انسانی دل میں چار والوز ہوتے ہیں، جو خون کے بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔ جب کوئی والو تنگ ہو جائے تو اس کے پردے موٹے یا سخت ہو کر آپس میں جڑ سکتے ہیں۔ اس کیفیت سے خون کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے۔ والویولو پلاسٹی (Valvuloplasty) دل کے اس والو کی مرمت پر مبنی طریقۂ علاج ہے جس کا راستہ تنگ ہو چکا ہو۔ یہ خون کی روانی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے اور دل کی بیماری کی علامات مثلاً سانس پھولنا اور سینے میں درد میں کمی لانے کا سبب بنتا ہے۔ اسے بیلون والووٹومی یا پرکیوٹینیئس بیلون والویولوپلاسٹی بھی کہا جاتا ہے۔
کیوں کی جاتی ہے
دل کے والو کے تنگ ہونے کو والو سٹینوسِس کہا جاتا ہے۔ یہ پروسیجر درج ذیل بیماریوں میں استعمال ہو سکتا ہے:
٭ ایورٹک والو سٹینوسِس
٭ مائٹرل والو سٹینوسِس
٭ پلمونری والو سٹینوسِس
٭ ٹرائی کسپیڈ والو اسٹینوسِس
اگر والو سٹینوسِس کا علاج نہ کیا جائے تو سنگین پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان میں دل کی بے ترتیب دھڑکن اور ہارٹ فیلیئر شامل ہیں۔ ڈاکٹر مریض کی حالت دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ والویولوپ لاسٹی مناسب ہے یا کوئی دوسرا علاج بہتر ہوگا۔ یہ علاج عموماً اُس وقت تجویز کیا جاتا ہے جب والو بہت زیادہ تنگ ہو اور علامات ظاہر ہو رہی ہوں۔ بعض مریضوں میں علامات نہ ہونے کے باوجود بھی یہ طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔
علاج کا فیصلہ متاثرہ والو کی نوعیت پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایورٹک والو بالغ افراد میں دوبارہ تنگ ہو سکتا ہے۔ اس لیے بعض صورتوں میں یہ علاج عارضی طور پر کیا جاتا ہے۔ ایسا خاص طور پر تب کیا جاتا ہے جب مریض سرجری کے قابل نہ ہو یا والو کی تبدیلی کا انتظار ہو رہا ہو۔
پروسیجر کی تفصیل
والویولوپلاسٹی ہسپتال میں کی جاتی ہے اور مریض عموماً جاگ رہا ہوتا ہے۔ یہ عمل کارڈیئک کیتھیٹرائزیشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایک باریک اور نرم نالی (کیتھیٹر) خون کی نالی میں داخل کرتا ہے۔ کیتھیٹر کو احتیاط سے دل کے تنگ والو تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے سرے پر موجود بیلون پھلایا جاتا ہے تاکہ والو کا راستہ کھل جائے اور خون کا بہاؤ بہتر ہو جائے۔ بعد میں بیلون خالی کر کے کیتھیٹر نکال لیا جاتا ہے
سرجری کے بعد
زیادہ تر مریضوں کو ایک رات ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔ بعد ازاں دل کے باقاعدہ معائنے اور امیجنگ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ والو کی کارکردگی جانچی جا سکے
والویولوپلاسٹی سے علامات میں بہتری آ سکتی ہے، لیکن بعض صورتوں میں والو دوبارہ تنگ ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں دوبارہ والویولوپلاسٹی یا والو کی تبدیلی جیسے مزید علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiac-surgery