سیسٹیکٹومی (Cystectomy) ایک بڑی سرجری ہے جس میں مثانہ مکمل یا جزوی طور پر نکال دیا جاتا ہے۔ یہ سرجری زیادہ تر مثانے کے کینسر یا پیچیدہ طبی حالتوں کے علاج کے لیے کی جاتی ہے۔ ریڈیکل سیسٹیکٹومی میں پورا مثانہ نکالا جاتا ہے جبکہ بعض صورتوں میں قریبی اعضا بھی ساتھ ہی ہٹا دیے جاتے ہیں۔
مثانہ نکالنے کے بعد جسم میں پیشاب کو ذخیرہ کرنے اور خارج کرنے کا قدرتی نظام ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے سرجن ایک نیا راستہ بناتے ہیں جسے پیشاب کا متبادل نظام یا یورینری ڈائیورژن کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد پیشاب کو محفوظ طریقے سے جسم سے باہر نکالنا اور مریض کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
یہ سرجری مختلف طبی مسائل میں کی جاتی ہے جن میں شامل ہیں:
٭ مثانے کا کینسر جو شروع ہو یا پھیل جائے
٭ پیدائشی طور پر پیشاب کے نظام کی خرابیاں
٭ اعصابی نظام کی بیماریاں جو مثانے کے کنٹرول کو متاثر کریں
٭ ریڈی ایشن یا دیگر علاج کے بعد ہونے والے مثانے کے شدید مسائل
سرجری کی قسم مریض کی حالت، بیماری کی شدت اور مجموعی صحت کے مطابق منتخب کی جاتی ہے۔
ممکنہ خطرات اور پیچیدگیاں
سیسٹیکٹومی ایک پیچیدہ سرجری ہے جس میں کچھ خطرات شامل ہو سکتے ہیں:
٭ خون بہنا
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ انفیکشن
٭ زخم کا دیر سے بھرنا
٭ قریبی اعضا کو نقصان
٭ شدید انفیکشن جس سے جسم متاثر ہو (سیپسس)
٭ بعض صورتوں میں جان لیوا پیچیدگیاں
پیشاب کے متبادل نظام سے متعلق اضافی مسائل میں شامل ہو سکتے ہیں:
٭ بار بار اسہال
٭ گردوں کی کارکردگی میں کمی
٭ جسم میں نمکیات کا عدم توازن
٭ وٹامن بی 12 کی کمی
٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن
٭ گردے کی پتھری
٭ پیشاب پر کنٹرول میں کمی
٭ آنتوں میں رکاوٹ
٭ یوریٹر میں رکاوٹ
سرجری کی تیاری
سرجری سے پہلے
سرجری سے پہلے مریض کی مکمل طبی جانچ کی جاتی ہے اور مختلف عوامل پر غور کیا جاتا ہے۔
٭ طویل مدتی بیماریاں
٭ سابقہ سرجریز
٭ ادویات سے الرجی
٭ اینستھیزیا پر پہلے ردعمل
٭ نیند میں سانس رکنے کا مسئلہ
مریض سے اس کے روزمرہ استعمال کی چیزوں کے بارے میں بھی پوچھا جاتا ہے۔ مثلاً
٭ تمام ادویات
٭ وٹامنز اور ہربل سپلیمنٹس
٭ سگریٹ نوشی
٭ الکحل
٭ کیفین
٭ نشہ آور اشیا
اگر مریض سگریٹ نوشی کرتا ہے تو اسے چھوڑنے کی سخت ہدایت دی جاتی ہے کیونکہ یہ صحت یابی کو متاثر کرتی ہے۔
خوراک اور ادویات سے متعلق ہدایات
٭ سرجری سے ایک سے دو دن پہلے مریض کو صرف صاف مائع غذا دی جا سکتی ہے
٭ سرجری سے پہلے رات بارہ بجے کے بعد کھانا اور پینا بند کرنا ضروری ہوتا ہے
٭ ڈاکٹر بعض ادویات سرجری سے پہلے روکنے کی ہدایت دیتے ہیں
پیشاب کے متبادل نظام
مثانہ نکالنے کے بعد پیشاب کے اخراج کے لیے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہر طریقہ مریض کی حالت اور ضروریات کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے۔
بیرونی بیگ والا نظام
اس طریقے میں چھوٹی آنت کے ایک حصے سے نالی بنائی جاتی ہے۔ پیشاب اس نالی کے ذریعے پیٹ پر بنے سوراخ سے خارج ہو کر ایک بیگ میں جمع ہوتا ہے۔ یہ بیگ کپڑوں کے نیچے پہنا جاتا ہے اور اسے وقتاً فوقتاً خالی اور تبدیل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
جسم کے اندر ذخیرہ کرنے کا نظام
اس طریقے میں آنت کے حصے سے جسم کے اندر ایک تھیلی بنائی جاتی ہے۔ پیشاب اس تھیلی میں جمع ہوتا رہتا ہے اور اسے باریک نلکی کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے۔ مریض کو دن میں مخصوص اوقات پر خود کیتھیٹر استعمال کرنا ہوتا ہے۔
قدرتی انداز میں نئی مثانہ سازی
اس طریقے میں آنت کے حصے کو نئی مثانہ نما تھیلی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ تھیلی جسم میں اصل مثانے کی جگہ رکھی جاتی ہے اور پیشاب کو محفوظ کرتی ہے۔ کچھ مریض معمول کے مطابق پیشاب کر سکتے ہیں جبکہ کچھ کو مکمل صفائی کے لیے کیتھیٹر کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
سرجری کا طریقہ کار
٭ سرجری جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے جس میں مریض مکمل طور پر بے ہوش ہوتا ہے
٭ سرجن پیٹ میں کٹ لگا کر مثانہ اور متاثرہ ٹشوز کو نکالتا ہے
٭ کینسر کی صورت میں قریبی لمف نوڈز بھی نکالے جاتے ہیں تاکہ بیماری کے پھیلاؤ کا اندازہ ہو سکے
٭ اس کے بعد پیشاب کے اخراج کے لیے نیا نظام بنایا جاتا ہے
سرجری کے بعد کی صورتحال
سرجری کے بعد مریض کو کچھ علامات کا سامنا ہو سکتا ہے جن میں گلا خراب ہونا، کمزوری، متلی اور تھکن شامل ہیں۔ ڈاکٹر ان علامات کو کم کرنے کے لیے ادویات دیتے ہیں۔ جلد صحت یابی کے لیے مریض کو اگلے دن سے چلنے پھرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ہسپتال میں قیام اوپن سرجری میں زیادہ جبکہ کم کٹ والی سرجری میں کم ہوتا ہے۔
فالو اپ اور نگرانی
سرجری کے بعد مریض کو باقاعدہ فالو اپ کے لیے بلایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر گردوں کی کارکردگی، پانی اور نمکیات کے توازن کا جائزہ لیتے ہیں۔
اگر سرجری کینسر کے علاج کے لیے کی گئی ہو تو دوبارہ کینسر کے امکان کا باقاعدہ طور پر جائزہ لیا جاتا ہے۔
معمولات میں واپسی
سرجری کے بعد ابتدائی چھ ہفتے تک مریض کو احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس دوران بھاری کام، ڈرائیونگ اور سخت سرگرمیوں سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
مریض آہستہ آہستہ اپنی روزمرہ زندگی میں واپس آ سکتا ہے۔
نتائج اور طویل مدتی اثرات
یہ سرجری زندگی بچانے اور بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم اس کے بعد پیشاب کے نظام اور جنسی زندگی میں مستقل تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ وقت اور تربیت کے ساتھ مریض ان تبدیلیوں کے ساتھ زندگی گزارنا سیکھ لیتا ہے۔
پیشاب پر کنٹرول اور دیکھ بھال
٭ نیا مثانہ بعض اوقات فوراً مکمل طور پر کام نہیں کرتا
٭ شروع میں پیشاب پر کنٹرول مشکل ہو سکتا ہے جو وقت کے ساتھ بہتر ہو جاتا ہے۔
٭ کیتھیٹر کی مدد سے مثانے کو مکمل طور پر خالی کیا جا سکتا ہے۔
٭ سٹوما کی صفائی اور بیگ کی دیکھ بھال بہت ضروری ہے تاکہ پیچیدگیاں نہ ہوں۔
جنسی زندگی پر اثرات
٭ خواتین میں سرجری کے بعد جنسی تعلقات میں تکلیف یا حساسیت میں کمی ہو سکتی ہے
٭ مردوں میں اعصابی نقصان کی وجہ سے عضو تناسل کی سختی متاثر ہو سکتی ہے
٭ پروسٹیٹ اور دیگر اعضا ہٹانے کے بعد انزال ممکن نہیں رہتا۔ تاہم جنسی لذت برقرار رہ سکتی ہے اور ڈاکٹر اس حوالے سے مدد فراہم کر سکتے ہیں
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist