Vinkmag ad

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی: بڑی آنت کے نچلے حصے کا معائنہ

Healthcare professional holding a flexible sigmoidoscope used to examine the rectum and lower colon

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی (Flexible sigmoidoscopy) ایک طبی معائنہ ہے جس کے ذریعے ریکٹم اور بڑی آنت کے نچلے حصے کو اندر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک باریک اور لچک دار ٹیوب استعمال کی جاتی ہے، جسے سگموئیڈوسکوپ کہتے ہیں۔ اس میں روشنی، کیمرا اور دیگر آلات موجود ہوتے ہیں۔

بڑی آنت کو کولون بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا آخری حصہ ریکٹم سے جڑتا ہے اور اسے سگموئیڈ کولون کہتے ہیں۔

کیوں کی جاتی ہے

ڈاکٹر ان مسائل کی وجہ معلوم کرنے کے لیے فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی تجویز کر سکتا ہے:

٭ پیٹ میں مسلسل درد

٭ ریکٹم سے خون آنا

٭ پاخانے کے معمول میں تبدیلی

٭ بغیر کوشش کے وزن کم ہونا

کولون کینسر کی سکریننگ

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی کولون کینسر کی سکریننگ کے لیے بھی کی جاتی ہے۔ اس سے ایسے پولپس کا پتا لگایا جا سکتا ہے، جو بعد میں کینسر بن سکتے ہیں۔

امریکی پریوینٹیو سروسز ٹاسک فورس 45 سال کی عمر سے کولوریکٹل کینسر کی سکریننگ تجویز کرتی ہے۔ زیادہ خطرے والے افراد میں سکریننگ پہلے شروع کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ 75 سال کے بعد سکریننگ کا فیصلہ انفرادی طور پر کیا جاتا ہے۔ اس میں مجموعی صحت، سابقہ ٹیسٹوں کے نتائج اور مریض کی ترجیحات دیکھی جاتی ہیں۔

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی کے ذریعے سکریننگ عام طور پر ہر پانچ سال بعد کی جا سکتی ہے۔ سالانہ فیکل امیونوکیمیکل ٹیسٹ (FIT) کے ساتھ اس کا وقفہ مختلف ہو سکتا ہے۔ مکمل کولونوسکوپی بھی کولون کینسر کی سکریننگ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اسے عام طور پر ہر 10 سال بعد کیا جاتا ہے۔

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی اور کولونوسکوپی میں فرق

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی میں ریکٹم اور بڑی آنت کے بائیں جانب کے نچلے حصے کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ آلہ پوری بڑی آنت سے نہیں گزرتا۔ اس کے برعکس کولونوسکوپی میں پوری بڑی آنت کا معائنہ کیا جا سکتا ہے۔

کولونوسکوپی کے مقابلے میں فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی:

٭ تیاری میں نسبتاً کم وقت لیتی ہے

٭ معائنہ مکمل ہونے میں کم وقت لگتا ہے

٭ عام طور پر بے ہوشی کی ضرورت نہیں ہوتی

٭ ریکٹم یا بڑی آنت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ نسبتاً کم ہوتا ہے

ممکنہ خطرات

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی میں پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ تاہم شاذونادر صورتوں میں یہ مسائل بھی درپیش ہو سکتے ہیں:

٭ ٹشو کا نمونہ لینے والی جگہ سے خون بہنا

٭ ریکٹم یا بڑی آنت کی دیوار میں سوراخ ہونا

معائنے کی تیاری

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی سے پہلے بڑی آنت کو خالی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے آنت کی اندرونی سطح واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر غنودگی کی دوا دی جانی ہو تو گھر واپسی کے لیے کسی دوسرے شخص کا انتظام کریں۔

تیاری کے لیے ڈاکٹر یہ  ہدایات دے سکتا ہے:

خصوصی غذا لیں: معائنے سے ایک دن پہلے مخصوص غذا یا شفاف مشروبات لینے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔ رات 12 بجے کے بعد کھانے پینے سے بھی منع کیا جا سکتا ہے۔ شفاف مشروبات میں چکنائی سے پاک شوربہ، سادہ پانی اور ہلکے رنگ کے چھنے ہوئے جوس شامل ہو سکتے ہیں۔ دودھ یا کریم کے بغیر چائے اور کافی کی بھی اجازت دی جا سکتی ہے

آنت صاف کرنے کی ادویات استعمال کریں: ڈاکٹر آنت صاف کرنے کے لیے مخصوص ادویات تجویز کر سکتا ہے۔ ان سے بار بار پاخانہ آ سکتا ہے، اس لیے بیت الخلا کے قریب رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ان ادویات میں گولیوں یا محلول کی شکل میں لیکسیٹوز شامل ہو سکتے ہیں۔ ریکٹم اور بڑی آنت کے نچلے حصے کو صاف کرنے کے لیے اینیما بھی استعمال کیا جا سکتا ہے

ادویات کے بارے میں ڈاکٹر کو بتائیں: معائنے سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے تمام ادویات، وٹامنز اور سپلیمنٹس کے بارے میں ڈاکٹر کو بتائیں۔ آئرن سپلیمنٹس، اسپرین یا خون پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال کے بارے میں بھی بتائیں۔ بعض ادویات کی خوراک تبدیل یا انہیں عارضی طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ ذیابیطس کی صورت میں بھی ڈاکٹر کو آگاہ کرنا ضروری ہے

معائنے کے دوران 

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی کے لیے عام طور پر بے ہوشی یا درد کم کرنے والی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم سکون یا غنودگی کے لیے دوا دی جا سکتی ہے۔

مریض ہسپتال کا گاؤن پہن کر معائنے کی میز پر بائیں کروٹ لیٹتا ہے۔ عام طور پر گھٹنوں کو سینے کی طرف موڑنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سگموئیڈوسکوپ کو مقعد (anus) کے ذریعے ریکٹم اور پھر سگموئیڈ کولون تک لے جاتا ہے۔ اسے بڑی آنت کے بائیں جانب مزید آگے بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

معائنے کے دوران آنت میں ہوا یا کاربن ڈائی آکسائیڈ داخل کی جاتی ہے۔ اس سے آنت پھیلتی ہے اور اندرونی سطح زیادہ واضح دکھائی دیتی ہے۔ اس دوران پیٹ میں مروڑ یا پاخانے کی حاجت محسوس ہو سکتی ہے۔

سگموئیڈوسکوپ کے سرے پر موجود چھوٹا کیمرا بڑی آنت کی تصاویر سکرین پر دکھاتا ہے۔ اس سے ڈاکٹر پولپس یا دیگر غیر معمولی ٹشوز دیکھ سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ٹشو کا چھوٹا نمونہ یعنی بائیوپسی بھی لی جا سکتی ہے۔ بعض پولپس بھی اسی دوران نکالے جا سکتے ہیں۔

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی میں عموماً 15 سے 20 منٹ لگتے ہیں۔ بائیوپسی لینے کی صورت میں کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

معائنے کے بعد

معائنے کے بعد پیٹ میں معمولی تکلیف یا پھولا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔ چند گھنٹوں تک گیس بھی خارج ہو سکتی ہے۔ چہل قدمی سے یہ تکلیف کم ہو سکتی ہے۔

عام طور پر معمول کی غذا اور سرگرمیاں فوراً دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ غنودگی کی دوا دی گئی ہو تو فوراً گاڑی نہ چلائیں۔

پولپس نکالنے یا بائیوپسی لینے کے بعد پہلے پاخانے میں تھوڑی مقدار میں خون نظر آ سکتا ہے۔ ان علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے فوری رابطہ کریں:

٭ پاخانے میں زیادہ خون یا خون کے کلاٹ

٭ ریکٹم سے خون بہنا

٭ پیٹ میں شدید یا مسلسل درد

٭ 37.8 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بخار

نتائج

فلیکسیبل سگموئیڈوسکوپی کے بعض نتائج معائنے کے فوراً بعد بتائے جا سکتے ہیں۔ بائیوپسی یا پولپس کی جانچ کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں۔

٭ منفی نتیجہ: معائنے میں کوئی غیر معمولی ٹشو نہیں ملا

٭ مثبت نتیجہ: پولپس، کینسر یا بیماری سے متاثرہ ٹشو پایا گیا

بائیوپسی یا نکالے گئے پولپس کو مزید جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے۔

اگر پولپس یا کینسر کا پتا چلے تو مکمل کولونوسکوپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس سے پوری بڑی آنت میں دیگر غیر معمولی حصوں کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ آنت اچھی طرح صاف نہ ہونے سے تصاویر واضح نہ ہوں تو معائنہ دوبارہ کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر کوئی دوسری سکریننگ یا تشخیصی ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Bone Spurs

Read Next

فولیکیولائٹس: بالوں کی جڑوں کی سوزش

Leave a Reply

Most Popular