بلڈ پریشر ٹیسٹ (Blood pressure test) میں اس وقت شریانوں کے اندر خون کے دباؤ کی پیمائش کی جاتی ہے جب دل خون پمپ کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ٹیسٹ عام معائنے کا حصہ بھی ہوتا ہے، اور ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
بلڈ پریشر ٹیسٹ عمومی صحت کی جانچ کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ابتدائی طور پر خطرات کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے۔ عمر اور صحت کی حالت کے مطابق اس کی فریکوئنسی مختلف ہوتی ہے۔
٭ 18 سے 39 سال کے صحت مند افراد جن میں دل کی بیماری کے خطرات نہ ہوں، انہیں ہر 2 سے 5 سال بعد ٹیسٹ کروانا چاہیے
٭ 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد یا زیادہ خطرے والے افراد کو سالانہ ٹیسٹ کروانا چاہیے
٭ موٹاپا، ذیابیطس یا دل کی بیماری جیسے عوامل اس کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ ان کے شکار افراد کو ٹیسٹ کرانا چاہیے۔
٭ بلڈ پریشر کے طویل مدتی مریضوں کو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق زیادہ بار ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے
ماہرین صحت کے مطابق ہائی بلڈ پریشر والے افراد کو گھر پر بھی باقاعدہ مانیٹرنگ کرنی چاہیے تاکہ علاج کے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔ تاہم گھریلو پیمائش ڈاکٹر کے کلینیکل معائنے کا متبادل نہیں ہے۔
گھریلو استعمال کے لیے آٹومیٹک یا الیکٹرانک مانیٹر زیادہ قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صحیح ڈیوائس کے انتخاب میں رہنمائی کر سکتا ہے۔ گھر کی ریڈنگز کا ریکارڈ رکھنا اور سالانہ ڈیوائس کی جانچ کروانا بھی ضروری ہے۔
خطرات
بلڈ پریشر ٹیسٹ عام طور پر محفوظ ہوتا ہے۔ صرف کف کے پھولنے کے دوران بازو پر دباؤ محسوس ہوتا ہے جو چند سیکنڈ تک محدود رہتا ہے، اور زیادہ تکلیف دہ نہیں ہوتا۔
ٹیسٹ کی تیاری
درست نتائج کے لیے چند احتیاطی اقدامات ضروری ہیں تاکہ عارضی عوامل ریڈنگ کو متاثر نہ کریں۔ مثلاً:
٭ ٹیسٹ سے 30 سے 60 منٹ پہلے کیفین، ورزش اور تمباکو سے پرہیز کریں
٭ ایسی آستین پہنیں جو آسانی سے اوپر کی جا سکے تاکہ کف صحیح لگ سکے
٭ ٹیسٹ سے کم از کم پانچ منٹ پہلے آرام سے بیٹھ کر جسم کو پرسکون کریں
٭ دورانِ ٹیسٹ گفتگو سے گریز کریں تاکہ نتائج متاثر نہ ہوں
٭ استعمال ہونے والی ادویات کے بارے میں ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں
طریقہ کار
بلڈ پریشر عام طور پر بیٹھ کر ماپا جاتا ہے اور بازو کو دل کی سطح پر رکھا جاتا ہے۔ کف بازو کے اوپری حصے پر لپیٹا جاتا ہے۔ اس کا سائز درست ہونا ضروری ہے کیونکہ غلط سائز نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔
دستی طریقے میں سٹیتھوسکوپ کے ذریعے شریان میں خون کے بہاؤ کی آواز سنی جاتی ہے۔ آٹومیٹک مشین میں کف خود بخود دباؤ ناپ کر ریڈنگ ظاہر کرتی ہے۔
ٹیسٹ کے بعد
اگر ریڈنگ غیر معمولی ہو تو ڈاکٹر عام طور پر مختلف دنوں میں مزید تین بار ٹیسٹ کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بلڈ پریشر وقت اور حالات کے مطابق بدل سکتا ہے۔
نتائج کی درجہ بندی
بلڈ پریشر کو ملی میٹر مرکری (mm Hg) میں ناپا جاتا ہے۔ عام طور پر 130/80 یا اس سے زیادہ ریڈنگ ہائی بلڈ پریشر سمجھی جاتی ہے۔
٭ نارمل بلڈ پریشر: 120/80 سے کم
٭ بڑھا ہوا (ایلیویٹڈ) بلڈ پریشر: 120–129 اور نیچے والا 80 سے کم
٭ سٹیج 1 ہائپرٹینشن: 130–139 اور نیچے والا 80–89
٭ سٹیج 2 ہائپرٹینشن: 140 یا زیادہ اور نیچے والا 90 یا زیادہ
180/120 یا اس سے زیادہ ریڈنگ ہنگامی طبی حالت ہے جس میں فوری علاج ضروری ہوتا ہے۔ اگر اوپر والا (سسٹولک) اور نیچے والا (ڈایاسٹولک) بلڈ پریشر مختلف درجوں میں ہوں تو حتمی درجہ بندی ہمیشہ زیادہ سنگین درجے کے مطابق کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں نمبروں میں سے جس نمبر کی حالت زیادہ خطرناک ہو، اسی کو حتمی تشخیص مانا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ریڈنگ 135/78 ہو تو اوپر والا نمبر سٹیج 1 ہائپرٹینشن میں آتا ہے جبکہ نیچے والا نارمل ہے، اس صورت میں مریض کو سٹیج 1 ہائپرٹینشن ہی شمار کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر ریڈنگ 118/92 ہو تو اوپر والا نمبر نارمل ہے لیکن نیچے والا سٹیج 2 ہائپرٹینشن میں آتا ہے، اس صورت میں حتمی درجہ سٹیج 2 ہائپرٹینشن ہوگا۔
طرز زندگی میں تبدیلی
بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے صحت مند عادات اپنانا ضروری ہے۔ مثلاً:
٭ نمک کا استعمال کم کریں اور پراسیسڈ فوڈز سے پرہیز کریں
٭ پھل، سبزیاں، ہول گرینز اور کم چکنائی والی غذا استعمال کریں
٭ تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں، یا استعمال محدود کریں
٭ جسمانی وزن متوازن رکھیں کیونکہ اضافی وزن خطرہ بڑھاتا ہے
٭ ہفتے میں کم از کم 150 منٹ معتدل ورزش کریں
٭ روزانہ 7 سے 9 گھنٹے معیاری نیند لیں
اگر طرز زندگی میں بہتری کے باوجود بلڈ پریشر کنٹرول نہ ہو تو ڈاکٹر دواؤں کے ذریعے علاج تجویز کر سکتا ہے۔
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist