فولیکیولائٹس (Folliculitis) جلد کی ایک کیفیت ہے، جس میں بالوں کی جڑوں کے گرد موجود چھوٹی تھیلیاں (ہیئر فولیکلز) سوج جاتی ہیں۔ ایسا اکثر بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ابتدا میں بالوں کے گرد چھوٹے دانے یا مہاسوں جیسے ابھار بن سکتے ہیں۔ جلد میں خارش، جلن یا درد بھی ہو سکتا ہے۔ انفیکشن پھیلنے پر دانوں سے مواد نکل سکتا ہے اور ان پر پپڑی بن سکتی ہے۔
علامات
فولیکیولائٹس کی علامات میں یہ شامل ہو سکتی ہیں:
٭ بالوں کی جڑوں کے گرد چھوٹے دانوں یا مہاسوں کے گچھے
٭ پیپ سے بھرے دانے جو پھٹنے کے بعد پپڑی بنا سکتے ہیں
٭ جلد میں خارش یا جلن
٭ جلد میں درد یا چھونے پر حساسیت
٭ سوجا ہوا دانہ یا ابھار
اقسام
فولیکیولائٹس کی دو بنیادی اقسام سطحی اور گہری ہیں۔ سطحی قسم میں ہیئر فولیکل کا کچھ حصہ متاثر ہوتا ہے۔ گہری قسم میں پورا فولیکل متاثر ہوتا ہے اور علامات زیادہ شدید ہو سکتی ہیں۔
فولیکیولائٹس کی اہم اقسام یہ ہیں:
بیکٹیریل فولیکیولائٹس: اس میں خارش والے اور پیپ سے بھرے دانے بنتے ہیں
ہاٹ ٹب فولیکیولائٹس: یہ سوڈوموناس بیکٹیریا سے ہوتی ہے۔ یہ بیکٹیریا ایسے گرم سوئمنگ پولز یا ہاٹ ٹب میں ہو سکتے ہیں جہاں کلورین کی مقدار مناسب نہ ہو
شیو کے بعد بننے والے دانے (Pseudofolliculitis barbae): یہ فولیکیولائٹس جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ انفیکشن سے نہیں بلکہ بال کے واپس جلد کے اندر بڑھنے سے بنتے ہیں
پٹیروسپورم فولیکیولائٹس: یہ خمیر (Yeast) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں خارش والے دانے بنتے ہیں، جو زیادہ تر کمر اور سینے پر ہوتے ہیں
گرام نیگیٹو فولیکیولائٹس: اس میں ناک اور منہ کے گرد پیپ والے دانے بن سکتے ہیں۔ یہ طویل عرصے تک اینٹی بائیوٹکس لینے والوں میں ہو سکتی ہے
ایوزینوفیلک فولیکیولائٹس: اس میں شدید خارش کے ساتھ بار بار دانے نکلتے ہیں۔ یہ زیادہ تر چہرے اور جسم کے اوپری حصے پر ہوتے ہیں۔ یہ ایچ آئی وی/ایڈز کے مریضوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے
پھوڑے اور کاربنکلز: بالوں کی جڑوں میں گہرا بیکٹیریل انفیکشن پھوڑوں کا سبب بن سکتا ہے۔ کئی پھوڑے مل کر کاربنکل بنا سکتے ہیں
سائیکوسس باربی: یہ قسم شیو کرنے والے افراد میں ہوتی ہے اور عموماً داڑھی والے حصے کو متاثر کرتی ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر فولیکیولائٹس جسم کے بڑے حصے میں پھیل جائے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ایک سے دو ہفتے کی گھریلو نگہداشت کے باوجود علامات برقرار رہیں تو بھی طبی مشورہ ضروری ہے۔ لالی یا درد اچانک بڑھنے، بخار، کپکپی یا طبیعت خراب ہونے پر فوری طبی مدد حاصل کریں۔ یہ انفیکشن پھیلنے کی علامات ہو سکتی ہیں۔
وجوہات
فولیکیولائٹس اکثر ہیئر فولیکلز میں بیکٹیریا کے انفیکشن سے ہوتی ہے۔ اس کی ایک عام وجہ اسٹیفیلوکوکس اوریئس (Staphylococcus aureus) بیکٹیریا ہے۔
وائرس، فنگس، پیراسائٹس، بعض ادویات یا جسمانی چوٹ بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض صورتوں میں وجہ معلوم نہیں ہوتی۔
خطرے کے عوامل
فولیکیولائٹس کسی کو بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ ایسے کپڑے پہننا جن میں گرمی اور پسینہ جمع ہو، مثلاً ربڑ کے دستانے یا لمبے بوٹ
٭ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے والے ہاٹ ٹب یا عوامی سوئمنگ پول میں نہانا
٭ شیو، ویکسنگ یا تنگ کپڑوں سے ہیئر فولیکلز کو نقصان پہنچنا
٭ بالوں کو کھینچنے والے ہیئر سٹائل، وگ یا بعض تیلوں کا استعمال
٭ کورٹیکوسٹیرائڈ کریمز، پریڈنیزون یا طویل عرصے تک اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنا
٭ بعض کیموتھراپی ادویات استعمال کرنا
٭ ڈرماٹائٹس یا بہت زیادہ پسینہ آنا
٭ ذیابیطس، ایچ آئی وی/ایڈز یا قوتِ مدافعت کم کرنے والی دوسری بیماری ہونا
پیچیدگیاں
فولیکیولائٹس کی ممکنہ پیچیدگیوں میں یہ شامل ہیں:
٭ انفیکشن کا بار بار ہونا یا پھیلنا
٭ مستقل نشانات پڑنا
٭ متاثرہ جلد کا پہلے سے زیادہ گہرا یا ہلکا ہو جانا، جو عموماً عارضی ہوتا ہے
٭ ہیئر فولیکلز کو نقصان پہنچنا اور مستقل طور پر بال جھڑنا
بچاؤ کی تدابیر
یہ احتیاطی تدابیر فولیکیولائٹس سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں:
٭ جلد باقاعدگی سے دھوئیں اور صاف تولیہ استعمال کریں
٭ تولیہ، واش کلاتھ یا ریزر دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں
٭ تولیے اور کپڑے باقاعدگی سے گرم پانی اور صابن سے دھوئیں
٭ تنگ کپڑوں، ہیلمٹ اور بیگ سے جلد پر ہونے والی رگڑ کم کریں
٭ ربڑ کے دستانے استعمال کے بعد دھو کر اچھی طرح خشک کریں
٭ صرف صاف اور مناسب دیکھ بھال والے ہاٹ ٹب اور گرم سوئمنگ پول استعمال کریں
٭ پانی سے نکلنے کے بعد صابن سے نہائیں اور سوئمنگ سوٹ دھو لیں
اگر بہت زیادہ پسینہ آنے سے فولیکیولائٹس ہوتی ہو تو پسینے والے کپڑے فوراً تبدیل کریں۔ روزانہ نہانا اور مناسب اینٹی پرسپیرنٹ استعمال کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
فولیکیولائٹس بار بار ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ بیکٹیریا کی افزائش کم کرنے کے لیے مخصوص مرہم یا باڈی واش تجویز کیا جا سکتا ہے۔
شیو کرتے وقت احتیاط
ممکن ہو تو بار بار شیو کرنے سے گریز کریں۔ شیو کرنا ضروری ہو تو یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ شیو سے پہلے جلد کو نیم گرم پانی اور ہلکے کلینزر سے صاف کریں
٭ جلد کے اندر پھنسے بال نکالنے کے لیے واش کلاتھ نرمی سے استعمال کریں
٭ مناسب مقدار میں شیونگ لوشن لگائیں
٭ بالوں کی نشوونما کی سمت میں شیو کریں
٭ بہت قریب سے شیو کرنے سے گریز کریں
٭ صاف اور تیز بلیڈ استعمال کریں
٭ ہر اسٹروک کے بعد بلیڈ کو نیم گرم پانی سے صاف کریں
٭ ایک ہی جگہ پر دو سے زیادہ مرتبہ بلیڈ نہ پھیریں
٭ شیو کے بعد موئسچرائزنگ لوشن لگائیں
بال صاف کرنے والی کریمز یا دوسرے طریقے بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ان سے بھی جلد میں جلن ہو سکتی ہے۔
تشخیص
ڈاکٹر عموماً جلد کا معائنہ اور میڈیکل ہسٹری معلوم کرکے فولیکیولائٹس کی تشخیص کر سکتا ہے۔
ابتدائی علاج سے انفیکشن ٹھیک نہ ہو تو مزید ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
٭ فنگس یا ییسٹ کی جانچ کے لیے جلد سے نمونہ لینا
٭ انفیکشن کی وجہ معلوم کرنے کے لیے سواب لے کر کلچر کرنا
٭ شاذونادر صورتوں میں جلد کی بائیوپسی کرنا
علاج
فولیکیولائٹس کا علاج اس کی قسم اور شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ پہلے آزمائے گئے علاج کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
اگر بغیر نسخے کی مصنوعات چند ہفتوں میں فائدہ نہ دیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ ماہرِ امراضِ جلد وجہ کی شناخت کرکے مناسب علاج تجویز کر سکتا ہے۔
علاج کے باوجود فولیکیولائٹس دوبارہ ہو سکتی ہے۔
ادویات
وجہ اور قسم کے مطابق ڈاکٹر یہ ادویات تجویز کر سکتا ہے:
٭ بیکٹیریل انفیکشن کے لیے لوشن، جیل یا گولیاں
٭ فنگل انفیکشن کے لیے کریم، شیمپو یا گولیاں
٭ سوزش کم کرنے کے لیے کریم یا گولیاں
دیگر طریقۂ علاج
معمولی سرجری: بڑا پھوڑا یا کاربنکل بننے پر ڈاکٹر چھوٹا سا کٹ لگا کر پیپ خارج کر سکتا ہے۔ اس سے درد کم اور صحت یابی تیز ہو سکتی ہے۔ نشانات پڑنے کا خطرہ بھی کم ہو سکتا ہے۔
لیزر سے بال صاف کرنا: بعض صورتوں میں بار بار ہونے والی فولیکیولائٹس کے لیے لیزر ہیئر ریموول پر غور کیا جا سکتا ہے۔
گھر پر نگہداشت
بیکٹیریل فولیکیولائٹس کے معمولی کیسز اکثر گھریلو نگہداشت سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ یہ اقدامات علامات کم کرنے اور انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ متاثرہ حصے پر گرم اور نم کپڑا رکھیں
٭ مناسب بغیر نسخے والی دوا ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے مشورے سے استعمال کریں
٭ جلد کی جلن کم کرنے والا لوشن یا کریم استعمال کریں
٭ متاثرہ جلد کو نرمی سے صاف رکھیں
٭ متاثرہ جلد کو رگڑ اور مزید نقصان سے بچائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا فولیکیولائٹس ایک متعدی بیماری ہے؟
فولیکیولائٹس ہمیشہ متعدی نہیں ہوتا۔ تاہم جراثیم سے ہونے والی بعض اقسام قریبی رابطے یا مشترکہ اشیا کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
کیا فولیکیولائٹس خود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
معمولی بیکٹیریل فولیکیولائٹس اکثر مناسب صفائی اور گھریلو نگہداشت سے بہتر ہو جاتا ہے۔ شدید یا بار بار ہونے والی صورت میں علاج ضروری ہو سکتا ہے۔
کیا شیو کرنے سے فولیکیولائٹس ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ شیو سے ہیئر فولیکلز میں جلن یا نقصان ہو سکتا ہے۔ جلد کے اندر بڑھنے والے بال بھی فولیکیولائٹس جیسے دانوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
فولیکیولائٹس کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟
علاج اس کی وجہ اور شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ بیکٹیریل یا فنگل انفیکشن کی صورت میں ڈاکٹر مناسب ادویات تجویز کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dermatologist