کم بینائی اور آنکھوں کی بعض بیماریوں کے شکار ہر چھ میں سے تقریباً ایک فرد کو ایسی چیزیں دکھائی دے سکتی ہیں جو حقیقت میں موجود نہیں ہوتیں۔ نئی تحقیق میں اس کیفیت کو چارلس بونٹ سنڈروم سے منسلک کیا گیا ہے۔
برین ریسرچ بلیٹن میں شائع تحقیق میں 49 سٹڈیز کے 20 ہزار سے زائد مریضوں کا ڈیٹا دیکھا گیا۔ ریٹینا کی بیماری، کم بینائی اور گلوکوما والے افراد میں چارلس بونٹ سنڈروم کی شرح تقریباً 12 سے 18 فیصد رہی۔
اس سنڈروم میں انسان، جانور، پھول یا مختلف اشکال دکھائی دے سکتی ہیں۔ متاثرہ افراد عموماً جانتے ہیں کہ یہ چیزیں حقیقت میں موجود نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق چارلس بونٹ سنڈروم ذہنی بیماری یا ڈیمنشیا نہیں ہے۔ بینائی کم ہونے سے دماغ تک بصری معلومات کم پہنچنا اس کیفیت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
Tags: کم بینائی