کے خلیوں یا ٹشو کا نمونہ لیا جاتا ہے
مریض کی حالت کے مطابق دیگر ٹیسٹ اور پروسیجر بھی کیے جا سکتے ہیں۔
کینسر کی سٹیج معلوم کرنا
کینسر کی سٹیج معلوم کرنے کے لیے عموماً امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان سے کینسر کے سائز اور جسم کے دوسرے حصوں تک اس کے پھیلاؤ کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ ان میں یہ ٹیسٹ شامل ہو سکتے ہیں:
٭ بون سکین
٭ سی ٹی سکین
٭ پوزیٹرون ایمیشن ٹوموگرافی (پی ای ٹی) سکین
ان ٹیسٹوں کے نتائج کی بنیاد پر کینسر کی سٹیج مقرر کی جاتی ہے۔ بریسٹ کینسر کی سٹیجز صفر سے 4 تک ہوتی ہیں۔ سٹیج صفر میں کینسر دودھ کی نالیوں کے اندر محدود ہوتا ہے اور اردگرد کے بریسٹ ٹشو میں نہیں پھیلا ہوتا۔ اسے نان انویسیو کینسر بھی کہا جاتا ہے۔
کینسر کے بڑھنے اور بریسٹ ٹشو میں پھیلنے کے ساتھ اس کی سٹیج بھی بڑھتی جاتی ہے۔ سٹیج 4 کا مطلب ہے کہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہے۔
علاج
مردوں میں بریسٹ کینسر کا علاج عموماً سرجری سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کینسر اور اس کے اردگرد موجود کچھ صحت مند ٹشو کو نکالنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے یہ آپریشن کیے جا سکتے ہیں:
ماسٹیکٹومی: بریسٹ کے تمام ٹشو کو نکالنے کی سرجری
لمپیکٹومی: کینسر اور اس کے اردگرد موجود کچھ صحت مند ٹشو کو نکالنے کی سرجری
سینٹینل لمف نوڈ بائیوپسی: کینسر کے پھیلاؤ کی جانچ کے لیے بریسٹ کے قریب موجود چند لمف نوڈز نکال کر ان کا معائنہ کیا جاتا ہے
اگر ان لمف نوڈز میں کینسر کے خلیے نہ ملیں تو اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ کینسر بریسٹ ٹشو سے باہر نہیں پھیلا۔ اگر کینسر کے خلیے مل جائیں تو جانچ کے لیے مزید لمف نوڈز نکالے جا سکتے ہیں۔
علاج کے دیگر طریقے یہ ہیں:
٭ ریڈی ایشن تھراپی
٭ ہارمون تھراپی
٭ کیموتھراپی
٭ ٹارگٹڈ تھراپی
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا مردوں میں بریسٹ کینسر کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے؟
جی ہاں۔ تاہم زیادہ تر بڑی عمر کے مردوں میں ہوتا ہے۔
کینسر کا گریڈ کیا بتاتا ہے؟
گریڈ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کینسر کے خلیے کتنی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
بریسٹ کینسر میں ریسیپٹرز کی جانچ کیوں کی جاتی ہے؟
ٹیسٹوں کے ذریعے کینسر کے خلیوں میں ایسٹروجن، پروجیسٹرون اور ایچ ای آر 2 ریسیپٹرز کی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ یہ نتائج کینسر کے جائزے میں استعمال ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=breast-surgeon