ایک نئی تحقیق میں آنکھوں کی بیماری کیراٹوکونس کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ایپیوکسا کے اثرات تین سال بعد بھی برقرار پائے گئے۔ امریکی کمپنی گلاوکوس کے مطابق مریضوں کی بینائی اور کورنیا کی ساخت میں بہتری برقرار رہی۔ کورنیا آنکھ کا اگلا شفاف حصہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق کمپنی کی تحقیق میں 35 مریضوں کی 38 آنکھوں کا جائزہ لیا گیا۔ تین سال بعد 92 فیصد آنکھوں کے نتائج دستیاب تھے۔ تقریباً 29 فیصد آنکھوں کی بینائی میں چارٹ پر کم از کم دو لائنوں کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ ان میں 20 فیصد آنکھوں میں تین یا زیادہ لائنوں کی بہتری دیکھی گئی۔
علاج کے بعد کورنیا کے غیر معمولی ابھار میں اوسطاً 1.9 ڈائی آپٹر کی کمی تین سال بعد بھی برقرار رہی۔ تین سال کے دوران کسی آنکھ کو اضافی علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔ اس عرصے میں علاج سے متعلق کوئی سنگین مضر اثر بھی رپورٹ نہیں ہوا۔
ایپیوکسا کو امریکہ میں کیراٹوکونس کے علاج کے لیے منظوری مل چکی ہے۔ اس طریقے میں دوا کے ساتھ مخصوص الٹراوائلٹ روشنی استعمال ہوتی ہے۔ اس دوران قرنیے کی بیرونی تہہ ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تاہم، تین سالہ نتائج محدود مریضوں کے جائزے اور کمپنی کے فراہم کردہ اعدادوشمار پر مبنی ہیں۔