انگلینڈ میں ہائی بلڈ پریشر کے شکار ہر 10 میں سے تقریباً 6 افراد اپنی بیماری سے لاعلم ہیں۔ یہ اہم انکشاف آکسفورڈ یونیورسٹی کی 14 لاکھ سے زائد بالغ افراد پر کی گئی تحقیق میں ہوا ہے۔
بی ایم جے پبلک ہیلتھ میں شائع تحقیق میں 2022 سے 2025 تک جمع کیے گئے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ مجموعی طور پر 37 فیصد افراد میں ہائی بلڈ پریشر پایا گیا۔ ان میں 59 فیصد ایسے تھے جن میں اس بیماری کی پہلے تشخیص نہیں ہوئی تھی۔
تحقیق میں علاج کے باوجود بلڈ پریشر قابو میں نہ آنے کا مسئلہ بھی سامنے آیا۔ دوا لینے والے تقریباً نصف افراد کا بلڈ پریشر مطلوبہ حد سے زیادہ تھا۔
ہائی بلڈ پریشر اکثر واضح علامات کے بغیر رہتا ہے۔ محققین کے مطابق باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کرانے سے بروقت تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا دل کی بیماری اور فالج کا خطرہ کم کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔