Vinkmag ad

پارکنسنز ٹیسٹ

A senior male patient undergoes a neurological finger-to-nose coordination test for Parkinson's disease conducted by a female neurologist in a hospital clinic setting.

ایک نیا تشخیصی ٹیسٹ پارکنسن کی بیماری کو ابتدائی مراحل میں یا علامات ظاہر ہونے سے پہلے شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسے پارکنسنز ٹیسٹ (Parkinson’s test) یا الفا-سینوکلین سیڈ ایمپلیفیکیشن اسیس (alpha-synuclein seed amplification assay) کہا جاتا ہے۔

یہ ٹیسٹ ریڑھ کی ہڈی کے سیال میں الفا-سینوکلین کے غیر معمولی طور پر جمع ہونے کو تلاش کرتا ہے۔ الفا-سینوکلین ایک پروٹین ہے جو دماغی خلیوں میں پائی جاتی ہے اور غیر معمولی طور پر جمع ہو کر نقصان کا باعث بنتی ہے۔ یہ غیر معمولی جمع شدہ پروٹین دماغی خلیوں کے اندر مخصوص حصوں میں پائی جاتی ہے جنہیں لیوی باڈیز کہا جاتا ہے۔ اسے اہم خوردبینی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی کے سیال (سیریبرو سپائنل فلوئڈ) میں اس پروٹین کی جانچ پارکنس کی بیماری کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔ یہ ٹیسٹ ایسے افراد کو بھی شناخت کر سکتا ہے جن میں بیماری کا خطرہ موجود ہو لیکن علامات ابھی ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ اس مقصد کے لیے لمبر پنکچر کے ذریعے سیال حاصل کیا جاتا ہے جسے سپائنل ٹیپ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ ٹیسٹ فی الحال صرف تحقیقی کلینیکل ٹرائلز میں استعمال ہو رہا ہے اور عام طبی کلینکس میں دستیاب نہیں ہے۔ تاہم ماہرین کو امید ہے کہ مستقبل میں یہ پارکنس کی بیماری کی تشخیص کا حصہ بن سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسے خون کے نمونوں سے بھی انجام دیا جا سکے۔

کیوں کیا جاتا ہے

اب تک پارکنس کی بیماری کی تشخیص کے لیے کوئی واحد اور حتمی ٹیسٹ موجود نہیں ہے۔ تشخیص عام طور پر علامات ظاہر ہونے کے بعد کی جاتی ہے جن میں کپکپاہٹ اور حرکت کی سستی شامل ہیں۔

تحقیقی ماحول میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ الفا-سینوکلین سیڈ ایمپلیفیکیشن اسے بیماری کو ابتدائی مرحلے میں اور بعض صورتوں میں علامات سے پہلے بھی شناخت کر سکتا ہے۔

ایک بڑی سٹڈی میں 1000 سے زائد افراد کے سیریبرو اسپائنل فلوئڈ کا تجزیہ کیا گیا تاکہ پروٹین کے غیر معمولی جُھرمٹ کی موجودگی دیکھی جا سکے۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ زیادہ تر کیسز میں ٹیسٹ نے درست طور پر بیماری کی نشاندہی کی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے افراد کو بھی شناخت کیا گیا جن میں مستقبل میں بیماری کا خطرہ تھا۔

مزید تحقیقات نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ٹیسٹ بیماری والے اور غیر بیماری والے افراد کے درمیان واضح فرق کر سکتا ہے۔ تاہم اس کی حتمی افادیت کے لیے بڑے پیمانے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

پارکنس بایومارکر کی دریافت ایک اہم پیش رفت ہے جو بیماری کی جلد تشخیص، بروقت علاج اور کلینیکل ٹرائلز کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس سے بیماری کی مختلف اقسام کو سمجھنے میں بھی بہتری آئے گی۔

خطرات

پارکنس کی بیماری کی تشخیص کے لیے لمبر پنکچر کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے کچھ ممکنہ خطرات بھی ہیں:

سر درد: لمبر پنکچر کے بعد سیال کے رسنے کی وجہ سے سر درد ہو سکتا ہے۔ یہ چند گھنٹوں یا دو دن بعد شروع ہو سکتا ہے اور لیٹنے سے بہتر ہو جاتا ہے۔

کمر درد: انجکشن کی جگہ پر درد یا حساسیت ہو سکتی ہے جو بعض اوقات ٹانگوں تک پھیل سکتی ہے۔

خون بہنا: سوئی کی جگہ پر معمولی خون بہہ سکتا ہے اور بہت کم صورتوں میں ریڑھ کی نالی کے اندر خون بہنے کا امکان ہوتا ہے۔

ٹیسٹ کے لیے تیاری

لمبر پنکچر سے پہلے ڈاکٹر آپ کی مکمل میڈیکل ہسٹری لیتا ہے۔ اس کے بعد خون کے ٹیسٹ کے ذریعے خون بہنے یا جمنے کے مسائل کی جانچ کرتا ہے۔ اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں تو ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔

اگر کسی دوا، خاص طور پر لوکل اینستھیزیا سے الرجی ہو تو اس کی بھی اطلاع دینا ضروری ہے۔ پروسیجر سے پہلے کھانے پینے اور ادویات کے بارے میں دی گئی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔

طریقہ کار

یہ عمل عام طور پر ہسپتال یا آؤٹ پیشنٹ سینٹر میں کیا جاتا ہے۔ مریض کو ہسپتال کا گاؤن پہننے کے لیے دیا جا سکتا ہے۔

ٹیسٹ کے دوران

مریض کو پہلو کے بل لٹایا جاتا ہے اور گھٹنوں کو سینے کی طرف موڑا جاتا ہے یا پھر آگے جھک کر بیٹھنے کو کہا جاتا ہے تاکہ ریڑھ کی ہڈی کے درمیان جگہ کھل جائے۔ کمر کو جراثیم کش محلول سے صاف کر کے اس جگہ کو ڈھانپ دیا جاتا ہے۔

لوکل اینستھیزیا دیا جاتا ہے جس سے ہلکی چبھن محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد باریک سوئی ریڑھ کی نالی تک داخل کی جاتی ہے اور سیال کا چھوٹا سا نمونہ لیا جاتا ہے۔ عمل کے دوران کمر میں دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔

بعد ازاں سوئی نکال کر اس جگہ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور پٹی لگا دی جاتی ہے۔ یہ پورا عمل تقریباً 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔

ٹیسٹ کے بعد

طریقہ کار کے بعد مریض کو کچھ گھنٹوں تک لیٹے رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ سر درد کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ باقی دن آرام کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اگر ہلکا درد ہو تو عام درد کم کرنے والی دوا دی جا سکتی ہے۔ شدید یا مسلسل سر درد کی صورت میں فوری طبی رابطہ ضروری ہوتا ہے۔

نتائج

نمونہ لیبارٹری میں بھیجا جاتا ہے جہاں اس پر ایک خاص کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر الفا-سینوکلین کے غیر معمولی جُھرمٹ موجود ہوں تو یہ کیمیکل فعال ہو کر روشنی ظاہر کرتا ہے جو مثبت نتیجہ تصور کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist

Vinkmag ad

Read Previous

بیلون والویولو پلاسٹی: دل کے والو کی مرمت کا پروسیجر

Leave a Reply

Most Popular