گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جوان امریکیوں میں فالج کے کیسز تقریباً دگنے ہوگئے ہیں۔ یونیورسٹی آف سنسناٹی کی تحقیق کے مطابق یہ اضافہ 20 سے 54 سال کے افراد میں نمایاں دیکھا گیا۔
طبی جریدے نیورولوجی میں شائع تحقیق میں گریٹر سنسناٹی اور ناردرن کینٹکی کے پانچ کاؤنٹیز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 1993 سے 2020 تک پہلی بار فالج کا شکار ہونے والے 2,076 افراد کے کیسز کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے مطابق 1993-94 میں ہر ایک لاکھ افراد میں فالج کی شرح 33.9 تھی۔ سال 2020 میں یہ شرح بڑھ کر 62.2 فی ایک لاکھ ہوگئی۔ سب سے زیادہ اضافہ اسکیمک فالج میں ہوا، جو دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بند ہونے سے ہوتا ہے۔
اس دوران جوان مریضوں میں فالج کے خطرے سے منسلک کئی طبی مسائل بھی بڑھے۔ ان میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی شامل ہیں۔
محققین نے جوانی سے ہی ان خطرات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنا فالج سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔