Vinkmag ad

لامینیکٹومی: ریڑھ کی ہڈی کے اعصاب پر دباؤ کم کرنے کا آپریشن

Older man experiencing lower back pain while sitting on a sofa, illustrating spinal nerve compression that may require laminectomy surgery

لامینیکٹومی (Laminectomy) ریڑھ کی ہڈی کا ایک آپریشن ہے جس میں مہرے کا پچھلا حصہ نکال کر سپائنل کارڈ اور اعصاب پر دباؤ کم کیا جاتا ہے۔ اس حصے کو لامینا کہتے ہیں جو سپائنل کینال کو ڈھانپتا ہے۔ اس کے اندر سپائنل کارڈ اور اعصاب کی جڑیں موجود ہوتی ہیں۔

بعض بیماریوں یا عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے سپائنل کینال تنگ ہو جاتی ہے۔ اس کیفیت کو سپائنل سٹینوسس کہتے ہیں۔ اس سے سپائنل کارڈ یا اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے۔ لامینیکٹومی میں لامینا کا کچھ یا پورا حصہ نکال کر سپائنل کینال میں جگہ بڑھائی جاتی ہے۔ اس آپریشن کو سپائنل ڈی کمپریشن سرجری بھی کہتے ہیں۔

علامات

سپائنل کینال میں ہڈیوں کی اضافی نشوونما، ابھری ہوئی ڈسک، سسٹ یا موٹے لیگامنٹس جگہ کم کر سکتے ہیں۔ اس تنگی سے سپائنل کارڈ یا اعصاب دبنے لگتے ہیں۔ اس دباؤ کے باعث درد، پٹھوں کی کمزوری، سن ہونا یا جھنجھناہٹ جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ علامات بازوؤں میں ظاہر ہوں گی یا ٹانگوں میں، اس کا انحصار ریڑھ کی ہڈی کے متاثرہ حصے پر ہوتا ہے۔

سیدھا کھڑے ہونے پر بعض مریضوں کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ اس کے برعکس بیٹھنے یا آگے جھکنے سے آرام ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدھا کھڑے ہونے پر سپائنل کینال قدرتی طور پر کچھ تنگ ہو جاتی ہے۔

لامینیکٹومی سے اعصاب کے لیے جگہ بڑھتی ہے، جس سے بازوؤں یا ٹانگوں تک پھیلنے والا درد کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، یہ آپریشن آرتھرائٹس یا ریڑھ کی ہڈی میں پہلے سے موجود تبدیلیاں ختم نہیں کرتا۔ اسی لیے صرف کمر یا گردن کے درد میں اس کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے۔

کیوں کی جاتی ہے

ڈاکٹر ان صورتوں میں لامینیکٹومی تجویز کر سکتا ہے:

٭ ادویات، فزیکل تھراپی یا انجیکشن سے مناسب فائدہ نہ ہونا

٭ پٹھوں کی کمزوری، سن ہونے یا درد کے باعث کھڑے ہونے یا چلنے میں دشواری

٭ پیشاب یا پاخانے پر کنٹرول ختم ہونا

پیشاب یا پاخانے پر اچانک کنٹرول ختم ہونا اعصاب پر شدید دباؤ کی علامت ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

بعض اوقات لامینیکٹومی ڈسک کے آپریشن کے ساتھ بھی کی جاتی ہے۔ اس صورت میں سرجن متاثرہ ڈسک تک پہنچنے کے لیے لامینا کا کچھ حصہ نکالتا ہے۔

خطرات

لامینیکٹومی عموماً محفوظ آپریشن ہے۔ تاہم، دوسری سرجریز کی طرح اس میں بھی بعض پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:

٭ خون بہنا

٭ انفیکشن

٭ خون کے لوتھڑے بننا

٭ اعصاب کو نقصان پہنچنا

٭ سپائنل کارڈ کے گرد موجود مائع کا رسنا

پیچیدگیوں کا خطرہ مریض کی عمر، مجموعی صحت اور تمباکو نوشی جیسی عادات پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ساتھ سپائنل فیوژن بھی کیا جائے تو خطرات مختلف ہو سکتے ہیں۔

لامینیکٹومی کی تیاری

آپریشن سے پہلے طبی ٹیم ضروری ہدایات فراہم کرتی ہے۔ ان میں مخصوص وقت تک کھانے پینے سے پرہیز بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر بتاتا ہے کہ کون سی ادویات جاری رکھنی ہیں اور کن کا استعمال عارضی طور پر روکنا ہے۔ اپنی مرضی سے کوئی دوا بند نہ کریں۔

ہسپتال سے گھر واپسی کے لیے کسی فرد کی مدد کا انتظام کریں۔ ڈاکٹر سے کام، ڈرائیونگ، ورزش اور وزن اٹھانے جیسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بھی پوچھیں۔

آپریشن کے دوران

لامینیکٹومی عموماً جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے۔ اس میں مریض بے ہوش ہوتا ہے اور آپریشن کے دوران درد محسوس نہیں کرتا۔ آپریشن کے اہم مراحل یہ ہیں:

٭ سرجن متاثرہ مہروں کے اوپر جلد میں کٹ لگاتا ہے اور ضرورت کے مطابق پٹھوں کو ہٹاتا ہے

٭ مخصوص آلات سے اضافی ہڈی، موٹے ٹشوز اور لامینا کا ضروری حصہ نکالا جاتا ہے

٭ ڈسک کے مسئلے کی صورت میں اس کا متاثرہ یا باہر نکلا ہوا حصہ بھی نکالا جا سکتا ہے

٭ ریڑھ کی ہڈی کو اضافی مضبوطی درکار ہو تو سپائنل فیوژن بھی کیا جا سکتا ہے

ڈسکیکٹومی: اس طریقے میں ڈسک کا باہر نکلا ہوا حصہ اور اس کے الگ ہونے والے ٹکڑے نکالے جاتے ہیں

سپائنل فیوژن: اس آپریشن میں دو یا زیادہ مہروں کو آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہڈی کے گرافٹ، دھاتی راڈز یا پیچ استعمال ہو سکتے ہیں

بعض مریضوں میں کم سے کم کٹ لگانے والی سرجری بھی ممکن ہوتی ہے۔ اس میں چھوٹے کٹس اور خصوصی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم، اس طریقے اور روایتی لامینیکٹومی کے نتائج کا تقابلی جائزہ ابھی جاری ہے۔ سرجن مریض کی حالت کے مطابق مناسب طریقہ منتخب کرتا ہے۔

آپریشن کے بعد

٭ آپریشن مکمل ہونے پر مریض کو ریکوری روم منتقل کیا جاتا ہے

٭ مریض کو بازو اور ٹانگیں حرکت دینے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ کٹ والی جگہ پر درد کم کرنے کے لیے ادویات دی جاتی ہیں

٭ زیادہ تر مریض آپریشن والے دن گھر جا سکتے ہیں۔ تاہم، بعض کو ایک یا زیادہ راتیں ہسپتال میں گزارنا پڑتی ہیں۔ اس کا انحصار مریض کی صحت اور آپریشن کی نوعیت پر ہوتا ہے۔ اگر سپائنل فیوژن بھی کیا گیا ہو تو صحت یابی میں عموماً زیادہ وقت لگتا ہے

٭ ڈاکٹر آپریشن کے بعد فزیو تھراپی تجویز کر سکتا ہے۔ اس سے پٹھوں کی طاقت اور جسم کی لچک بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے

٭ گھر جانے سے پہلے زخم کی دیکھ بھال، ادویات اور جسمانی سرگرمیوں سے متعلق ہدایات دی جاتی ہیں۔ مریض کو دوبارہ معائنے اور طبی مدد حاصل کرنے کے ضروری اوقات بھی بتائے جاتے ہیں

٭ بعض مریض چند ہفتوں میں کام پر واپس آ سکتے ہیں۔ تاہم، یہ کام کی نوعیت اور صحت یابی کی رفتار پر منحصر ہے۔

نتائج

٭ لامینیکٹومی کے بعد زیادہ تر مریضوں کے بازوؤں یا ٹانگوں میں درد کم ہو جاتا ہے۔ چلنے اور کھڑے ہونے میں بھی آسانی ہو سکتی ہے۔ تاہم، ہر مریض میں نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ آرتھرائٹس یا ریڑھ کی ہڈی میں مزید تبدیلیوں سے آپریشن کا فائدہ کم ہو سکتا ہے

٭ یہ آپریشن کمر یا گردن کے مقامی درد کو کم کرنے میں نسبتاً کم مؤثر ہوتا ہے

٭ علاج کے نتائج کا انحصار اعصاب پر دباؤ کی وجہ، علامات، مجموعی صحت اور ساتھ کیے گئے دوسرے آپریشنز پر ہوتا ہے۔ اس لیے سرجن سے متوقع فائدے اور صحت یابی کے بارے میں بات کرنا ضروری ہے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

بینائن پیریفرل نرو ٹیومر: اعصاب میں بننے والی غیر سرطانی رسولی

Read Next

سیپٹک آرتھرائٹس: جوڑ کا تکلیف دہ انفیکشن

Leave a Reply

Most Popular