دانت پیسنے (Teeth grinding) کے لیے طبی اصطلاح بروکسزم (Bruxism) ہے۔ یہ ایسی حالت ہے جس میں فرد دانتوں کو زور سے بھینچتا یا رگڑتا ہے۔ اگر جاگتے ہوئے بروکسزم ہو تو انسان بے خبری میں دانت پیستا رہتا ہے۔ جو افراد نیند میں دانت پیستے یا بھینچتے ہیں، ان میں نیند کی دیگر خرابیوں، جیسے خراٹے لینا اور سلیپ اپنیا کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
علامات
بروکسزم کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:
٭ دانت پیسنا یا زور سے بھینچنا، جس کی آواز اتنی بلند ہو سکتی ہے کہ ساتھ سونے والا شخص جاگ جائے
٭ دانتوں کا چپٹا، ٹوٹا، کناروں سے چِھلا ہوا ہونا یا ہل جانا
٭ دانتوں کی حفاظتی بیرونی تہہ (اینامل) کا گھس جانا
٭ دانتوں میں درد یا حساسیت
٭ جبڑے کے پٹھوں کا تھکا ہوا یا اکڑا ہوا محسوس ہونا، یا جبڑے کا اس طرح جکڑ جانا کہ وہ پوری طرح کھل یا بند نہ ہو سکے
٭ جبڑے، گردن یا چہرے میں درد یا تکلیف ہونا
٭ جبڑے کے پٹھوں کا معمول سے زیادہ بڑا محسوس ہونا
٭ ایسا درد جو کان کے درد جیسا محسوس ہو، حالانکہ کان میں کوئی مسئلہ نہ ہو
٭ سر کے دونوں اطراف، پیشانی اور کانوں کے درمیان والے حصے سے شروع ہونے والا ہلکا سر درد
٭ نیند کے مسائل
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ میں دانت پیسنے کی علامات موجود ہوں، یا دانتوں اور جبڑے سے متعلق کوئی اور تشویش ہو تو اپنے ڈینٹسٹ یا کسی مستند طبی ماہر سے رجوع کریں۔
اگر آپ محسوس کریں کہ آپ کا بچہ دانت پیستا ہے تو اگلی ڈینٹل اپائنٹمنٹ پر ضرور اس کا ذکر کریں۔
وجوہات
بروکسزم کی اصل وجہ ابھی پوری طرح معلوم نہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کے پیچھے جسمانی، ذہنی اور جینیاتی عوامل کا مجموعہ کارفرما ہو سکتا ہے۔
٭ جاگتے ہوئے ہونے والا بروکسزم بے چینی، ذہنی دباؤ، غصے، مایوسی یا تناؤ جیسے جذبات سے منسلک ہو سکتا ہے۔ بعض افراد میں یہ گہری سوچ یا توجہ کے دوران بن جانے والی عادت یا ذہنی دباؤ سے نپٹنے کا طریقہ بھی ہوتا ہے
٭ نیند کے دوران ہونے والا بروکسزم، نیند میں آنے والے مختصر خلل سے منسلک چبانے جیسی غیر ارادی سرگرمی ہو سکتا ہے
خطرے کے عوامل
یہ عوامل بروکسزم کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ ذہنی دباؤ، بے چینی، غصہ یا مایوسی
٭ بچپن، بالغ ہونے تک عموماً ختم ہو جاتا ہے
٭ جارحانہ، مقابلہ پسند یا ضرورت سے زیادہ سرگرم شخصیت رکھنا
٭ جاگتے ہوئے منہ کی عادات، جیسے ہونٹ، زبان یا گال چبانا اور زیادہ دیر چیونگ گم چبانا
٭ تمباکو نوشی، کیفین والے مشروبات یا الکوحل کا استعمال
٭ کم صورتوں میں اینٹی ڈپریسنٹس، مرگی اور اے ڈی ایچ ڈی کی بعض ادویات کا استعمال
٭ فیملی ہسٹری
٭ دیگر طبی حالتیں، جیسے پارکنسن بیماری، ڈیمنشیا، جی ای آر ڈی، مرگی، نائٹ ٹیررز، سلیپ اپنیا اور اے ڈی ایچ ڈی
پیچیدگیاں
زیادہ تر افراد میں بروکسزم سنگین پیچیدگیاں پیدا نہیں کرتا، لیکن شدید بروکسزم درج ذیل مسائل کا سبب بن سکتا ہے:
٭ دانتوں، جبڑوں، فلنگ، کراؤن یا دیگر ڈینٹل مرمت کو نقصان پہنچنا
٭ تناؤ سے متعلق سر درد
٭ چہرے یا جبڑے میں شدید درد
٭ ٭ جبڑے کے جوڑوں (ٹی ایم جے) کی خرابی، جس میں منہ کھولنے یا بند کرنے پر درد اور ٹک ٹک کی آواز آ سکتی ہے
تشخیص
اگر بروکسزم کی علامات موجود ہوں تو ڈینٹسٹ دانتوں اور منہ میں ہونے والی تبدیلیوں کا معائنہ کرتا ہے۔ ڈینٹسٹ درج ذیل امور بھی چیک کرتا ہے:
٭ جبڑے کے پٹھوں یا جوڑوں میں درد یا حساسیت
٭ جبڑا حرکت دینے پر اکڑاؤ یا درد
٭ دانتوں میں تبدیلیاں، جیسے چپٹے، ٹوٹے ہوئے یا غائب دانت
٭ دانتوں، ان کے نیچے موجود ہڈی اور گالوں کی اندرونی سطح کو نقصان کا جائزہ
علاج
بہت سے معاملات میں علاج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بہت سے بچوں میں بروکسزم بغیر علاج کے خود ختم ہو جاتا ہے، جبکہ بہت سے بالغ افراد میں مسئلہ اتنا شدید نہیں ہوتا کہ علاج کی ضرورت پیش آئے۔
اگر بروکسزم شدید ہو تو ڈینٹل علاج، مختلف تھراپیز اور بعض ادویات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ڈینٹل علاج
آپ کا ڈینٹسٹ دانتوں کو گھسنے سے بچانے یا نقصان کی اصلاح کے لیے درج ذیل طریقوں میں سے کوئی تجویز کر سکتا ہے:
٭ سپلنٹس اور ماؤتھ گارڈز
٭ دانتوں کی اصلاح
تھراپیز
درج ذیل طریقے بروکسزم کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ ذہنی دباؤ یا بے چینی پر قابو پانا
٭ رویے میں تبدیلی
٭ جبڑے کو آرام دینے کی مشقیں
طرزِ زندگی اور گھریلو تدابیر
یہ احتیاطی اقدامات بروکسزم سے بچاؤ یا اس کے علاج میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ ذہنی دباؤ کم کریں
٭ شام کے وقت کیفین والے مشروبات سے پرہیز کریں
٭ تمباکو نوشی نہ کریں
٭ اچھی نیند کی عادتیں اپنائیں
٭ دانتوں کا باقاعدگی سے معائنہ کروائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا بروکسزم موروثی بھی ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، خاص طور پر نیند کے دوران ہونے والا بروکسزم خاندانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ اگر خاندان کے کسی فرد کو یہ مسئلہ ہو تو دوسروں میں بھی اس کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
کیا بروکسزم بعض ادویات کے مضر اثرات کے طور پر بھی ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، اگرچہ یہ عام نہیں، لیکن بعض اینٹی ڈپریسنٹس، مرگی اور اے ڈی ایچ ڈی کی بعض ادویات کے مضر اثرات میں بروکسزم شامل ہو سکتا ہے۔
کیا ماؤتھ گارڈ یا سپلنٹ بروکسزم کو مکمل طور پر ختم کر دیتے ہیں؟
نہیں، ماؤتھ گارڈ اور سپلنٹس دانتوں کو گھسنے اور نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، لیکن وہ بروکسزم کی بنیادی وجہ یا عادت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=dentistry