Vinkmag ad

بروکن ہارٹ سنڈروم: دل ٹوٹ جانا

A distressed woman in emotional shock holding her chest, illustrating a common presentation of Broken Heart Syndrom

بروکن ہارٹ سنڈروم (Broken heart syndrome) یا عرف عام میں دل ٹوٹ جانا ایسی عارضی کیفیت ہے جو عموماً شدید ذہنی دباؤ یا صدمے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دل ٹوٹنا محض ایک تشبیہ ہے۔ اس میں دل نہ پھٹتا ہے، نہ ٹوٹتا ہے اور نہ ہی اس کی دیوار میں کوئی دراڑ پڑتی ہے۔

بعض اوقات یہ کیفیت کسی سنگین بیماری یا بڑی سرجری کے نتیجے میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ زیادہ تر لوگ اس سے جلد نکل آتے ہیں، تاہم کچھ لوگوں کو دل کی کارکردگی معمول پر آنے کے بعد بھی طبیعت پوری طرح بہتر محسوس نہیں ہوتی۔

بروکن ہارٹ سنڈروم کو درج ذیل ناموں سے بھی جانا جاتا ہے:

٭ سٹریس کارڈیو مایوپیتھی

٭ تاکوتسوبو کارڈیو مایوپیتھی (Takotsubo cardiomyopathy)

٭ بار بار ہونے والی تاکوتسوبو کارڈیو مایوپیتھی

٭ ایپیکل بیلوننگ سنڈروم

بروکن ہارٹ سنڈروم اور دل کے دورے میں فرق

دل کا دورہ اس وقت ہوتا ہے جب دل کی کسی شریان میں مکمل یا جزوی طور پر کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے۔ دوسری طرف بروکن ہارٹ سنڈروم میں دل کی شریانیں بند نہیں ہوتیں۔ تاہم، ان شریانوں میں خون کا بہاؤ عارضی طور پر کم ہو سکتا ہے۔

علامات

بروکن ہارٹ سنڈروم کی علامات دل کے دورے سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ سینے میں درد

٭ سانس پھولنا

٭ بے ہوش ہو جانا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر سینے میں اچانک درد ہو یا اس کی وجہ معلوم نہ ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔ اگر آپ کو لگے کہ دل کا دورہ پڑ رہا ہے تو فوراً طبی امداد حاصل کریں اور ہنگامی طبی امدادی نمبر پر رابطہ کریں۔ اسی طرح اگر دل کی دھڑکن بہت تیز یا بے ترتیب ہو، یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو بھی فوری طبی مدد حاصل کریں۔

وجوہات

بروکن ہارٹ سنڈروم کی حتمی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تناؤ کے ہارمونزمیں اچانک اضافے کے باعث ہوتا ہے۔ تاہم یہ ہارمون دل کو کس طرح متاثر کرتے ہیں، اس کی مکمل وجہ ابھی واضح نہیں۔

جسمانی دباؤ

٭ شدید انفیکشن، جیسے کووڈ-19

٭ اچانک ہونے والی بیماری، جیسے دمے کا شدید دورہ

٭ پھیپھڑوں کا اچانک کام کرنا بند کر دینا

٭ بڑی سرجری

٭ کوئی بھی ایسی کیفیت جو اچانک شدید درد پیدا کرے، جیسے ہڈی ٹوٹ جانا

ذہنی دباؤ

٭ کسی عزیز کی وفات یا کوئی اور بڑا صدمہ

٭ شدید جھگڑا

٭ شدید مالی مشکلات یا دیگر مالی دباؤ

ادویات کا استعمال

بعض ادویات یا منشیات بھی بروکن ہارٹ سنڈروم کا سبب بن سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ شدید الرجی یا دمے کے شدید دورے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات

٭ اے ڈی ایچ ڈی کی بعض ادویات

٭ اینگزائٹی کی بعض ادویات

٭ ناک بند ہونے کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات

٭ منشیات، جیسے کوکین وغیرہ

خطرے کے عوامل

بروکن ہارٹ سنڈروم کا خطرہ درج ذیل عوامل کی موجودگی میں بڑھ سکتا ہے:

٭ یہ کیفیت مردوں کی نسبت خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے

٭ زیادہ تر مریضوں کی عمر 50 سال سے زائد ہوتی ہے

٭ بے چینی یا ڈپریشن میں مبتلا افراد میں اس سنڈروم کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے

پیچیدگیاں

زیادہ تر افراد بروکن ہارٹ سنڈروم سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں، اور انہیں طویل مدتی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ تاہم، بعض مریضوں میں یہ کیفیت دوبارہ بھی ہو سکتی ہے۔

ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:

٭ پھیپھڑوں میں پانی بھر جانا، جسے پلمونری ایڈیما کہا جاتا ہے

٭ کم بلڈ پریشر

٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن، جسے اریتھمیا کہا جاتا ہے

٭ ہارٹ فیل ہونا

٭ دل میں خون کے کلاٹ بن جانا

بہت ہی کم صورتوں میں یہ کیفیت جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

بروکن ہارٹ سنڈروم سے بچاؤ کے لیے طبی ماہرین بعض اوقات بیٹا بلاکر ادویات تجویز کرتے ہیں۔ یہ ادویات تناؤ کے ہارمونز کے اثرات کو کم کرکے دل کی حفاظت کرتی ہیں۔

مسلسل ذہنی دباؤ اس سنڈروم کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس لیے ذہنی دباؤ پر قابو پانا دل کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ تناؤ کم کرنے یا اس پر قابو پانے کے چند مؤثر طریقے درج ذیل ہیں:

٭ باقاعدگی سے ورزش کریں

٭ مائیڈفُلنس (ذہنی یکسوئی) کی مشق کریں

٭ سپورٹ گروپس کے ذریعے دوسروں سے رابطے میں رہیں

تشخیص

بروکن ہارٹ سنڈروم میں مبتلا زیادہ تر افراد کو اس کیفیت کے آغاز سے پہلے دل کی بیماری کی کوئی واضح علامات نہیں ہوتیں۔ تشخیص کے لیے درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

٭ بلڈ ٹیسٹ، جس میں کارڈیئک انزائمز کا جائزہ لیا جاتا ہے

٭ الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی)

٭ کورونری اینجیوگرام

٭ ایکوکارڈیوگرام

٭ کارڈیئک ایم آر آئی

علاج

ادویات

اگر بروکن ہارٹ سنڈروم کی تشخیص ہو جائے تو عموماً درج ذیل مقاصد کے لیے ادویات تجویز کی جاتی ہیں:

٭ علامات اور ممکنہ پیچیدگیوں کا علاج کرنا

٭ دل پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا

٭ اس کیفیت کے دوبارہ ہونے کے خطرے کو کم کرنا

سرجری یا دیگر طریقۂ علاج

دل کے دورے کے علاج کے لیے کی جانے والی سرجریز اور دیگر پروسیجرز بروکن ہارٹ سنڈروم میں مؤثر نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا مقصد بند شریانوں کو کھولنا ہوتا ہے، جبکہ اس سنڈروم میں دل کی شریانیں بند نہیں ہوتیں۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا بروکن ہارٹ سنڈروم ہمیشہ شدید صدمے کے بعد ہی ہوتا ہے؟

نہیں۔ اگرچہ شدید صدمہ اس کی عام وجہ ہے، لیکن یہ کسی سنگین جسمانی بیماری، بڑی سرجری یا شدید جسمانی دباؤ کے بعد بھی ہو سکتا ہے۔

کیا بروکن ہارٹ سنڈروم دوبارہ ہو سکتا ہے؟

ہاں۔ اگرچہ ایسا کم ہوتا ہے، لیکن بعض افراد میں یہ کیفیت دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا بروکن ہارٹ سنڈروم میں دل کو مستقل نقصان پہنچتا ہے؟

زیادہ تر مریض مکمل یا تقریباً مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور انہیں دل کا مستقل نقصان نہیں ہوتا۔ تاہم بعض افراد کو اپنی طبیعت صحت یابی کے کچھ عرصے بعد تک ناساز محسوس ہو سکتی ہے۔

کیا ذہنی دباؤ کم کرنے سے اس سنڈروم کا خطرہ کم ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ باقاعدگی سے ورزش، مائنڈ فُلنیس کی مشق اور فیملی یا سپورٹ گروپس سے رابطہ ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے اس سنڈروم کے خطرے میں بھی کمی آتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

مستقل ڈاکٹر سے دوری نوجوانوں کی صحت کے لیے خطرہ، سروے

Read Next

بروکسزم: دانت پیسنا

Leave a Reply

Most Popular