بیریئم انیما (Barium enema) ایکس رے معائنہ ہے جو بڑی آنت میں تبدیلیوں یا خرابیوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کو کولون ایکس رے بھی کہا جاتا ہے۔ اس پروسیجر میں ریکٹم کے ذریعے مائع داخل کیا جاتا ہے جو آنت کی اندرونی ساخت کو واضح کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ریکٹم بڑی آنت کا آخری حصہ ہے جہاں پاخانہ جسم سے خارج ہونے سے پہلے عارضی طور پر جمع رہتا ہے۔
انیما کے دوران ایک نالی کے ذریعے مائع آنت میں داخل کیا جاتا ہے جس میں بیریئم نامی دھاتی مادہ شامل ہوتا ہے۔ یہ مادہ آنت کی اندرونی دیوار پر تہہ بنا لیتا ہے جس سے ایکس رے میں واضح تصویر حاصل ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں آنت میں ہوا بھی داخل کی جاتی ہے تاکہ اس کی ساخت مزید واضح ہو سکے۔ اسے ایئر کانٹراسٹ یا ڈبل کانٹراسٹ بیریئم انیما کہا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
ماضی میں بیریئم انیما پیٹ اور آنتوں کے مسائل کی تشخیص کے لیے سادہ سا ٹیسٹ تھا۔ اب جدید ٹیکنالوجی، مثلاً سی ٹی سکین نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے باوجود بعض حالات میں یہ اب بھی مفید سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر جب ابتدائی تشخیص درکار ہو۔
یہ ٹیسٹ درج ذیل علامات کی صورت میں تجویز کیا جاتا ہے:
٭ پیٹ میں مسلسل یا غیر واضح درد
٭ ریکٹم سے خون آنا
٭ آنتوں کے معمول میں نمایاں تبدیلی
٭ وزن میں غیر معمولی کمی
٭ طویل عرصے تک جاری رہنے والا اسہال
٭ مسلسل قبض
اسی طرح یہ ٹیسٹ بعض بیماریوں کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے:
٭ آنتوں میں غیر معمولی بڑھوتری یا پولپس، جو کولوریکٹل کینسر کا خطرہ ظاہر کر سکتے ہیں
٭ آنتوں کی سوزش کی بیماریاں
خطرات
بیریئم انیما نسبتاً محفوظ ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے، تاہم چند صورتوں میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ بڑی آنت کے اردگرد ٹشوز میں سوزش
٭ نظام ہاضمہ میں جزوی یا مکمل رکاوٹ
٭ آنت کی دیوار میں شگاف یا پھٹ جانا
٭ بیریئم سے الرجک ری ایکشن
حاملہ خواتین کے لیے یہ ٹیسٹ عام طور پر تجویز نہیں کیا جاتا کیونکہ ایکس رے جنین کی نشوونما کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
تیاری کیسے کریں
ٹیسٹ سے پہلے آنت کو مکمل طور پر خالی کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ تصاویر واضح حاصل ہو سکیں اور کسی غلط تشخیص سے بچا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر مخصوص ہدایات دیتے ہیں۔
٭ ٹیسٹ سے ایک دن پہلے صرف صاف مائع جات استعمال کریں۔ صاف مائع جات سے مراد وہ مشروبات ہیں جو شفاف ہوں اور جن میں ٹھوس ذرات، دودھ یا کریم شامل نہ ہو۔ یہ آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں اور آنتوں میں کوئی باقیات نہیں چھوڑتے، اس لیے ٹیسٹ سے پہلے ان کی اجازت دی جاتی ہے۔ پانی، بغیر دودھ یا کریم کی چائے اور کافی، صاف شوربہ اور ہلکے مشروبات اس میں شامل ہیں۔
٭ آدھی رات کے بعد کچھ بھی کھانے یا پینے سے پرہیز کریں
٭ آنت صاف کرنے کے لیے جلاب آور دوا کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جو عام طور پر ٹیسٹ سے ایک رات پہلے دی جاتی ہے
٭ بعض صورتوں میں گھر پر استعمال ہونے والی انیما کٹ بھی تجویز کی جاتی ہے تاکہ آنت مکمل طور پر صاف ہو سکے
٭ استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں ڈاکٹر کو پہلے سے آگاہ کریں، اس لیے کہ کچھ ادویات عارضی طور پر بند کی جا سکتی ہیں
پروسیجر
معائنے کے دوران
ٹیسٹ کے دوران مریض کو مخصوص گاؤن پہنایا جاتا ہے اور تمام دھاتی یا اضافی اشیاء ہٹا دی جاتی ہیں۔ یہ عمل ریڈیالوجسٹ اور ٹیکنیشن کی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔ مریض کو ایک خاص میز پر لٹا کر ابتدائی ایکس رے لیا جاتا ہے تاکہ آنت کی صفائی کی تصدیق ہو سکے۔
اس کے بعد چکنی انیما ٹیوب ریکٹم میں داخل کی جاتی ہے جس کے ذریعے بیریئم محلول آنت میں پہنچایا جاتا ہے۔ بعض اوقات اسی ٹیوب سے ہوا بھی داخل کی جاتی ہے تاکہ آنت کی ساخت مزید واضح ہو سکے۔
ٹیوب میں موجود چھوٹا غبارہ بیریئم کو اندر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ آنت بھرنے کے دوران مریض کو رفع حاجت کی شدید خواہش یا ہلکا درد محسوس ہو سکتا ہے۔ مریض کو گہری سانسیں لینے اور جسم کو آرام دینے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ عمل آسان رہے۔
مختلف زاویوں سے تصاویر لینے کے لیے مریض کو مختلف پوزیشنز میں کروٹ بدلنے اور بعض اوقات سانس روکنے کو کہا جاتا ہے۔ اس دوران ریڈیالوجسٹ آنت کا مکمل جائزہ لیتا ہے۔ یہ پورا عمل تقریباً 30 سے 60 منٹ تک جاری رہتا ہے۔
معائنے کے بعد
ٹیسٹ کے بعد زیادہ تر بیریئم آنت سے خارج ہو جاتا ہے اور مریض ٹوائلٹ جا سکتا ہے۔ ہلکا درد یا تکلیف عموماً جلد ختم ہو جاتی ہے اور مریض اپنی معمول کی سرگرمیوں اور خوراک پر واپس آ سکتا ہے۔
چند دن تک پاخانہ سفید یا ہلکے رنگ کا ہو سکتا ہے جو نارمل بات ہے۔ بیریئم قبض کا باعث بن سکتا ہے، اس لیے زیادہ پانی پینے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر جلاب تجویز کر سکتا ہے۔
اگر دو دن تک رفع حاجت نہ ہو یا علامات برقرار رہیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
نتائج
ریڈیالوجسٹ معائنے کے بعد رپورٹ تیار کرتا ہے جو متعلقہ ڈاکٹر کو بھیجی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نتائج کی وضاحت کرتا ہے اور ضرورت کے مطابق مزید اقدامات تجویز کرتا ہے۔
٭ منفی نتیجہ اس صورت میں ہوتا ہے جب آنت میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ پائی جائے
٭ مثبت نتیجہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی خرابی یا غیر معمولی ساخت کی نشاندہی ہو، جس پر مزید ٹیسٹ جیسے کولونوسکوپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے
اگر تصاویر واضح نہ ہوں تو ڈاکٹر دوبارہ ٹیسٹ یا متبادل تشخیصی طریقہ تجویز کر سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=radiologist