ماہرین کے مطابق الزائمر سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن ہو سکتی ہے۔ سائنس دانوں نے ایک اہم جینیاتی دریافت کی ہے جس میں بیماری سے ہونے والے نقصان کے عمل کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں الزائمر کے نئے علاج کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق نیویارک کے آئیکان سکول آف میڈیسن ایٹ ماؤنٹ سینائی کے محققین نے اے پی او ای 4 جین کا جائزہ لیا۔ یہ جین الزائمر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کے اثرات دماغ میں خون کی باریک نالیوں کو سہارا دینے والے خلیوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے نالیاں موٹی ہونے لگتی ہیں۔ ان کے اردگرد ایمیلائڈ نامی نقصان دہ پروٹین بھی جمع ہوتا ہے۔ اس عمل سے دماغ تک خون کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
محققین نے چوہوں میں ٹی جی ایف بیٹا نامی پروٹین کی سرگرمی روکی۔ اس عمل سے خون کی نالیوں کی حالت بہتر ہوئی اور جین سے ہونے والا نقصان بھی کم ہوگیا۔ محققین کے مطابق انسانوں میں اس طریقے کی افادیت جانچنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔ نتائج طبی جرائد سیل اور سیل سٹیم سیل میں شائع ہوئے ہیں۔